گل ِ نوخیز کے شہر میں

روزن دیوار سے - عطاءالحق قاسمی

24 اکتوبر 2018

Gul cotesbach nokhaiz ke shehar mein

پہلی سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے واقعی نہیں معلوم تھا کہ ملتان کے لوگ گل نو خیز اختر سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ صرف ملتان ہی کیا اب تو جہاں جہاں اردو پڑھی جاتی ہے وہاں نوخیز کی قہقہہ بار تحریروں کا ذکر ہوتا ہے۔ دوسری سچی بات یہ ہے کہ میرے لئے تقریبات میں جانا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔ خصوصاً ایسی تقریبات میں جہاں لمبا سفر ہو یا سیڑھیاں چڑھنا پڑیں۔ گھٹنوں کی تکلیف کے باعث کئی دفعہ مجھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے میں سیڑھیاں اتر رہا ہوں لہٰذا منتظمین سے خود ہی معذرت کرلیتا ہوں۔ نوخیز کے اعزاز میں ملتان ٹی ہائوس، پاکستان Pakistan رائٹرز کونسل اور بزم احباب نے تقریب سجائی تو نوخیز کا اصرار تھا کہ میں تقریب کی صدارت کروں۔ یہاں وہی دو اہم مسائل درپیش تھے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، یعنی لگ بھگ 6گھنٹے کا مسلسل سفر اور ملتان ٹی ہائوس کے ہال کی بیس تیس سیڑھیاں، لیکن انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ نوخیز نہ صرف مجھے اپنے بیٹوں کی طرح عزیز ہے بلکہ مزاح کے میدان میں اس کی انتھک محنت کا سفر بھی میرے سامنے ہے۔ اس نے کبھی لاہور میں اپنے جھنڈے گاڑنے کی کوشش نہیں کی بلکہ خاموشی سے تخلیق پر توجہ دی اور پوری توجہ سے مسکراہٹوں کے نئے انداز دریافت کئے۔ نتیجتاً آج وہ صف اوّل کے نوجوان مزاح نگاروں کی صف میں کھڑا ہے۔ خالص مزاح لکھنا بل فائٹنگ کے مترادف ہے۔ ہر کالم میں چوکنا رہتا پڑتا ہے، دائیں بائیں کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور تھکے بغیر کامیابی سے ہمکنار ہونا ضروری ہے، ورنہ واپسی اکثر خون میں لت پت ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں زندہ لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا رواج چونکہ کم کم ہے لہٰذا کئی ادیبوں، شاعروں کو اپنا آپ منوانے کے لئے موت کا سہارا لینا پڑا۔ حسن عباسی کا شعر ہے؎

وہ کر نہیں رہا تھا مری بات کا یقین

پھر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے

گل نوخیز خوش قسمت ہے کہ اسے اس کی زندگی میں ہی نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ ایک بھرپور تقریب میں شاندار خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یہ سرائیکی خطہ ہمیشہ سے اردو ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں سے جو تحریر اٹھی اس نے ہمیشہ اپنا اثر چھوڑا۔ اسلم انصاری ، ارشد ملتانی، حسین سحر، اقبال ارشد، اصغر شاہیا، ڈاکٹر عرش صدیقی، عاصی کرنالی، خالد سعید، خالد مسعود، نجیب جمال، نسیم شاہد، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر محمد امین، ممتاز اطہر، نوشاد قاصر، مرتضیٰ اشعر، تحسین غنی، نواش علی ندیم، نوشی گیلانی، خادم رزمی، شاکر شجاع آبادی، حیدرگردیزی، بیدل حیدری، انور جمال، اطہر ناسک، شفیق آصف، اصغر ندیم سید، طاہر تونسوی، رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، حافظ صفوان، ناصر بشیر، اختر شمار، سجاد جہانیہ، سلیم ناز، خواجہ مظہر نواز صدیقی، عامر سہیل، طارق اسد، عظیم حیدر سید، ڈاکٹر قمر بخاری، مہز سحر اور وہ بہت سے نام جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہے، اس خطے کی شان اور اردو ادب کا مان ہیں۔ ان میں سے کئی اب دوسرے شہروں میں مکین ہوچکے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کا دل آج بھی ملتان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ملتان کی تقریب میں شرکت سے قبل نوخیز کو ایک عجیب سی پریشانی لاحق تھی کہ احباب مجھ پر قصیدے پڑھیں گے تو میں کیسے سن پائوں گا۔ اس کی پریشانی کی وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ اس نے اپنی تعریف کے جواب میں فیس بک پر بھی کبھی کسی کمنٹ کا جواب نہیں دیا۔ میں نے اس کی پریشانی سن کر پیشکش کی کہ اگر اسے اپنی تعریف پسند نہیں تو میں تقریب میں اس کے خلاف ڈیڑھ گھنٹے کی چارج شیٹ پڑھ دیتا ہوں۔ یہ سنتے ہی نوخیز نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور اپنے الفاظ واپس لے لئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی جینوئن ادیب کے لئے تعریف اس کا حق ہے اور جب معاملہ تقریب کا ہو تو اسے تنقید میں بدلنا ویسے بھی جائز نہیں۔ نوخیز کے اعزاز میں تقریب کے کارڈ پر ’’فخر ملتان‘‘ کے الفاظ لکھے گئے تھے۔ ہمارے دوست اور سینئر کالم نگار رئوف طاہر کا شرارتی اعتراض تھا کہ ہم تو نوخیز کو فخر پاکستان Pakistan سمجھتے رہے لیکن وہ فخر ملتان نکلے۔ اصل میں ملتان کے لئے نوخیز اس لئے قابل فخرہے کیونکہ اس کا بنیادی تعلق ملتان سے ہے اور پاکستان Pakistan کیلئے اس لئے کیونکہ اس کا تعلق اردو ادب سے ہے جس کی کوئی سرحد نہیں۔

تقریب میں پنجابی کے معروف لکھاری زاہد حسن بھی موجود تھے جنہیں اہالیان ملتان نے خاص طور پر ا سٹیج پر رونق افروز کیا۔ زاہد حسن بلاشبہ ایک کامیاب ادیب ہیں جن کی پنجابی ادب کے لئے ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ لاہور سے اس تقریب کے لئے میرے ساتھ ناصر محمود ملک، یاسر پیرزادہ اور فرخ شہباز ساتھ گئے تھے۔ ناصر محمود ملک مزاح برادری کا ایک اہم حصہ ہیں، برجستہ جملے کہتے ہیں اور اتنی باریکی سے جملہ کستے ہیں کہ بعض اوقات سننے والا اسے اپنی تعریف سمجھنے لگتا ہے۔ یہ بہت جلد مزاح کا ایک اہم ترین نام بننے والے ہیں۔ راستے میں ہم بطور خاص جگہ جگہ ڈرائیور ہوٹلز پر چائے پیتے آئے۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ یہ عیاشی ہائی وے کے علاوہ کہیں میسر نہیں۔ ملتان ٹی ہائوس کی خوبصورت ترین عمارت دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ سجاد جہانیہ، شاکر حسین شاکر اور رضی الدین رضی سمیت دیگر احباب کی محبت نے یہ احساس ہی نہ ہونے دیا کہ ہم لوگ لاہور سے ساڑھے تین سو کلو میٹر دور موجود ہیں۔ اس تقریب میں پاکستان Pakistan رائٹرز کونسل کے مرزا محمد یاسین اور ا لطاف احمد سمیت ان کی ٹیم کے ارکان کی محنت بھی واضح نظر آرہی تھی۔ یہ نوجوان پورے عزم کے ساتھ تقریبات منعقد کرتے ہیں اور اردو ادب کے متوالوں کے لئے تسکین کا سامان کئے رکھتے ہیں۔ نوخیز کے پرانے کلاس فیلوز بھی موجود تھے جن میں حسن احمد اور رانا ممتاز رسول نمایاں رہے۔ نوخیز نے مجھے بتایا کہ زمانہ طالبعلمی میں جب دوستوں کی اکثریت خالی جیب لئے پھرتی تھی تب بھی رانا ممتاز رسول اپنے پیسوں سے ان کے لئے سموسوں کا انتظام کیا کرتا تھا۔ یہ محبت آج بھی نظر آئی۔ رانا صاحب کی طرف سے نوخیز کی تقریب کے شرکاء کے لئے مقامی ریسٹورنٹ میں عشائیہ کا اہتمام تھا لیکن چونکہ ہمیں واپس لاہور پہنچنا تھا اس لئے بصد معذرت واپسی کا قصد کیا۔

نوجوان لکھاری کی اپنے شہر میں ایسی پذیرائی دیکھ کر میرا دل اب تک خوشی سے سرشار ہے۔ نوخیز جب مائیک پر آیا تو اس نے تقریب میں موجود اپنی ہمشیرہ کا خاص طور پر ذکر کیا جو بچپن میں اسے کہانیاں پڑھ کر سنایا کرتی تھی۔ اس نے ا سٹیج پر اپنے بڑے بیٹے ثمریز کو بھی بلایا اور حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس لئے اپنے بیٹے کو اسٹیج پر بلایا ہے تاکہ یہ دیکھ سکے کہ میرا ملتان اپنے لوگوں سے کتنا پیار کرتا ہے۔ یاسر پیرزادہ جب نوخیز کے بارے میں گفتگو کررہے تھے تو انہوں نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ نوخیز اپنی اہلیہ سے جب بھی بات کرتا ہے نہایت عزت و احترام ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ تب پہلی بار سمجھ میں آیا کہ ’’مجبوری کا نام شکریہ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے۔ ہم سب کی اکثریت گھر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لئے اسی فارمولے پر عمل کرتی ہے ۔۔۔۔اور کرنا بھی چاہئے۔

 107