عمران خان Imran Khan حکومت چھوڑ دیں گے لیکن بلیک میل نہیں ہونگے، فواد چودھری

30 اکتوبر 2018

عمران خان حکومت چھوڑ دیں گے لیکن بلیک میل نہیں ہونگے، فواد چودھری

لاہور: (دنیا نیوز) وفاقی وزیرِ اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ عمران خان Imran Khan کسی کو این آر او نہیں دیں گے، احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے گا۔

فواد چودھری نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے معاملے میں اپوزیشن کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح ان کیخلاف چلنے والے مقدمات روک دیے جائیں، ان کے مقدمات اگر روک دیں تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی، یہ ساری کوششیں صرف این آر او کے حصول کے لیے ہو رہی ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دی فرنٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں بھی یہی کہتے تھے این آر او نہیں لیں گے، پھر سابق صدر پرویز مشرف کیساتھ معاہدہ کر کے سعودی عرب Saudi Arabia چلے گئے تھے لیکن اب وہاں بھی شریف خاندان کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نظریے اور لیڈرشپ دونوں سے محروم ہے، وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو سب جانتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے، وہ حکومت چھوڑ دیں گے لیکن بلیک میل نہیں ہونگے اور کسی کو کرپشن نہیں کرنے دیں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن لوگوں کو بیوقوف بنانا چاہتی ہے، جنہوں نے گاجریں کھائیں، ان کے پیٹ میں مروڑ تو اٹھیں گے، اتنا قرضہ کدھر گیا؟ جب حساب لیں تو شور مچاتے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ اگر جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور بابر اعوان کیخلاف مقدمات تھے تو سابق حکومت کیا دس سال سو رہی تھی؟ کیا ان کی عبدالعلیم خان یا باقی لوگوں کیساتھ ڈیل ہوئی تھی؟

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد Islamabad کے تبادلے کا اعظم سواتی واقعے سے تعلق نہیں بلکہ یہ معاملہ ایک ہفتہ پہلے شروع ہو چکا تھا اور نئے آئی جی کیلئے پہلے ہی سے انٹرویوز ہو چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس وزیر داخلہ کا عہدہ بھی ہے اور آئی جی کے تبادلے کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی افسر کے پاس منتخب نمائندے کا فون نہ سننے کا اختیار نہیں ہے، اگر اپوزیشن کا نمائندہ بھی افسران کو فون کرے تو ان کو جواب دینا چاہیے، اگر بیورو کریسی نے فون ہی نہیں سننا تو معاملات کیسے چلیں گے؟

ملکی کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان Pakistan معاشی بحران کا شکار ہوا لیکن

سٹاک مارکیٹ کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ سیاست بہتے دریا کی طرح اور عالمی سیاست بھی اسی طرح ہوتی ہے، اگلے پندرہ دنوں کے بعد پاکستان Pakistan کی صورتحال مزید بہتر ہو گی۔

 35