حکومت کا مبینہ انتخابی دھاندلی کمیٹی کی سربراہی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ

28 ستمبر 2018

hukoomat ka mobayyana intikhabi dhandli committee ki sarbarahi –apne paas rakhnay ka faisla

اسلام آباد: تحریک انصاف کی حکومت نے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو انتخابی دھاندلی کمیٹی کی سربراہی اپنے پاس رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

وزیراعظم نے پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ پارٹی کے پاس رکھنے کی منظوری دے دی جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنانے کی تجویز منظور کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کے لئے مختلف ناموں پر مشاورت کی جارہی ہے، شیریں مزاری، شفقت محمود، علی محمد خان اور عامر ڈوگر کے نام کمیٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم (ق) کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کے لیے طارق بشیر چیمہ کا نام دیا گیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والی کمیٹی کے لیے احسن اقبال، رانا تنویر، رانا ثناءاللہ اور مرتضیٰ عباسی کو نامزد کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حزب اختلاف کی دوسری جماعت پیپلز پارٹی نے بھی پارلیمانی کمیٹی کے لیے اپنے ناموں کو حتمی شکل دے دی۔

یاد رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا جس پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان Imran Khan نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

18 ستمبر کو اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوا اور قومی اسمبلی نے بھی کمیٹی کے قیام کی تحریک منظور کی جس کے مطابق کمیٹی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز تیار کرے گی اور آئندہ دھاندلی کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات تجویز کرے گی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دی جائے اور شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی حزب اختلاف کو دی جائے۔

 88