سعودی عرب Saudi Arabia کی گوادر Gawadar میں سرمایہ کاری اورایران

بات یہ ہے - ارشاد محمود

06 اکتوبر 2018

Saudi arab ki Gwadar mein sarmaya kaari avrayran

سعودی عرب Saudi Arabia کے گوادر Gawadar میں سرمایہ کاری کے اعلان کو پاکستان Pakistan کی زبردست سفارتی کامیابی قراردیاجاسکتا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia گوادر Gawadar میں تیل صاف کرنے والا کارخانہ لگانے کے علاوہ تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش میں بھی دلچسپی رکھتاہے۔ گوادر Gawadar میں سعودی عرب Saudi Arabia کی آمد سے خطے کی سیاسی اور معاشی صورت حال میں دوررس تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے۔سعودی عرب Saudi Arabia کا گوادر Gawadar میں سرمایہ کاری کا اعلان ایک غیر معمولی اسٹرٹیجک فیصلہ ہے۔اسلام آباد Islamabad میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman اگلے چند ہفتوں میں پاکستان Pakistan کا دورہ کرکے ان منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ سعودی عرب Saudi Arabia قطر کے علاوہ تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاستوں کا امام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات united arab emirates ، کویت، بحرین اور عمان Oman بھی پاکستان Pakistan میں سرمایہ کاری پر راغب ہونا شروع ہوجائیں گے۔علاوہ ازیںامریکہ United States بہادر کے ساتھ تعلقات میں بہتری یا کم ازکم ٹھہراؤ پیدا کرانے میں سعودی عرب Saudi Arabia مد د کرسکتاہے۔ گوادر Gawadar بندرگاہ سے عرب ریاستیں خوش نہیں تھیں۔ اطلاعات یہ بھی تھیں کہ بلوچستان Balochistan میں بدامنی میں دانستہ یا نادانستہ طور پر کچھ عرب ممالک کی سرزمین اور وسائل بھی استعمال ہوئے۔ انہیں خدشہ تھا کہ گوادر Gawadar علاقائی تجارت کا مرکز بننے کی صورت میں ان کا کاروبار سست روی کا شکارکرسکتاہے۔عرب ریاستوں کو پاکستان Pakistan بارے درج ذیل اسباب نے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ امریکہ United States کے ساتھ ناہموار تعلقات اور ایران Iran کے ساتھ تناؤمیں مسلسل اضافے نے ان ممالک کو ایک عرصے کے بعد پاکستان Pakistan کی طرف متوجہ کیا۔اگرچہ امریکہ United States کے ساتھ عرب ممالک کی گاڑھی دوستی ہے لیکن صدر ٹرمپ کی طرح کے متلون مزاج حکمرانوں نے عربوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ چند دن پہلے انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کی بادشاہت امریکی حمایت کے بنا دوہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ علاوہ ازیں ایران Iran کی طرف سے پاکستان Pakistan کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ اور چاہ بہار chabahar بندرگاہ کی تعمیر کے پس منظر میں عرب ممالک کو خطے میں متبادل کے طور پر پاکستان Pakistan کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ایک اور اہم سبب جس نے عرب ممالک کی لیڈرشپ کو متاثر کیا وہ پاکستان Pakistan کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابیاں اور امریکہ United States کے دباؤ کی مسلسل مزاحمت ہے۔ کئی ایک عرب تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وہ دنگ رہ جاتے ہیں کہ محدود وسائل اور عالمی تعلقات کا حامل ملک کس طرح ایک سپرپاور کے ساتھ معاملات کرتاہے۔ پاکستان Pakistan نے عربوں کے ساتھ قربت، گہرے معاشی اور سیاسی تعلقات کے باوجود ایران Iran اور سعودی عرب Saudi Arabia کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھا۔یہ تنی ہوئی رسی پر سفر کے مترادف ہے۔ تمام تر ترغیبات کے باوجود ایران Iran کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ کسی گروہ نے ایران Iran میں مداخلت کی بھی ہوتو ریاست نے اس کی سرکوبی میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ آج کی دنیا میں جنگ دوسرے ممالک پر قبضے کی نہیں بلکہ وسائل پر تصرف حاصل کرنے اورانہیں اپنے ملک اور عوام کی خاطر بہتر استعمال کرنے کی ہے۔ مغرب جو انسانی حقوق کا علمبردا ر کہلاتا ہے وہ بھی دولت مند ممالک کی چاکری کرتاہے تاکہ تجارتی اور کاروباری مفادات کو زک نہ پہنچے۔ پاکستان Pakistan اور اس کے گرد ونواح میں روس Russia اور چین China جیسی ابھرتی ہوئی معاشی قوتوںنے تمام ممالک کو جکڑ لیا ہے۔ خاص طور پر چین China نے اپنے اقتصادی وسائل کا مہارت سے استعمال کرکے نہ صرف امریکہ United States مخالف بلکہ امریکہ United States نواز ممالک تک کو اپنا ہمنوا بنا لیایا انہیں اپنا دست نگر کرلیا ۔عالم یہ ہے کہ چین China افغانستان Afghanistan میں ایک بہت بڑے کھلاڑی کے طور ابھرا ہے۔ گزشتہ ماہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسلام آباد Islamabad میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان Afghanistan کو بھی سی پیک CPEC میں شامل کردیاجائے۔ پشاور کے سابق کور کمانڈر جنرل حامد خان نے پاکستان Pakistan انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز اور جرمن فائونڈیشن ایف ای ایس کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار میں کہا کہ پاک افغان سرحد پر مزید راستے کھولے جائیں تاکہ وقت آنے پر انہیں سی پیک CPEC کے ساتھ مربوط کیاجاسکے۔مطلب یہ کہ خطے کی سیاست او رمعیشت کو دیکھنے کے لیے اب سی پیک CPEC کا عدسہ استعمال کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ سعودی عرب Saudi Arabia کی طرف سے پاکستان Pakistan میں سرمایہ کاری کے اعلان اور اعلیٰ سطحی دوروں کے بعد یہ کھٹکالگاہوا کہ کہیں ایران Iran کا ردعمل محاذآرائی کا نیا باب نہ کھول دے۔ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے ایک پریس کانفرنس میں ان خدشات کا نہ صرف ازالہ کیا بلکہ کہا کہ ایران Iran اقتصادی راہداری کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ یہ منصوبہ خطے میں امن کے ساتھ ترقی کے نئے دور کاآغاز کریگا۔انہوں نے اس تاثر کو غلط قراردیا کہ سعودی عرب Saudi Arabia کی سی پیک CPEC منصوبے میں شراکت داری پر ایران Iran ناخوش ہے۔مہدی ہنر کا یہ بیان ایرانی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کا عکاس ہے۔ ایران Iran کی سیاسی قیادت ذہین اور دوراندیش ہے وہ پاکستان Pakistan کی مجبوریوں او رمشکلات کا ادراک رکھتی ہے۔پاکستانی معیشت کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ایران Iran اگر اس بیان پر قائم رہتاہے تو پاکستان Pakistan سعودی عرب Saudi Arabia کے ساتھ ایران Iran کی کشیدگی کم کرانے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کرسکے گا۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ٹھیک کہتے ہیں کہ امریکہ United States اور چین China کے درمیان ابھرتی ہوئی محاذ آرائی سے پاکستان Pakistan کو فائدہ پہنچ سکتاہے۔ مغربی ممالک کا چین China پر دباؤ ہے کہ وہ تجارتی اور کاروباری لین دین میں فریقین کی کم پیشہ ورانہ مہارت یا معاشی مشکلات کا فائدہ اٹھاتاہے اور انہیں قرض میں جکڑ کر رفتہ رفتہ ان کے منصوبے ہتھیا لیتاہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو بھی چین China کا قرض واپس کرتے ہوئے ایساہی خیال آیا۔چنانچہ بند دروازوں اور پردوں کے پیچھے مذاکرات چل رہے ہیں کہ کس طرح سی پیک CPEC کے معاہدوں میں ہونے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔ پاکستان Pakistan سعودی عرب Saudi Arabia کے ساتھ اب کاروباری معاہدے کرنے جارہاہے۔ یہ وقت ہے کہ ٹھوک بجاکر شرائط طے کی جائیں۔ بین الریاستی تعلقات میں مروت اور ایثار کے بجائے قومی مفاد کو مدنظر رکھاجانا چاہیے۔ وقتی مجبوریوںکی بدولت طویل المیعاد مفادات پر سودے بازی ،احمقانہ حرکت ہی نہیں بلکہ ناقابل معافی جرم بھی ہے۔

 179