حکومت سے مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا

27 ستمبر 2018

hukoomat se mazakraat ke liye aayi am f ka wafad Islamabad pahonch gaya

اسلام آباد: پاکستان Pakistan اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، جس کے دوران پاکستان Pakistan کی معیشت کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سلسلے میں آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جو ایک ہفتے تک پاکستان Pakistan میں قیام کرے گا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان Pakistan اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن کی سربراہی ہیرالڈ فنگر کریں گے جبکہ پاکستانی وفد میں سیکریٹری خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک، سیکریٹری اقتصادی امورشریک ہوں گے۔

اس دوران آئی ایم ایف وفد کی خزانہ، تجارت، توانائی، پیٹرولیم، سرمایہ کاری اور ایف بی آر حکام سے مذاکرات ہوں گے۔

پاکستان Pakistan کو ایسی ایمرجنسی کا سامنا نہیں کہ آئی ایم ایف سے مدد مانگنی پڑے، اسد عمر

واضح رہے کہ پاکستان Pakistan کو رواں سال 8 ارب ڈالر billion dollor کی مالی معاونت درکار ہے، تاہم پاکستان Pakistan نے تاحال آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست نہیں کی۔

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے عرب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان Pakistan کو ایسی کسی ایمرجنسی کا سامنا نہیں کہ اسے بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے۔

ان کا کہنا تھا، 'ہم نے درآمدات نہیں روکیں اور نہ ہی مالیاتی پابندیاں لگائی ہیں'۔

تاہم وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں بہتر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور جلدبازی یا ایمرجنسی میں فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔

27 ستمبر کو آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے شیڈول دورہ پاکستان Pakistan کے حوالے سے اسد عمر نے کہا، 'ہم ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، لیکن یہ بات چیت قرض کے لیے نہیں ہے، ہمارا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی مرحلے پر ہم اُن سے رابطہ کریں تو اس سے پہلے ہم اپنا ہوم ورک کرلیں'۔

 111