’’بلیک منڈے‘‘

زیر بحث - عارف نظامی

10 اکتوبر 2018

'' black monday' '

دوماہ کی لیت و لعل کے بعد بالآخر تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف سے مدد لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں انڈونیشیا Indonesia کے جزیرے بالی میں ہونے والے آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر تشریف لے جا رہے ہیں۔پیر کو پاکستانی معیشت کے حوالے سے ’’بلیک منڈے‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس روز تیزی سے گرتی ہوئی سٹاک ایکسچینج بالکل کریش کر گئی اور اقتصادی ماہرین کے مطابق 238ارب کا نقصان ہوا،اسی طرح روپے کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں نیچے آتے آتے129 سے تجاوز کر گئی اور اگلے روز 137 کے لگ بھگ ہو گئی۔نہ جانے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے یہ کلیدی فیصلے کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔جیسا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2013ء میں برسر اقتدار آتے ہی آئی ایم ایف سے بات چیت شروع کر دی انہیں بھی کر دینی چاہئے تھی۔ جیسا کہ گزشتہ روز عمران خان Imran Khan کی پریس کانفرنس سے ہی آشکار ہوا کہ وہ ابھی تک وزیر اعظم Prime Minister سے زیادہ اپوزیشن لیڈر کے موڈ میں ہیں لیکن محض پچھلی حکومت کو لعن طعن کرنے سے معیشت تو نہیں سنبھلے گی اور غریب آدمی جس کا پی ٹی آئی PTI دم بھرتی ہے کیلئے گزارا کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے اپنی پہلی فرصت میں بلوچستان Balochistan کا دورہ کر کے مثبت قدم اٹھایا ہے۔ اس دورے کی خصوصی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔کہا جاتاہے کہ میاں نوازشریف کے دور وزارت عظمیٰ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو ئی تھی جب 13نومبر2016 ء کو پاکستان Pakistan کے لیے اقتصادی اورسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل گوادر Gawadar کی بندر گاہ کا باقاعدہ افتتاح ہونا تھا ۔غالبا ً افتتاح میاں نوازشریف نے کیا تھا لیکن تختی اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی لگی تھی ۔اب وزیراعظم اور آرمی چیف کے شانہ بشانہ وہاں ہونے سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ فوجی اور سیاسی قیادت نہ صرف دیگر معاملات بلکہ بلوچستان Balochistan کے بارے میں بھی ایک ہی صفحے پر ہے ۔خان صاحب نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اور کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی موجودگی میں اعلان کیا کہ چائنہ پا کستان اقتصادی راہداری ’سی پیک CPEC ‘ کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے ۔گویا کہ اعلیٰ ترین سطح پر اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ سابق دور میں 62ارب ڈالر billion dollor پر مشتمل ’سی پیک CPEC ‘ منصوبوں کو جوں کا توں نہیں چلایا جائے گا ۔پاکستان Pakistan کی دیوالیہ معیشت کی بنا پر غالبا ًایسا کرنا ضروری بھی ہو گیا تھا کیونکہ اگر حکومت ’سی پیک CPEC ‘ کے تحت چلنے والے بجلی کے منصوبوں کے بقایا جات بھی ادا کر نے کے قابل نہ ہو تو وہ قرضے کیا ادا کرے گی ۔لیکن حکومتی وزراء کی ٹیم کے بعض ارکان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے خواہ مخواہ غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی اور چین China کو بھی کچھ وسوسوں میں مبتلا کر دیا ۔چین China نے تو واضح طور پرکہہ دیا ہے کہ نئے منصوبوں پر نظرثانی کرنے کا پاکستان Pakistan کو پورا اختیار ہے ،پہلے سے جاری حساس معاملات پر بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے کیونکہ’ ون بیلٹ روڈ منصوبے‘ کے اقتصادی ترقی کے علاوہ سٹرٹیجک پہلو بھی ہیں جنہیں یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ عمران خان Imran Khan نے درست طور پر کہا کہ گوادر Gawadar کی بندر گاہ کو فعال کیے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ2015ء میں نوازشریف نے2300ایکڑ اراضی خصوصی اقتصادی زون کیلئے چین China کے حوالے کی تھی۔ گوادر Gawadar پورٹ بھی43 سال کیلئے 2059ء تک ہم نے چین China کو ٹھیکے پر دیا ہوا ہے ۔گوادر Gawadar پورٹ ہم نے پہلے سنگاپور کو تھونپنے کی کوشش کی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی بالآخر چین China ہماری مدد کو آیا ۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ’سی پیک CPEC ‘ کے منصوبوں پر نظرثانی کا اعلان اور گوادر Gawadar پورٹ کو فعال کرنا نیک ارادے ہیں لیکن عملی طور پر تھوڑا سا تضاد نظر آتا ہے۔ نہ جانے موجو دہ حکومت کو ’سی پیک CPEC ‘ سے کیا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم سمیت ہم سب ’سی پیک CPEC ‘ ’سی پیک CPEC ‘ کی گردان کیے جا رہے ہیں۔ جب چین China یہ کہہ چکا ہے کہ آپ جیسا چاہیں کر لیں تو پھر امریکہ United States کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کلیدی منصوبے کو کیوں مسلسل ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق تو نوازشریف کے دور میں ملک کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔ وزیراعظم نے بجا طور پر بلوچستان Balochistan میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان Pakistan کے سب سے بڑے صوبے کو اقتصادی ترقی کے لیے جائز حصہ دیا جائے گا اور صوبے کے جائز تحفظات دور کیے جائیں گے ۔یہ اچھی بات ہے کہ بلوچستان Balochistan کی ترقی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن زمینی حقائق تاریخی طور پر مختلف رہے ہیں ۔ہر حکمران بلوچستان Balochistan کی ترقی میںممد ومعاون ثابت ہونے کی دلآویز تجاویز سناتا رہا ہے لیکن ترقیاتی فنڈز وہاں کے سرداروں اور سیاستدانوں کے ہی کام آتے ہیں جبکہ وہاں کے عوام غربت اور جہالت کی اتھاہ گہرائیوں اور دہشتگردی کا مسلسل شکار رہے ہیں۔بلوچستان Balochistan معدنی دولت سے مالا مال ہے ۔جب ایک بین الاقوامی مائننگ کمپنی ریکوڈیک کو تانبے کے وسیع ذخائر کی مائننگ کا ٹھیکہ دیا گیا تو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan افتخار محمد چودھری نے اسے سبوتاژ کر دیا،اب پاکستان Pakistan اس کمپنی کو اربوں روپے ہرجانہ ادا کر رہا ہے اور صوبے سے تانبا نکالنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔عمران خان Imran Khan نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کرینگے جو پورا نہ کر سکیں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔بلوچستان Balochistan کے عوام سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ’ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘۔ جہاں تک غربت ،پسماندگی اقتصادی ،بدحالی اور ملک کے دیوالیہ ہونے کا تعلق ہے ۔مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔حکومتی زعما ان معاملات کے بارے میں تو ابھی تک ٹامک ٹوٹیاں ہی مار رہے ہیں۔ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پچھلی حکومت ملک دیوالیہ کر گئی اور یہ کہ عملی طور پر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر قریبا ًمنفی ہو چکے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ گنجی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا ۔افواج پاکستان Pakistan کو ملک کے دفاع کے لیے جس جدید سامان حرب کی ضرورت ہے وہ چین China کے سوا اور کوئی ملک فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ خزانہ خالی ہونے کی بنا پر ہم مغربی ممالک سے جدید سامان حرب خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔حال ہی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ United States کے دورے سے جس میں انہوں نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اپنا سا منہ لے کر واپس آ گئے ہیں کیونکہ امریکہ United States نے صاف کہہ دیا کہ پاکستان Pakistan کی فوجی امداد بحال نہیںکی جائے گی ۔ دوسری طرف روسی صدر ولادی میر پوٹن کے حالیہ دورہ بھارت India کے دوران 5.43 ارب ڈالر billion dollor کے خطرناک ترین طیارہ شکن میزائل نظامS-400کی فراہمی کا بھی معاہدہ ہوا ہے ۔اس معاہدے کی رو سے روس، بھارت India کو 5 عدد ایس۔400 میزائل دفاعی سسٹم فروخت کرے گا۔واضح رہے کہ امریکہ United States نے روس Russia سے اس نظام کو خریدنے کی صورت میں بھارت India پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اس نے کوئی پروا نہیں کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت India کے پاس یہ سب کچھ خریدنے کے لیے وسائل بھی موجود ہیں کیونکہ اس کی معیشت پاکستان Pakistan کی طرح دیوالیہ نہیں ہے ۔ بھارت India جو سامان خرید رہا ہے وہ پاکستان Pakistan کے خلاف بھی استعمال ہو گا ۔اس تناظر میں پاکستان Pakistan اپنی دفاعی ضروریات کے لیے چین China کے سوا کہاں کا رخ کر سکتا ہے۔اسی لیے ہمیں اپنی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کو بازیچہ اطفال نہیں بنانا چاہیے اور امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan جو اگلے ماہ چین China کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں’سی پیک CPEC ‘سمیت ان تمام معاملات پرچین China سے کھل کر بات کریں گے جن سے پاکستان Pakistan کی ضروریات بھی پوری ہوں اور چین China کے ساتھ تاریخی دوستی بھی مزید پھلے پھولے

 70