رشتے قائم رہنے چاہئیں!

کٹہرا - خالد مسعود خان

25 اکتوبر 2018

rishte qaim rehne chahiye !

میں کل ایک کاغذ تلاش کر رہا تھا اور کاغذ تھا کہ ملنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس تلاش کا سلسلہ پھیلتے پھیلتے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کے دراز تک دراز ہوگیا۔ خیر کاغذ نے کیا ملنا تھا وہاں ایک متروک آڈیو کیسٹ کا پلاسٹک کور نظر آگیا۔ اس پلاسٹک کور میں چھوٹے سائز کی پچیس تیس تصویریں ٹھنسی ہوئی تھیں۔ پرانی، بلیک اینڈ وائٹ تصویریں۔ دریائے چناب کے کنارے مرحوم بھائی طارق کے ساتھ۔ مرحومہ بہن کے ساتھ پرانے گھر کے صحن میں کھینچی گئی تصویریں۔ مسلم فوٹو سٹوڈیو (اللہ جانے اب یہ سٹوڈیو موجود ہے یا نہیں) بوہڑ گیٹ کی بھائی طارق کے ساتھ فوٹو اور چک 325 ج ب دُلم میں کھینچی ہوئی تصویریں۔ یہ ساری تصویریں کم و بیش پچاس سال پرانی ہیں۔ یعنی میں ان تصویروں میں آٹھ نو سال کا ہوں۔ کسی تصویر میں نیکر پہن رکھی ہے اور کسی میں لکیر دار پاجامہ۔ اب ایسے پاجامے صرف نائٹ سوٹوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ کسی کو بازار میں پہنے دیکھے عشرے گزر چکے ہیں۔ تب ہم یہ پاجامے اپنے بہترین کپڑوں کی صورت دوسرے شہروں میں جاتے ہوئے بیگ میں رکھ کر لے جایا کرتے تھے۔ چک 325 ج ب دُلم میں کھینچی گئی اکثر تصاویر میں، میں نے اور بھائی طارق مرحوم نے یہی لکیر دار پاجامے جنہیں تب ''پھٹوں والے‘‘ پاجامے کہا جاتا تھا پہنے ہوئے ہیں۔

کیا زمانہ تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں کبھی کبھار دُلم چلے جاتے تھے اور دُلم میں بجلی نہیں تھی۔ معاملہ لوڈشیڈنگ کا نہیں تھا بلکہ بجلی سرے سے تھی ہی نہیں۔ کچا لیکن نہایت صاف ستھرا، ہمہ وقت تازہ لپائی شدہ گھر۔ اصول کے مطابق بنا ہوا۔ یعنی سارا سال چلنے والی ''دکھن‘‘ ہوا کی سمت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کھڑکیوں والا گھر۔ دوپہر کو ایسی ہوا چلتی کہ کمرے میں پسینہ ساتھ ساتھ خشک ہوتا رہتا۔ کبھی کبھار ہاتھ والا پنکھا جھلنا پڑ جاتا۔ ایک قطار میں بنے ہوئے تین کمرے۔ پہلا کمرہ سب سے زیادہ روشن اور ہوا دار تھا۔ دوسرا کمرہ بس گزارہ تھا۔ تیسرا کمرہ سب سے بڑا۔ ہمارا دل اس کمرے میں زیادہ لگتا تھا۔ ایک کونے میں اوپر تلے رنگیں پایوں والے پلنگ تھے۔ ہم ان دو منزلہ پلنگوں پر کودتے رہتے تھے۔ اس کمرے کے ساتھ باہر ایک کھڑکی تھی اور اس کے اندر ایک سرنگ نما راستہ جو گھر سے متصل مسجد میں کھلتا تھا۔ وہاں مسجد کی سیڑھیاں تھیں۔ ہم اس راستے سے گزر کر مسجد کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلے جاتے۔ اوپر مسجد کے ہال میں داخلے والے دروازوں کی دیوارکے اوپر چھوٹے چھوٹے مینار تھے۔ ان میناروں کے مخروطی گنبدوں پر چینی کے ٹوٹے ہوئے پیالوں کے ٹکڑوں کو سیمنٹ سے لگا کر خوبصورتی پیدا کی گئی تھی۔ مسجد میں لائوڈ سپیکر تھا جو بیٹری سے چلتا تھا۔

دُلم ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر سے قریب تین چار میل کے فاصلے پر جھنگ روڈ پر تھا۔ ہم سٹیشن پر اتر کر تانگے پر بیٹھتے اور پندرہ بیس منٹ میں دُلم پہنچ جاتے۔ یہاں مختار احسن بھائی کا گھر تھا۔ مختار احسن ماں جی کے فرسٹ کزن کا بیٹا تھا یعنی میرا ماموں زاد، لیکن ہم نے اپنے ماموں کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ مختار احسن کے بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے۔ مختار احسن کا بڑا بھائی خالد تھا لیکن وہ گائوں میں نہیں رہتا تھا۔ وہ لاہور نوکری کرتا تھا۔ اس سے ہماری پہلی ملاقات مختار احسن کی شادی پر ہوئی۔ یہ شادی بھی بڑی یادگار تقریب تھی۔ ہم شادی سے قریب ڈیڑھ دو ہفتے پہلے دُلم پہنچ گئے اور شادی کے ایک ہفتہ بعد واپس ملتان آئے۔ وہاں سارا دن کھیتوں میں، ساتھ والے درختوں کے ذخیرے میں اور گائوں کے ایک سرے پر درختوں کے جھنڈ میں بنی چوپال کے اردگرد گزر جاتا۔ گرمی لگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ کھیتوں سے جو چاہتے توڑ لیتے۔ کسی کی ڈانٹ ڈپٹ تو ایک طرف رہی کوئی منع تک نہ کرتا تھا۔ سارے گائوں کو پتا تھا کہ یہ مہمان ''ملتان شریف‘‘ سے آئے ہیں۔ روزانہ چنے کے کھیتوں میں سے آٹھ دس کلو سبز چنے (چھولیا) جنہیں ہم ''ڈڈلے‘‘ کہتے تھے توڑ لاتے۔ مختاراحسن کی امی اسے تنور میں بھون دیتیں اور ہم کھا جاتے۔ تب پیٹ درد بھی نہیں ہوتا تھا۔

مختار احسن سال میں دو تین بار ہمارے گھر آتا تھا۔ بڑی رونق رہتی۔ مختار احسن کا قد چھ فٹ سے زیادہ تھا اور خوب صحتمند۔ ہم ایک بار ملتان ریلوے سٹیشن پر ٹوبہ ٹیک سنگھ جانے کے لئے کھڑے تھے۔ ٹرین تھوڑی لیٹ تھی۔ گرمی میں مختار احسن نے وہاں کھڑی ریڑھی والے سے لسی پینی شروع کر دی۔ سات بڑے گلاس پینے کے بعد بدمزہ سا ہو کر کہنے لگا: بس کر اور نہ بنا، ٹکے کی لسی نہیں ہے‘ میں ٹوبے جا کر پی لوں گا۔ ہم سکول سے کالج چلے گئے۔ گائوں جانا پہلے کم ہوا پھر تقریباً بالکل ہی ختم ہوگیا۔ بھائی مختار احسن بھی سال میں دو چار بار آنے کی بجائے دو سال میں ایک آدھ بار آتے۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ وہ تھوڑا تھوڑا عرصہ ہمارے پاس ملتان رہیں۔ اسی دوران کسی بات پر مختار احسن بھائی میری بہن سے ناراض ہوگئے اور اپنی چھوٹی بیٹی کو لے کر واپس دُلم چلے گئے۔ مجھے اب یاد نہیں لیکن بات نہ صرف یہ کہ بڑی معمولی سی تھی بلکہ زیادہ تر غلط فہمی پر مبنی تھی۔ مگر سدا کا خوش باش اور کھلے دل والا مختار احسن ایسا ناراض ہوا کہ پھر پلٹ کر نہ آیا۔

ڈیڑھ عشرہ ہوا میں اپنی اہلیہ کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن کے پاس جھنگ گیا۔ تب کومل، سارہ اور انعم بھی ہمارے ساتھ تھیں۔ واپسی پر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ بھائی جان احسن کے پاس چلتے ہیں۔ ہم انہیں بھائی جان احسن ہی کہتے تھے۔ بھائی احسن کی دونوں بیٹیوں کے میری اہلیہ سے تعلقات نہایت ہی خوشگوار بلکہ شاندار تھے۔ میری اہلیہ کہنے لگی: مجھے خود بھائی بہت یاد آتے ہیں، پتا نہیں کیوں ناراض ہوگئے‘ چلیں ان کو چل کر مناتے ہیں، وہ تو اتنے اچھے ہیں کہ ایک منٹ میں مان جائیں گے۔ میں نے گاڑی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طرف موڑ لی۔ ٹوبہ سے چند کلو میٹر پہلے دُلم تھا۔ میں نے گاڑی گھر کے دروازے پر روکی اور بچوں سمیت گھر میں داخل ہوگیا۔ سامنے بھابھی بیٹھی تھیں۔ ساتھ احسن بھائی کی امی تھیں۔ احسن بھائی فیصل آباد گئے ہوئے تھے۔ سب بڑے تپاک سے ملے۔ بھابھی اور ممانی میری اہلیہ کو پہلی بار ملیں اور کہنے لگیں کہ ہماری دونوں بیٹیاں آپ کی بڑی تعریف کرتی تھیں۔ ہم دو تین گھنٹے وہاں رہے لیکن احسن بھائی فیصل آباد سے واپس نہ آئے۔

پھر خدا جانے کیا ہوا؟ میں اسے اپنی کوتاہی، سستی اور نالائقی کہوں گا کہ برسوں میں نے بھائی احسن سے رابطہ نہ کیا۔ دو سال پہلے اپنے ایک عزیز دوست قادر کے ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گزرا تو کہا کہ گاڑی دُلم کی موڑلی جائے۔ سارا گائوں بدل چکا تھا۔ کوئی کچا گھر موجود نہ تھا۔ مسجد کے مینار بہت اونچے ہوچکے تھے اور ان پر چینی کے ٹوٹے ہوئے پیالوں کے ٹکڑے بھی نہیں تھے۔ گھر کادروازہ کھٹکھٹانے لگا کہ ایک لڑکے نے پوچھا: کسے ملنا ہے؟ میں نے کہا: مختار احسن کو۔ وہ کہنے لگا: وہ تو سال ہوا فوت ہوچکے ہیں۔ میں نے پوچھا: بھائی خالد؟ وہ بولا: دو تین سال ہوئے وہ گزر گئے تھے۔ میں نے کہا: ان کی امی؟ لڑکا بولا: وہ بھی فوت ہوچکی ہیں۔ میں نے کہا: ان کا بیٹا؟ وہ کہنے لگا: وہ فیصل آباد گیا ہے۔ وہ کہنے لگا: میں مختار احسن کا ماموں زاد ہوں آپ کون ہیں؟ میں کیا جواب دیتا؟۔میں نے کہا :میں ایک انتہائی نالائق شخص ہوں۔ اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا۔ میں گاڑی میں بیٹھا اور لاہور روانہ ہوگیا۔ مجھ میں ہمت ہی نہ تھی کہ گھر جا کر بھابھی کو ملتا۔ کس منہ سے ملتا؟

کچھ عرصہ پہلے اس سڑک سے گزرا تو بائیں طرف دُلم پر نظر کرنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔ دائیں طرف ایک شاندار سکول تھا۔ بیرٹ ہوڈسن انٹرنیشنل سکول۔ دل میں ملال، شرمندگی، افسوس اور تاسف کے سوا کچھ نہ تھا۔ رشتے قائم رہنے چاہئیں۔ غلطیوں سے درگزر کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہئے اور اس میں پہل کرنی چاہئے۔ اور ہاں یہ سب کام جلد کرنے چاہئیں۔ اس سے پہلے دوسرا یا آپ خود رخصت ہو جائیں۔ سب کام زندگی میں ہی کرلینے چاہئیں اور فوراً ۔ زندگی بڑی بے اعتبار چیز ہے کسی وقت بھی آپ سے انگلی چھڑوا سکتی ہے۔ میں نے تو دیر کر دی۔ اگر آپ کا کوئی مختار احسن ہے تو آپ دیر نہ کریں۔ ورنہ باقی صرف اور صرف ملال ہوگا۔ شرمندگی ہوگی۔ افسوس ہوگا اور تاسف۔ یہ کام آج ہی کرلیں تو بہتر ہے۔

 228