زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی استدعا مسترد

16 اکتوبر 2018

زینب قتل کیس کے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی استدعا مسترد

لاہور ہائیکورٹ نے زینب زیادتی و قتل کیس کے مجرم عمران کو سر عام پھانسی دینے کی استدعا مسترد کردی۔

قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ زینب کے والد امین انصاری نے عدالت عالیہ سے مجرم کو سر عام پھانسی دینے کی درخواست کی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار شمیم احمد خان اور جسٹس شہباز علی رضوی پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے بینچ نے مذکورہ درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران مدعی امین انصاری کے وکیل اشفاق چوہدری نے عدالت عالیہ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت پبلک مقام پر پھانسی ہو سکتی ہے۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ سیکشن 22 پڑھیں، جس میں لکھا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے اور ہم حکومت نہیں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ نے مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق مقتولہ زینب کے والد کی استدعا مسترد کردی۔

زینب قتل کیس—کب کیا ہوا؟

رواں برس کے آغاز میں پنجاب کے ضلع قصور سے اغواء کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی۔

زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔

بعدازاں چیف جسٹس پاکستان Pakistan نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور پولیس کو جلد از جلد قاتل کی گرفتاری کا حکم دیا۔

23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت قصور کی 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔

اگلے ہی ماہ یعنی 17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی تھی، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے مجرم عمران کو کُل 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی تھیں۔

مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔

دوسری جانب عمران کو زینب سے بدفعلی پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانے جبکہ لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانےکی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

مجرم کی جانب سے سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی گئی تاہم 20 مارچ کو عدالت عالیہ نے یہ اپیل خارج کردی تھی۔

عدالت زینب سمیت 7 بچیوں تہمینہ، ایمان فاطمہ، عاصمہ، عائشہ آصف، لائبہ اور نور فاطمہ کےقتل کیس میں مجرم عمران کو مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت کا حکم سناچکی ہے۔

مجرم عمران کو کل (17 اکتوبر) تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔

 65