لو بلڈ پریشر کی ’’برکات‘‘

روزن دیوار سے - عطاءالحق قاسمی

29 اکتوبر 2018

lo blood pressure ki' ' Barkaat ' '

للہ تعالیٰ نے دنیا میں کیسی کیسی نعمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک لو بلڈ پریشر بھی ہے میں خود بھی اس ’’نعمت‘‘ سے بہرہ ور رہا ہوں ایک طویل عرصے تک میرا بلڈ پریشر سو سے اوپر نہیں گیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ڈاکٹروں نے تنگ آ کر اسے نارمل قرار دیدیا۔

لو بلڈ پریشر کو میں نے اگر نعمتوں میں شمار کیا ہے تو ایسے ہی نہیں کیا بلکہ میرے پاس اس کیلئے واضح دلائل ہیں مثلاً یہ وہ مرض ہے جس میں مریض کے کھانے پینے پر نہ صرف یہ کہ کوئی پابندی نہیں بلکہ مرغ مسلم، کڑاہی گوشت، یخنی پلائو، کباب، نہاری، پائے اور اس نوع کی دوسری چیزیں مریض کیلئے خاصی مفید سمجھی جاتی ہیں آپ یوں سمجھئے کہ ایک لو بلڈ پریشر کے مریض کو اگر دن میں دوا کی تین خوراکیں لینا ہیں تو ان میں سے صبح کی خوراک نہاری یا پائے، دوپہر کی خوراک پلائو کباب اور شام کی خوراک مرغ مسلم یا کڑاہی گوشت ہو سکتی ہے۔ ؎

یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

لو بلڈ پریشر کا مریض نمک زیادہ سے زیادہ استعمال کرتا ہے اور اسے حلال کم سے کم کرتا ہے۔ کیونکہ وہ حسن اتفاق سے سست الوجود بھی ہے یعنی اگر وہ نمک پوری طرح حلال کرنا چاہے تو جسمانی طور پر اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ لو بلڈ پریشر کے مقابلے میں مَیں نے ہائی بلڈ پریشر والوں کو دیکھا ہے کہ اگر انہیں کسی بات پر غصہ آ جائے تو ان کا بلڈ پریشر مزید ہائی ہو جاتا ہے جبکہ لو بلڈ پریشر والوں کے لئے غصہ بھی مفید ہے کہ اسی بہانے بلڈ پریشر کچھ تو ہائی ہوتا ہے اور ہاں لو بلڈ پریشر والوں کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اس کا فائدہ تو اس شاعر سے پوچھیں جس نے؎

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

والا شعر کہا تھا۔ علاوہ ازیں لو بلڈ پریشر والے شخص کے جسم میں چونکہ خون کی سرکولیشن پوری طرح نہیں ہوتی اور سر اور آنکھیں بھی جسم کا حصہ ہیں لہٰذا اس سے یہ استخراج کیا جا سکتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں خون نہیں اترتا، ذرا مناسب لفظوں میں یہ بات اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں جھوٹی غیرت نہیں ہوتی کہ یونہی بات بات پر آنکھوں میں خون اُتر آئے۔ لو بلڈ پریشر والے پر ہر وقت غنودگی کی کیفیت بھی طاری رہتی ہے اور یوں وہ بغیر کسی مہلک نشے کے؎

بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

والی کیفیت والے مزے لوٹتا ہے اسی طرح وہ یکسوئی یعنی کنسنٹریشن کے عذاب سے بھی محفوظ ہوتا ہے یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر کام جان جوکھوں میں ڈال لے اور یوں ایک ہی دھن میں مگن رہے بلکہ اس کے برعکس یہ بندئہ آزاد ضروری سے ضروری کام سے دامن جھٹک کر کسی دیوار کے سائے تلے جا کر بیٹھ سکتا ہے۔؎

ہو گا کسی دیوار کے سائے کے تلےمیرؔ

کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

اس شعر اور اس کے نوع کے دوسرے شعروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ میر تقی میرؔ بھی لو بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ تاہم میرے نزدیک لو بلڈ پریشر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر خون دینے کا وقت آئے تو لو بلڈ پریشر والوں کے پاس خون نہ دینے کا طبی جواز ہوتا ہے چنانچہ ان دودھ پینے والے عاشقوں کو خون دینے کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے۔ بلڈ پریشر کی افادیت پوری طرح واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قدرے تفصیل سے بات کی جائے۔ مثلاً میں نے کالم کے آغاز میں بتایا کہ یہ لوگ جو جی چاہے ڈٹ کر کھا سکتے ہیں اور یوں ان کی پوری زندگی ؎

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

کی عملی تفسیر بن جاتی ہے یہ لوگ ہمارے آئیڈیل ہیں کیونکہ؎

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

والا نظریہ انہی لوگوں کی وجہ سے باطل ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح نمک کھا کر پوری محنت سے اسے حلال کرنے سے اگرچہ لوگوں میں واہ واہ ہو جاتی ہے مگر اس زندگی میں کامیاب میں نے انہی کو دیکھا ہے جو نمک ہر حکومت کا کھاتے ہیں مگر حلال کسی کا نہیں کرتے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی کامیابی کا اندازہ لگانا ہو تو قیام پاکستان Pakistan سے لے کر اب تک وجود میں آنے والی حکومتوں کے ارباب اختیار پر نظر ڈالئے ان کی ایک معقول تعداد سابقہ حکومتوں کے نمک خوروں پر مشتمل ہو گی۔ ایک دفعہ ایک وزیر خزانہ صاحب کا میں نے بیان پڑھا کہ سابقہ حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک اس حال کو پہنچا ہے حالانکہ سابقہ تمام حکومتوں کی معاشی پالیسیاں خود انہی وزیر خزانہ صاحب نے بنائی تھیں اور یہ جو بلڈ پریشر والوں کو غصہ کم آتا ہے یا اصولاً کم آنا چاہئے تو اس سے مفید چیز تو اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے جن کو اجڑتا دیکھیں اور اس پر ذرا بھی غصہ نہ آئے بلکہ تباہی کے ہی فوائد سمیٹنے میں لگے رہیں اور جہاں تک یادداشت کی کمزوری کا تعلق ہے اس کا فائدہ ہم سے کیا پوچھتے ہیں، ان رہزنوں سے پوچھیں جن کی ساری رہزنی عوام کی کمزور یاداشت پر قائم و دائم ہے۔ بلکہ کمزور یاداشت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ بھی کسی کو یاد نہیں رہا یہ سب کچھ ہمیں یادرہ جاتا تو آج ہم پاکستانی بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے کی بجائےپاکستان Pakistan کو ایک مضبوط قلعہ بنانے میں لگے ہوتے اور یوں اس چند روزہ زندگی کا مزا کرکرا کر بیٹھتے۔

 86