قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم

23 اکتوبر 2018

قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم

ریاض: سعودی عرب Saudi Arabia میں عالمی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا ہے کہ ہم قرضوں کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور دوست ملکوں سے رابطے کر رہے ہیں، ہم جو بھی اصلاحات کریں گے، اس کا اثر آنے والے دنوں پر پڑے گا۔

'مستقبل کے سرمایہ کاری اقدامات' کے عنوان سے آج سے شروع ہونے والی اس تین روزہ کانفرنس میں 90 ممالک سے 3 ہزار 800 مندوب شریک ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے قرض کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔

عمران خان Imran Khan کا کہنا تھا کہ ہمیں اقتدار میں آئے 60 دن ہوئے ہیں، ہمیں اپنی برآمدات بڑھانی ہیں تاکہ زرمبادلہ بڑھا یاجاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ آنے والے 3 سے 6 ماہ پاکستان Pakistan کے لیے سخت ہیں، بدعنوان لوگوں کے بڑی پوزیشن پر ہونے کے باعث ادارے تباہ ہوئے، لیکن ہم برآمدکنندگان کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری جماعت اور حکومت کا مرکزی ایجنڈا کرپشن پر قابو پانا ہے، جو ملکی اداروں کو تباہ کرتی ہے اور زیادہ تر اشرافیہ بدعنوانی میں ملوث ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستان Pakistan میں کاروبار کے مواقع پیدا کیے جائیں، ہم سرمایہ کاری کے لیے مواقع بڑھا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کی سہولت ملے۔

عمران خان Imran Khan نے سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستان Pakistan کی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کو بھی سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا ہے۔

'نیا پاکستان Pakistan ہاؤسنگ اسکیم' کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر 50 لاکھ گھر تعمیر کیے جائیں گے، جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی امید ہے۔

پاک-چین China اقتصادی راہداری (سی پیک CPEC ) کو پاکستان Pakistan کے لیے بہت اہم اقتصادی منصوبہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک CPEC سے پاکستان Pakistan کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین China پاکستان Pakistan کے لیے بہت بڑی مارکیٹ ہے اور سی پیک CPEC کے لیے گوادر Gawadar جیسے اقتصادی زونز کو ترقی دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان Pakistan میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر توجہ نہیں دی گئی، لیکن ہماری حکومت آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے مزید بتایا کہ ان کی حکومت پاکستان Pakistan سے منی لانڈرنگ Money laundering کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan دو روزہ دورے پر گزشتہ روز سعودی عرب Saudi Arabia کے شہر مدینہ منورہ پہنچے تھے، جہاں مدینہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی سفیر نے ان کا استقبال کیا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان Imran Khan شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد Crown Prince شہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

گزشتہ روز سعودی عرب Saudi Arabia روانگی سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے کو اپنے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا تھا کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے وہ سعودی عرب Saudi Arabia سے قرض لینے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب Saudi Arabia ایران Iran تنازع ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرنےکی پیشکش بھی کی تھی۔

 51