آسیہ بی بی کی بریت: اپوزیشن کی وزیراعظم کے خطاب پر تنقید، اسمبلی آنے کا مطالبہ

01 نومبر 2018

آسیہ بی بی کی بریت: اپوزیشن کی وزیراعظم کے خطاب پر تنقید، اسمبلی آنے کا مطالبہ

اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں نے سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام سے بری کیے جانے کے فیصلے کے بعد تنقید اور احتجاج کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے قوم سے خطاب کو 'پر تشدد' اور 'جارحانہ' قرار دیتے ہوئے ایوان میں آکر پالیسی بیان دینے کا مطالبہ کردیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان Pakistan نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ناکافی شواہد کی بناء پر بری کردیا تھا، جس کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج شروع ہوا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد گزشتہ روز قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا تھا کہ آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے ملک دشمن عناصر کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے لیے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں اور ریاست سے مت ٹکرائیں، ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کی جان و مال کی وحفاظت کرے گی لہٰذا ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لے'۔

وزیراعظم کی تقریر میں تشدد نظر آیا، خورشید شاہ

آج قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ Khursheed Shah نے کہا کہ کل وزیراعظم کی تقریر میں تشدد نظر آیا،اس سے امن قائم نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کونسا مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت کرےگا، اس نام پر مسلمان کٹ مرنے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو ٹارگٹ نہیں بنانا چاہتے، حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہتے، لڑائی نہیں کرنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے، اس پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور ملکی حالات پر حکومت کو تحمل کے ساتھ باتیں سننی چاہیے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے عمران خان Imran Khan کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب چینی صدر شی جن پنگ پاکستان Pakistan آرہے تھے اور آپ کنٹنیر پر چڑھے تھے، آج آپ چین China جا رہے ہیں، آپ کو پارلیمنٹ آنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کھل کر بولے، لیکن وزیراعظم ایوان میں آئیں، انہیں اس ایوان سے بھاگنا نہیں چاہیے۔

خورشید شاہ Khursheed Shah نے کہا کہ یہی بات کل جب میں سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کو کہتا تھا تو پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری اور شفقت محمود ڈیسک بجاتے تھے، میرے موقف میں تبدیلی نہیں ہے، آپ کے موقف میں آ گئی ہے۔

حکمران کا رویہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے، سعد رفیق

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے قوم سے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں اسمبلی میں آکر پالیسی بیان دینا چاہیے۔

خواجہ سعد رفیق نے عمران خان Imran Khan کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمران کا رویہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے بیانیے سے کوئی بھی باشعور آدمی اتفاق نہیں کرتا۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی سیاسی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا، لیکن جس کارڈ کو ماضی میں استعمال کیا گیا، وہی اب آپ کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔

 86