پی ٹی آئی PTI حکومت نے آئی ایم ایف سے 15 ارب ڈالر billion dollor قرض لینے کا فیصلہ کرلیا

17 اکتوبر 2018

پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف سے 15 ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کرلیا

پاکستان Pakistan تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لگ بھگ 15 ارب ڈالر billion dollor قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ ماہ پاکستان Pakistan کے دورے پر آنے والے آئی ایم ایف کے وفد سے تین سال کیلئے اس رقم کے حصول کی درخواست کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کے وفد کے آئندہ ماہ دورہ پاکستان Pakistan کے دوران قرض کے حصول پر بات کی جائے گی۔ حکومت پاکستان Pakistan اپنی درخواست سامنے رکھے گا جس پر آئی ایم ایف وفد پاکستان Pakistan کی مالی ضرورت کے مطابق قرض کی فراہمی کا فیصلہ کرے گا۔ آئی ایم ایف کو رقم مہیا کرنے والے ممالک کی رضامندی بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

ذرائع وزارت خزانہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ پاکستان Pakistan کو مالی خسارہ پورا کرنے کیلئے کم از کم 6 ارب ڈالر billion dollor سالانہ کی ضرورت ہے۔ مالی خسارے کی سب سے بڑی وجہ پاکستان Pakistan کا 36 ارب ڈالر billion dollor کا سالانہ خسارہ ہے۔ دوسری جانب بیرون ملک سے ترسیلات زر کے ذریعے سالانہ 20 ارب ڈالر billion dollor ملتے ہیں۔

ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان Pakistan کو اگلے سال میں ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر billion dollor کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی توقع بھی ہے۔ کچھ باہمی معاہدات کے تحت دوست ممالک سے قرضہ ملنے کی بھی توقع ہے۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق آئی ایم وفد کو پہلے سے لیا گیا قرضہ ری شیڈول کرنے کی بھی درخواست کی جا سکتی ہے۔ اگر پرانا قرضہ ری شیڈول ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں 10 ارب ڈالر billion dollor بھی معیشت کو سہارا دینے کیلئے کا فی ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں انسٹیٹوٹ آف انٹرنیشنل فنانس نے اپنی رپورٹ میں بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان Pakistan آئی ایم ایف کے ساتھ 15 ارب ڈالر billion dollor کا پروگرام طے کرے گا۔

آئی آئی ایف کے مطابق تین سالہ پروگرام پر اس سال کے آخر تک معاہدہ ہوجائے گا اور بجٹ خسارہ کم، شرح تبادلہ میں لچک اور سخت مانیٹری پالیسی اگلے پروگرام کی شرائط ہوں گی۔

گزشتہ دنوں انڈونشیا میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ سے ملاقات کی تھی جس میں باقاعدہ مالی مدد کی درخواست کی گئی تھی۔

وزیر خزانہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے اور جس کا کمزور طبقے پر کم سے کم اثر پڑے

 81