مائل بہ خود کشی؟

نا تمام - ہارون الرشید

05 نومبر 2018

mael bah khud kashi ?fazl ul rehman sami ul haq imran khan

معاشرے کو صراطِ مستقیم پہ رکھنے کے لیے‘ کبھی ڈنڈے کی ضرورت بھی ہوتی ہے‘ قانون کے خوف کی؟ وہ خوف کہاں ہے؟ کپتان‘ وہ خوف کہاں ہے؟

ہمارے ساتھ مسئلہ کیا ہے کہ گاہے خود کشی کی طرف ہم لپکتے ہیں؟ سب میں نہ سہی‘ بہت سوں میں۔ ایسے لوگوں کو ہم رہنما کیسے مان لیتے ہیں‘ جو اس کے مستحق نہیں۔ ان کی وہ بات کیوں تسلیم کر تے ہیں‘ تسلیم کرنے کے جو قابل نہیں ہوتی۔ گستاخی کا ارتکاب ہالینڈ میں ہوتا ہے‘ عمارتیں ہم اپنی جلا دیتے ہیں۔

افراد کی طرح اقوام کی تقدیر بھی ان کے مزاج میں ہوتی ہے۔ معاشروں کے مزاج صدیوں میں ڈھلتے ہیں اور آسانی سے بدلتے نہیں۔ آدمی سے مطالبہ یہ ہے کہ ہیجان سے وہ نجات پائے۔ عقل کو بروئے کار لائے اور دانش مندی سے فیصلہ کرے۔ فردمیں خرابی ہو تو اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی۔ فرمایا: تم میں سے ہر ایک حکمران ہے اور ہر ایک جواب دہ۔ یہ اسؐ نے فرمایا‘ جنؐ کے بارے میں ارشاد یہ ہے : اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتے بلکہ جو کچھ ان پہ الہام کیا جاتا ہے۔

افراد کی طرح اقوام میں بھی خود کشی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ بناتے کم وہ بگاڑتے زیادہ ہیں۔ غالبؔ کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا تھا: انسانی زندگی کے سب تیور اس نے بیان کر دیئے... اور بانگِ درا کے دیباچہ نگار شیخ عبدالقادر نے لکھا تھا: غالبؔ اگر نہ ہوتے تو اقبالؔ بھی نہیں ہوتا۔ اس نے یہ کہا تھا۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں‘ جنہیں تصویر بنا آتی ہے

اس آدمی نے سر سیّد احمد خان کو بدلتی ہوئی دنیا کی خبر دی۔ دربارِ اکبری کا دانا نے ترجمہ کیا اور تقریظ کی تمنا کی تو اس نے کہا: دنیا بدل گئی‘ بھاپ سے گاڑی چلنے لگی اور آپ ابھی تک ماضی میں زندہ ہیں۔ خیال کبھی قلب پہ نازل ہوتا ہے‘ کبھی کسی ہم نفس سے عطا ہوتا ہے۔ صحبتِ سعید کی اسی لیے تاکید ہے۔ غالبؔ نہ ہوتے تو ممکن ہے سر سیّد احمد خان بھی اس راہ پر نہ ہوتے۔ شاید وہ محمڈن کالج قائم نہ ہوتا‘ بتدریج جس نے علی گڑھ یونیورسٹی کی شکل اختیار کی۔ مسلم برصغیر کو قدامت پسندی سے نجات دلانے کی کوشش کی۔ ایک سر سیّد احمد خان اور ایک قائداعظم شاید اس کے لیے کافی نہ تھے۔ ہم آج بھی ماضی میں زندہ رہنے پہ مصر ہیں۔ سائنسی اندازِ فکر سے آج بھی ہمیں کچھ علاقہ نہیں ؎

حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امّت روایات میں کھو گئی

ایک مذہبی لیڈر اور اس کے ساتھیوں نے جو کیا سو کیا۔ دوسرے مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی‘ بظاہر اس کی حریف مذہبی جماعتیں‘ اس کی ہمنوا کیسے ہو گئیں۔ سینیٹر سراج الحق، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق اس کی حمایت میں کیوں آ کھڑے ہوئے؟ اسلامی جمعیت طلبہ کیوں سڑکیں بند کرنے لگی۔ ان میں سے بعض نے سرکارؐ کا وہ فرمان ضرور سنا ہوگا‘ راستے بند کرنے کی جو ممانعت کرتا ہے۔ رازداری میں پوچھئے تو ممکن ہے کہ وہ اسے گم کردہ راہ قرار دیں۔ پھر کیوں؟ پھر کیوں؟

کیایہ عشقِ رسولؐ کی کرامت تھی کہ اپنی زندگیاں انہوں نے خطرے میں ڈال دیں؟ کیا یہ غلبے کی قدیم انسانی جبلت ہے؟ کیا یہ بلیک میلنگ کا راستہ نہیں۔ کیا وہ یہ جتلانے کے آرزومند تھے کہ انہیں اگر نظر انداز کیا جائے گا۔ ان سوالوں کے جواب مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ ادراک اور علم کی سطح سے متعلق ہے۔ اندازِ فکر کی بات ہے۔ یہ تو مگر آشکار ہے کہ ان میں سے بہت سے‘ اللہ اور اس کے رسولؐ کا نام کاروبارِ دنیا کے لئے برتنے کے خوگر ہیں۔

بہاولپور کے جلسۂ عام میں‘ جماعت اسلامی سے تحریک انصاف کا رخ کرنے والا لیڈر‘ احادیث سنا رہا تھا‘ آیات سنا رہا تھا۔ عمران خان Imran Khan نے برا سا منہ بنایا اور کہا ''مذہب کا استعمال‘‘۔ بعد ازاں اس آدمی کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے ٹکٹیں بیچیں اور لاکھوں کمائے۔ وہ اپنی پارٹی کے لبرل اور سیکولر لیڈروں سے مختلف ثابت نہ ہوا۔ اگر نماز‘ روزہ‘ تلاوت اور سیرتؐ کا مطالعہ بھی ایک آدمی کو رزقِ حرام سے نہیںر وکتا تو اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے؟ کیا رحمۃ اللعالمین کے اس ارشاد کا انطباق‘ اس پہ نہ ہوگا: بدترین لوگ وہ ہیں‘ دنیا کے لیے جو دین کو بیچ دیتے ہیں۔

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

زعم تقویٰ اور خبطِ عظمت کی کوئی حد ہے کہ اپنے سوا‘ سب کو آدمی گنہگار بلکہ جرائم پیشہ گردانے۔ اپنے اور اپنے حامیوں کے سوا۔ بغاوت کا اعلان کرے۔ ججوں اور جنرلوں کو غیر ملکیوں کا مہرہ قرار دے۔ تحقیق کے بغیر محض شک و شبہ کی بنا پر۔

ستر‘ اکہتر برس کا وہ بوڑھا زمیندار ملاقاتی کی طرف جھکا اور اس نے کہا: عمر بھر میں نے ریاضت کی‘ تصوف کے چاروں سلسلوں میں‘ خلافت پائی‘ لیکن آخر کار یہ سوچ کر سب کچھ ترک کر دیا کہ صحابہ کا سادہ سا اسلام اچھا ہے۔ عالم دین نے کہا: اصحابِ رسول ؐ رضوان اللہ اجمعین نے احتجاج اور بغاوت کا یہ انداز اختیار کیا‘ تابعینؒ اور نہ تبع تابعین نے۔ ایک دوسرے عالم دین نے یہ کہا: رزق کے لیے تم دوسروں کے محتاج ہو‘ تمہاری قمیض کہیں سے آتی ہے اور جوتی کہیں اور سے۔ رزقِ طیب کے جتنے معروف طریقے ہیں‘ زراعت‘ صنعت‘ تجارت اور ملازمت‘ ان میں سے کوئی ایک بھی تم اختیار نہیں کرتے؛ چہ جائیکہ رزق کمائو اور بانٹو‘ تم ہاتھ پھیلائے رکھتے ہو۔ کیا یہ پروردگار کا پسندیدہ راستہ ہے؟ کیا یہ اتباعِ سنت ہے۔

ان دونوں کی وہ نہیں سنیں گے۔ ان کے بعض لیڈر ان علماء سے شاید زیادہ جانتے ہیں‘ زیادہ سمجھتے ہیں۔ اس سے مگر کیا ہوتا ہے۔ آدمی کا قول ایک اور فعل دوسرا ہو تو کون اسے سمجھا سکتا ہے۔ پنجابی کا محاورہ یہ ہے: سونے والے کو جگایا جا سکتا ہے‘ جاگنے والے کو نہیں۔

غزالیؒ نے کہا تھا: علم والے خطرے میں ہیں‘ اگر خلوص سے خالی ہوں۔ خلوص والے بھی خطرے میں ہیں‘ اگر انکسار عطا نہ ہو۔ صوفیا یہ کہتے ہیں کہ علم بجائے خود سب سے بڑا حجاب ہے۔ جتنی گمرہی اہلِ علم کے طفیل پھیلی‘ اتنی جُہلا سے نہیں۔ قرآن Quran ِ کریم میں ارشاد یہ ہے:یضل بہ کثیراً و یھدی بہ کثیراً۔ بہت لوگ‘ اس سے گمراہ ہوتے اور بہت اس سے رہنمائی پاتے ہیں۔

خود بدلتے نہیں‘ قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق

اوراقبالؔ نے یہ کہا تھا:

زمن بر صوفی و ملّا سلامے

کہ پیغام خدا گفتند مارا

ولے تاویل شان درحیرت انداخت

خدا و جبرئیل و مصطفیٰ را

صوفی و ملّا کو میرا سلام۔خدا کا پیغام انہوں نے مجھ تک پہنچا دیا‘ لیکن اس کی تفسیر سے حیرت زدہ رہ گئے‘ خدا‘ جبریل اور مصطفیٰ پاکؐ۔

اچھا تو شیخوپورہ اور لاہور میں نون لیگ والے ان سے کیوں جا ملے؟ بازاری لونڈے ان سے کیوں جا ملے؟

قانون دو طرح سے نافذ ہوتا ہے۔ اس کے قلبی احترام یا سزا کے خوف سے۔ حقیقی احترام ‘ ادراک اور علم کا تقاضا کرتا ہے۔ خوف کا ہتھیار تب کام آتا ہے‘ جب ریاستی ادارے انصاف قائم کرنے کے قابل ہوں۔ اس میں تعجب کیا کہ اشتراکی روس Russia کے کارندے تھے‘ پھر ان میں سے بعض سیکولر ہوئے‘ پھر لبرل ہو گئے۔ ان میں سے بہت سے محب وطن ہیں‘ وہ بھی ہیں ‘ جنہوں نے این جی اوز بنا لیں اور مغرب کے ملازم ہو گئے۔ شہنشاہ جہانگیر نے ایک جام اور ایک کباب کے بدلے میں اپنی سلطنت نور جہاں کو سونپ دی تھی‘ انہوں نے شیطان کے ہاتھ بیچ دی۔پھر وہی یاد آتے ہیں‘ سیّد الطائقہ جنیدِ ؒبغداد۔ ازل سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

زمین پہ سرکارؐ نے بہت سی ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچیں اور ایک سیدھی لکیر۔ پھر ارشاد کیا: یہ صراط مستقیم ہے۔

معاشرے کو صراطِ مستقیم پہ رکھنے کے لیے‘ کبھی ڈنڈے کی ضرورت بھی ہوتی ہے‘ قانون کے خوف کی؟ وہ خوف کہاں ہے؟ کپتان‘ وہ خوف کہاں ہے؟

 1955