وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا کرپٹ عناصر کو نہ چھوڑنے کا اعلان

29 اکتوبر 2018

وزیراعظم عمران خان کا کرپٹ عناصر کو نہ چھوڑنے کا اعلان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا ہے کہ یہ لوگ جمہوریت خطرے کا رونا روئیں گے اور پبلک میں نکل کر کہیں گے کہ مجھے کیوں نکالا؟

وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا عوامی شکایات کے ازالے کیلئے پاکستان Pakistan سٹیزن پورٹل کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو اس نظام سے خوش ہونگے کہ کرپشن ختم ہو جائے گی، ان کے لئے یہ اچھا ہے لیکن جنہیں اس نظام سے مشکلات پیش آئیں گی کہ ان کا کھانا پینا بند ہو جائے گا، وہ پھر سڑکوں پر نکل کر کہیں گے مجھے کیوں نکالا؟

وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تو ہم نے کیا ہی کچھ نہیں، یہ تو پرانے کیسز ہیں، ہم جب کچھ کریں گے تو جمہوریت خطرے میں آنے کی شکایت آنے والی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب Saudi Arabia سے پاکستان Pakistan کو جو ریلیف پیکج ملا اس پر کوئی شرائط نہیں ہیں۔

پاکستان Pakistan سٹیزن پورٹل کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا کہنا تھا کہ درحقیت یہ سسٹم ای گورننس سسٹم ہے، اس نظام کے تحت حکومت اپنے آپ کو فورس کر رہی ہے کہ شہری کو آسانی فراہم کی جائے۔ بطور وزیراعظم میرے پاس یہ پتا چلانے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ کہاں کیا شکایت ہے؟ مجھ تک جو رپورٹ پہنچتی وہ محکمے کا موقف ہوتا۔

عمران خان Imran Khan نے کہا کہ یہ نظام ای گورننس ہے جو پاکستان Pakistan میں پہلی مرتبہ ہو گا، اس طرح کا نظام پہلے کبھی پاکستان Pakistan میں متعارف نہیں کرایا گیا، سسٹم سے یہ بھی پتا چل سکتا ہے کہ کس علاقے سے زیادہ شکایات آ رہی ہیں، یہ نظام خیبر پختونخوا میں چل چکا ہے، سسٹم تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے دفاتر سے منسلک ہے۔ پاکستان Pakistan سٹیزن پورٹل کے افتتاح کے بعد سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کل موبائل فون پر دو تین بٹن سے سب کچھ ہو جاتا ہے، پورٹل پر ٹول فری نمبر سے مفت کال اور حکومت سے متعلق جو بھی شکایات ہیں وہ اس پورٹل پر کی جا سکتی ہیں جبکہ عدلیہ کے حوالے سے آنیوالی شکایات چیف جسٹس کو بھجوائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہماری حکومت نہیں، اگر وہاں سے جواب نہیں آئے گا تو ہم کہہ دیں گے کہ صوبہ جواب نہیں دے رہا، وزیراعظم پورے پاکستان Pakistan کا ہوتا ہے، ہمیں جس صوبے سے شکایت آئے گی اسے وفاق سے اپروچ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اتنا پوٹینشل ہے کہ ہمیں دنیا سے قرض نہیں مانگنا پڑے گا، آئندہ آنیوالے وزیراعظم کو دنیا میں جا کر قرضے نہیں مانگنے پڑیں گے، وزیراعظم جب اپنا کمیشن نہیں مانے گا تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان Pakistan میں دنیا کو قرضے دینے کا پوٹیشنل موجود ہے، صرف گورننس کا نظام بہتر کرنا ہوگا تاہم ابھی ہمیں جو قرضوں کا پہاڑ ملا ہے اس سے نمٹنے کیلئے سرمایہ کاری لانا ہوگی، بیرونی سرکایہ کاری اس وقت آئے گی جب رکاوٹیں دور ہونگی

وزیراعظم نے کہا کہ پرانے پاکستان Pakistan میں غلامانہ مائنڈ سیٹ تھا، سرکاری دفاتر میں بااثر افراد اور پیسے والے اپنا کام نکلوا لیتے تھے، سرکاری دفاتر میں کمزور طبقے کے جائز کام بھی نہیں ہوتے تھے، پیسے والے کے ناجائز کام بھی ہو جاتے تھے، لیکن اب کوئی بھی پاکستانی اب سرکاری دفاتر کیخلاف شکایت کر سکتا ہے، ہمیں عوامی رائے کے ذریعے پالیسی سازی میں آسانی ہوگی۔

عمران خان Imran Khan نے کہا کہ پاکستان Pakistan میں تبدیلی تب آئی گی جب ہر شہری ذمہ دار شہری بنے گا، حکومتی دفاتر میں بیٹھے لوگوں کو احساس ہوگا کہ ہم عوام کے پیسے سے تنخواہ لے رہے ہیں، سیٹیزن پورٹل سے سزا اور جزا کے نظام میں بہتری آئے گی، نظام کے تحت پاکستان Pakistan کے کسی بھی حصے سے عام آدمی شکایت کر سکے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان Pakistan سٹیزن پورٹل کے قیام کیلئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے جو وزیراعظم آفس میں قائم کیا گیا ہے۔ پورٹل سے عوام براہ راست شکایات وتجاویز وزیراعظم آفس کو بھجوا سکیں گے۔

عوامی شکایات کے ازالے اور تجاویز پر عملدرآمد کی نگرانی وزیراعظم آفس میں ہوگی، شہری موبائل فونز میں مخصوص اپیلی کشن سے حکومتی اداروں تک آواز پہنچا سکیں گے۔

 82