اب بندہ روئے یا ہنسے

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

28 ستمبر 2018

ab bandah roye ya hasay

قومی اسمبلی کے اندر ماحول گرم ہوتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کو خود کو حکمران سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ شاید اپوزیشن میں طویل عرصے تک رہنے کا ایک نفسیاتی اثر ہوتا ہے اور اس موڈ سے باہر نکلنے میں کچھ وقت لگتا ہے‘ لہٰذا ہر دوسرے روز وہاں حکومت کا کوئی نہ کوئی وزیر کھڑا ہو کر خوب غصے کا اظہار کر کے اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ وزارتوں کی تقسیم بھی کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی PTI کے اپنے اندر بہت سے لوگ خوش نہیں ہیں۔ دھیرے دھیرے اس کا اثر اسمبلی کے اندر نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ پہلے کچھ دن تو اجلاس میں آپ کو رش نظر آتا تھا‘ لیکن اب جبکہ وزارتیں بٹ چکی ہیں تو ایم این ایز غائب ہونا شروع ہوگئے ہیں‘ لیکن ایک بات وہی پرانی ہے کہ ہاؤس میں موجود تو اسی نوے ایم این ایز بھی نہیں ہوتے ‘لیکن حاضری ڈھائی سو ایم این ایز کی لگی ہوتی ہے۔ پانچ ہزار روپے الاؤنس کے لیے یہ لوگ اپنا ایمان بیچ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹھے سینکروں میل دور ہیں‘ لیکن اسمبلی میں ان کی حاضریاں لگی ہوئی ہیں۔ یوں نئی اسمبلی نے وہیں سے فراڈ اور دھوکے کا کام شروع کیا ہے جہاں پچھلی اسمبلی کو ایاز صادق چھوڑ کر گئے تھے۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں ایم این ایز موجود ہوں تو انہیں کھلی اجازت دینی ہوگی کہ وہ جس دن ہاؤس میں نہیں آئیں گے ان کی جعلی حاضری لگتی رہے گی اور پانچ ہزار روپے کا چیک ملتا رہے گا ۔ پارلیمنٹ کے ملازمین کے لیے تو بائیومیٹرک سسٹم ہے ‘لیکن ایم این ایز کے لیے اب بھی رجسٹر حاضری رکھا ہوا ہے۔ جو پانچ ہزار روپے کے لیے اپنا ایمان بیچ رہے ہیں‘ ان سے ہم نے کیسے کیسے انقلاب کی امیدیں لگا رکھی ہیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے ایک نئی مہم چلا دی ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہباز شریف Shehbaz Sharif کو ہونا چاہیے۔ پہلے سینیٹر شیری رحمن نے ٹی وی شو میں ڈٹ کر کہا تھا کہ اپوزیشن کو یہ چیئر مین شپ ملنی چاہیے کیونکہ دو ہزار آٹھ کے بعد ان کی حکومت نے وہ سیٹ اپوزیشن کو دی تھی۔ یہ کوئی قانونی معاہدہ نہیں تھا‘ بلکہ ایک انڈرسٹینڈنگ تھی جو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف Nawaz Sharif کے درمیان لندن میں دو ہزار چھ میں طے پائی تھی۔ اس میثاق جمہوریت میں اور بھی بہت کچھ طے ہوا تھا۔ جیسے ‘ یہ کہا گیا تھا کہ بے نظیربھٹو اور ان کی پارٹی اور نواز شریف Nawaz Sharif حکومت بننے کی شکل میں کسی سرونگ جنرل سے ملاقاتیں نہیں کریں گے۔ بے نظیر بھٹو یہ معاہدہ کرنے کے بعد سیدھی دبئی پہنچیں اور انہوں نے جنرل مشرف سے خفیہ ملاقات کی جس میں انہوں نے این آر او ڈیل کی‘جبکہ دو ہزار سات میں وطن واپسی پر نواز شریف Nawaz Sharif نے پیپلز پارٹی کی حکومت بنتے ہی سب سے پہلے چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کو جی ایچ کیو بھیجا کہ وہ جا کر جرنیلوں سے ملاقاتوں کے سلسلے کو دوبارہ وہیں سے جوڑیں جہاں دس برس پہلے ٹوٹا تھا ۔ جنرل کیانی صاحب نے جی ایچ کیو میں درجنوں خفیہ ملاقاتیں چوہدری نثار اور شہباز شریف Shehbaz Sharif سے کیں۔ یہ سب کچھ میثاقِ جمہوریت کے بعد ہورہا تھا اور ان ملاقاتوں کا اس وقت کی گیلانی حکومت کو علم نہ تھا؛ تاہم انہوںنے ایک کام ضرور کیا۔ میثاقِ جمہوریت میں یہ لکھا ہوا تھا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو ملے گی اور وہ چوہدری نثار علی خان کو دی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری نثار اور پیپلز پارٹی حکومت کے درمیان تعلقات اچھے نہ تھے اور چوہدری نثار نے ڈٹ کر کمیٹی چلائی لیکن جہاں چوہدری صاحب کے پر جلتے تھے‘ وہ جلے۔ چوہدری نثار علی خان حکومت وقت کے بارے میں تو سخت رویہ اپنائے ہوئے تھے‘ لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کے سکینڈلز کو نظر انداز کیا۔ ان میں ایم این اے انجم عقیل خان سرفہرست تھے‘ جنہوں نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے چار ارب روپے لوٹ لیے تھے۔ چوہدری نثار صاحب نے باقی سکینڈلز پر تو سوئوموٹولیے لیکن انجم عقیل کا بھول کر بھی نام نہ لیا ‘ بلکہ جب بعد میں چوہدری نثار وزیرداخلہ بنے تو وہی انجم عقیل ان کے اردگرد نظر آتے تھے۔ اسی طرح جب پی اے سی کے سامنے ایک اہم ادارے کا چار ارب روپے کا سکینڈل لایا گیا اوراس میں کچھ ریٹائرڈ جنرلز کا بھی نام آیا تو چوہدری نثار نے اس پر بھی ہاتھ ہولا رکھا ۔ انکوائری رپورٹ عام کرنے کی بجائے اس رپورٹ کو اپنے پاس گھر رکھ لیا اور آج تک اس رپورٹ کا نہیں پتہ کہ اس میں کیا لکھا ہوا تھا۔ ایک دن کہا کہ وہ اس انکوائری رپورٹ پر ایکشن لیں گے‘ لیکن اگلے دن ہی وہ اس دعوے سے مکر گئے اور کہا: جی ایچ کیو اس پر ایکشن لے گا۔

اس سے ثابت ہوگیا کہ جب چوہدری نثار جیسا بندہ بھی اپنی پارٹی کے کرپٹ لیڈروں کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے اور انہیں کچھ نہیں کہتا تو پھر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ پی اے سی اگر شہباز شریف Shehbaz Sharif کو دی جاتی ہے تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ چوہدری نثار کے بعد جس طرح کا حشر خورشید شاہ Khursheed Shah نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کیا اس سے تو ہم باقاعدہ ڈر گئے ہیں کہ اگر شہباز شریف Shehbaz Sharif کو یہ کمیٹی دی گئی تو پھر کیا ہو گا۔ خورشید شاہ Khursheed Shah صاحب کے دور میں پی اے سی کا رہا سہا دبائو اور اثر بھی ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ ہر کسی کو کلین چٹ دے دی گئی۔ اور تو اور چار سو اسی ارب روپے کی آڈٹ رپورٹ کو بھی سیٹل کردیا گیا۔ اس رپورٹ کو بنانے میں اس وقت کے آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو اپنی نوکری کی قربانی دینا پڑ گئی تھی۔ یہ وہ چار سو اسی ارب روپے تھے جو اسحاق ڈار نے ایک دن میں آئی پی پیز کو ادا کرائے تھے۔ بلوں کی فوٹو کاپی پر یہ ادائیگیاں کی گئی تھیں ‘اور ان بلوں کا پری آڈٹ بھی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ سٹیٹ بینک سے براہ راست یہ ادائیگیاں کرائی گئیں‘ جبکہ بائیس ارب روپے کا وہ جرمانہ بھی ان آئی پی پیز کو معاف کر دیا گیا‘ جو انہوں نے حکومت پاکستان Pakistan کو ادا کرنا تھا‘ جبکہ بتیس ارب روپے آئی پی پیز کا جرمانہ ادا کیا گیا۔ ان تمام رپورٹس کو خورشید شاہ Khursheed Shah صاحب نے ہی سیٹل کیا تھا۔

پی اے سی ایک بہت اہم ادارہ ہے‘ اگرا سے اچھی طرح چلایا جائے۔ اس میں چالیس کے قریب فیڈرل سیکرٹریز پیش ہوتے ہیں۔ وہ سب چیئرمین پی اے سی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے بندے کو سربراہ بناتے ہیں‘ جو پہلے ہی نیب میں مقدمات بھگت رہا ہے‘ پیش ہوچکا ہے اور جس پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں‘ تو پھر آپ ہی بتائیں کہ اس کے پاس کیسے مورل اتھارٹی ہوگی کہ وہ ان کا احتساب کرسکے۔ الٹا آڈیٹر جنرل آف پاکستان Pakistan اور بیوروکریسی اس چیئرمین کے نیچے لگی ہوتی ہے۔ وہ چیئرمین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں لہٰذا بیوروکریسی اور آڈیٹر جنرل آفس چیئرمین پی اے سی کو خوش کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان Pakistan بلند اختر راناوہ پہلے بندے تھے جنہوں نے اس وقت اعتراض کیا تھا کہ خورشید شاہ Khursheed Shah کے چیئرمین ہونے سے پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کرپشن کی تمام آڈٹ رپورٹس سیٹل ہوجائیں گی‘ اور ان کے ادارے کی طرف سے کی گئی سب محنت غارت جائے گی۔ بلند اختر رانا نے تو پی اے سی میں پیش ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ جس حکومت اور وزارتوں اور وزیروں کے خلاف رپورٹس بنا کر کمیٹی میں لائے تھے‘ وہ اب اس کمیٹی کے سربراہ لگے بیٹھے ہیں۔ اس پر خورشید شاہ Khursheed Shah نے بلند اختر رانا کے خلاف کارروائی شروع کر دی اور تحریک انصاف کے ہی کمیٹی کے رکن عارف علوی کو انکوائری افسر لگا دیا کہ پتہ کرو آڈیٹر جنرل نے کیسے اپنی تنخواہ پچیس ہزار روپے بڑھا دی تھی۔ اس پچیس ہزار روپے کے الزام میں عارف علوی صاحب کے کندھے استعمال کرتے ہوئے خورشید شاہ Khursheed Shah اور اسحاق ڈار نے اپنا غصہ نکالا‘ ایک ریفرنس بنا کر سپریم کورٹ کو بھیج دیا گیا اور سپریم کورٹ نے بلند اختر رانا کو فارغ کردیا۔ یوں جس آڈیٹر جنرل نے چار سو اسی ارب روپے کا آڈٹ اسحاق ڈار کے خلاف کیا‘ اسے سزا ملی‘جبکہ خورشید شاہ Khursheed Shah نے بیٹھ کر سب کرپشن سیٹل کر دی ۔

پچھلے پانچ سال نواز لیگ کی حکومت رہی ہے اور سب رپورٹس جو پی اے سی میں آرہی ہیں وہ نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے وزراء کی کرپشن کے بارے میں ہیں۔ اب شہباز شریف Shehbaz Sharif پی اے سی کے چیئرمین بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ انصاف کا بولا بالا کر سکیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif سے زیادہ انہیں چیئرمین پی اے سی بنانے کا مقدمہ اور کوئی نہیں بلاول زرداری لڑ رہے ہیں ۔ وہی شہباز شریف Shehbaz Sharif جنہوں نے بلاول کے پاپا کا پیٹ پھاڑ کر سوئس بینکوں میں رکھی گئی حرام اور کرپشن سے اکٹھی کی گئی دولت نکلوانی اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ۔ اب بتائیں بندہ ہنسے یا روئے!

 397