ایک پاکستان Pakistan وہ بھی تھا

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

27 ستمبر 2018

ek pakistan wo bh tah

ڈیوڈ ای لیلین تھال ایک عجیب کردار تھا‘ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کا لاءگریجویٹ تھا‘ وکیل تھا لیکن وہ دنیا میں کوئی تاریخی کام کرنا چاہتا تھا۔امریکا 1940ءکی دہائی میں خوفناک مالیاتی بحران کا شکار تھا‘ صدر روزویلٹ نے معیشت کا پہیہ چلانے کےلئے پورے ملک میں میگا پراجیکٹس شروع کر دیئے‘ لیلین تھال صدر کا دوست تھا‘ صدر نے اسے امریکا میں ڈیمز بنانے کی ذمہ داری دے دی‘ لیلین تھال نے دو شرائط پیش کیں اور منصوبہ شروع کر دیا‘ پہلی شرط فیصلوں کی آزادی تھی اور دوسری وہ صرف اور صرف صدر کے سامنے جواب دہ تھا‘

ڈیمز پراجیکٹ کےلئے ٹینیسی ویلی کا انتخاب کیا گیا‘ یہ وادی امریکا کی سولہویں بڑی ریاست ٹینیسی میں واقع ہے اور یہ ہمارے علاقے کالاباغ سے ملتی جلتی

ہے‘ لیلین تھال ٹینیسی ویلی اتھارٹی کا چیئرمین بن گیا‘ لیلین تھال نے دریائے ٹینیسی پر درجنوں ڈیمز بنائے‘ ڈیموں کی تعمیر کے دوران اسے محسوس ہوا جوہری توانائی بجلی حاصل کرنے کا سستا اور محفوظ ترین طریقہ ہے‘ یہ جوہری توانائی کا منصوبہ لے کر صدر کے پاس گیا اور صدر ٹرومین نے اٹامک انرجی کمیشن بنا کر اسے اس کا سربراہ بنا دیا ‘ لیلین تھال نے امریکا میں جوہری توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنا شروع کر دی یوں وہ اٹامک انرجی اور جدید ڈیمز کا بانی کہلانے لگا‘ پاکستان Pakistan اس دور میں ایک نیا اور جدید ملک بن کر ابھر رہا تھا‘بھارت India نے پاکستان Pakistan کا پانی بند کردیا تھا اور ملک شروع ہی میں مسائل کا شکار ہو گیا تھا‘ امریکا پاکستان Pakistan کو کامیاب‘ ترقی یافتہ اور مضبوط دیکھنا چاہتا تھا‘ لیلین تھال 1950ءکی دہائی میں سرکاری افسروں کو لیکچر دینے پاکستان Pakistan آیا اور پاکستانی قوم کے جذبے‘ ایمانداری اور جغرافیائی خوبصورتیوں کا فین ہو گیا ‘ اس نے پاکستان Pakistan کو پانی اور بجلی دونوں میں خود مختار بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ وہ امریکی اشرافیہ میں بہت پاپولر تھا‘ ورلڈ بینک کا صدریوجین رابرٹ بلیک اس کا ذاتی دوست تھا‘ وہ یوجین کو پاکستان Pakistan لے آیا‘ ملک میں اس زمانے میں ملک فیروز خان نون وزیراعظم تھے‘ وزیراعظم نے لیلین تھال کے مشورے پر ٹینیسی ویلی اتھارٹی کی طرز پر پاکستان Pakistan میں واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی)بنا دیا‘

واپڈا آگے چل کر دنیا کی مشہور ترین اتھارٹی بنی اور دنیا کے بیسیوں ملکوں نے اس کو کاپی کیا‘ امریکا اور یورپ 1971ءتک اس کی مثالیں دیتا تھا‘ پاکستان Pakistan میں 1958ءمیں مارشل لاءلگا اور جنرل ایوب خان صدر بن گئے‘ بھارت India بار بار پاکستان Pakistan کا پانی روک لیتا تھا‘ حکومت بھارت India کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ کرنا چاہتی تھی‘ ہم چاہتے تھے آدھا پانی بھارت India استعمال کرے اور آدھا ہم استعمال کرتے رہیں لیکن ورلڈ بینک کے صدر یوجین رابرٹ بلیک اور لیلین تھال کی رائے مختلف تھی‘

ان کا کہنا تھا بھارت India اپنے وعدے کی پاس داری نہیں کرے گا‘ یہ پاکستان Pakistan کو پانی پر روز بلیک میل کرے گا چنانچہ پاکستان Pakistan مسئلے کا مستقل حل تلاش کرے‘ ڈیم بنائے‘ دریائے سندھ کے پانی کو پورے ملک میں تقسیم کرے اور آزاد اور خود مختار زندگی گزارے‘ صدر ایوب یہ دلیل نہیں مان رہے تھے‘ ورلڈ بینک کے صدر نے آخر میں کہا ”آپ پھر بھارت India کے ساتھ طویل جنگ کی منصوبہ بندی کر لیں کیونکہ پانی کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو سکے گا“ صدر ایوب نے سوچا اور انہیں یوجین رابرٹ کی بات میں وزن محسوس ہوا اور یوں عالمی بینک نے 1960ءمیں بھارت India کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر سندھ طاس معاہدہ کروادیا‘

بھارت India آج بھی سندھ طاس کو نہرو کی سیاسی غلطی قرار دیتا ہے اور یہ اسے 58سال سے تبدیل کرانے کےلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے‘ سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان Pakistan نے تین کام کرنا تھے‘ دھڑا دھڑ ڈیم بنانے تھے‘ بجلی پیدا کرنی تھی اور بھارت India کے حصے آنے والے تین دریاﺅں بیاس‘ راوی اور ستلج کے زیر کاشت علاقوں تک نہروں کے ذریعے دریائے سندھ کا پانی پہنچانا تھا‘ پاکستان Pakistan اس وقت ٹیکنالوجی میں پسماندہ ترین ملک تھا‘ ہمارے پاس گدھے‘ بیل گاڑیاں اور ہتھ ریڑھیاں سب سے بڑی ٹیکنالوجی تھیں ‘

ہم ان سے ڈیم تو دور نہر تک نہیں بنا سکتے تھے‘ ملک میں اس وقت غلام اسحاق خان اور غلام فاروق دو بڑے بیورو کریٹس تھے‘ صدر ایوب نے یہ کام ان دونوں کو سونپ دیا‘ یہ دونوں کمال انسان تھے‘ آپ آج واہ فیکٹری سے لے کر پی آئی اے اور واپڈا سے لے کر ایٹمی پروگرام تک ملک کا کوئی بڑا منصوبہ نکال کر دیکھ لیجئے آپ کو اس میں ان دونوں کا ہاتھ ملے گا‘ اللہ تعالیٰ نے1958ءسے 1971ءتک اس ملک پر نوازشات کے دروازے کھول رکھے تھے‘

ملک کو جتنے ایماندار اور وژنری بیورو کریٹس‘ سیاستدان اور تاجراس دور میں ملے وہ دوبارہ نصیب نہیں ہوئے ‘ اس دور کے بیوروکریٹس ریاست کےلئے ہر فیصلہ اللہ کا حکم سمجھ کرکرتے تھے‘ آپ اس دور کی ایمبیسیوں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں‘ نیویارک کا روز ویلٹ ہوٹل ہو یا پھر امریکا ‘ لندن‘ فرانس اور روم کے سفارت خانے ہوں آپ عمارتیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں‘ آپ پاکستان Pakistan کے اداروں کی تاریخ بھی نکال کر دیکھ لیجئے‘ ہر ادارہ وژنری تھا اور ہر وژنری ادارے کے پیچھے کوئی نہ کوئی غلام اسحاق خان یا غلام فاروق جیسا بیورو کریٹ تھا۔

صدر ایوب خان نے غلام فاروق اور غلام اسحاق خان کو ڈیمز بنانے کا حکم دیا اور یہ دونوں جت گئے‘ ملک کے تمام اداروں سے انجینئرز واپڈا میں اکٹھے کئے گئے اور کام شروع ہو گیا لیکن یہ حقیقت ہے ایسے منصوبے پاکستان Pakistan جیسے ملکوں کے بس کی بات نہیں ہوتے چنانچہ غلام فاروق امریکا گئے‘ ورلڈ بینک کے صدریوجین رابرٹ سے ڈیم ڈیزائن کرنے والی دس بڑی کمپنیوں کی فہرست لی اور پھر صدر سے پوچھا ان میں سے کون سی کمپنی کا سی ای او امریکی صدرآئزن ہاورکے قریب ہے‘

ورلڈ بینک کے صدر نے قہقہہ لگا کر تیسری فرم پر انگلی رکھ دی‘ وہ فرم ہارزا انجینئرنگ تھی‘ فرم کا سی ای او صدر آئزن ہاورکے ساتھ گالف کھیلتا تھا‘ غلام فاروق نے سی ای او کے ساتھ ملاقات کی اور پہلی میٹنگ میں فرم کو منگلا ڈیم کی ڈیزائننگ کا کام دے دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے یہ فیصلہ ایک شخص نے امریکا میں بیٹھ کر ایک میٹنگ میں کیا اور ملک کے کسی ادارے‘ کسی اتھارٹی نے اس سے یہ نہیں پوچھا تم نے پہلی دو کمپنیاں چھوڑ کر یہ کام تیسری کمپنی کو کیوں دیا اور کیا اس کےلئے پیپرا رولز فالو کئے گئے؟ جی نہیں‘ یہ علتیں اس وقت موجود نہیں تھیں‘کیوں؟

کیونکہ اس دور میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کوئی بے ایمان اور نالائق افسر کسی اعلیٰ عہدے تک پہنچ جائے‘ ہمارے اس پاکستان Pakistan میں فیصلہ ساز کرسیوں پر صرف اور صرف ایماندار اور باصلاحیت لوگ ہوتے تھے چنانچہ پوری ریاست کا خیال تھا غلام فاروق نے جو بھی فیصلہ کیا وہ درست ہو گا اور اس میں بے ایمانی کا شائبہ تک نہیں ہو گا‘ میں آج دل سے سمجھتا ہوں اگر اس زمانے میں نیب‘ ایف آئی اے‘ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اور پلاننگ کمیشن جیسے ادارے ہوتے تو پاکستان Pakistan میں آج منگلا ڈیم ہوتا اور نہ ہی تربیلا اور نہ ہی ہم ایٹمی طاقت ہوتے اور آپ اگر آج بھی ان جیسے بڑے منصوبے بنانا اور مکمل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ملک کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو احتساب اور روک ٹوک سے بالاتر کرنا ہوگا‘

آپ کو اٹامک انرجی کمیشن کی طرح اداروں کو خودمختاری دینا ہوگی ورنہ ہم اگلے پچاس سال تک ملک میں کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنا سکیں گے۔ ہم ڈیم کی طرف واپس آتے ہیں‘ غلام فاروق مرحوم نے ہارزاکا انتخاب اس کے سی ای او کے صدرآئزن ہاورکے ساتھ تعلقات کی وجہ سے کیا ‘ امریکا منگلا ڈیم میں پاکستان Pakistan کا معاون تھا اور یہ منصوبہ امریکی صدر کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا تھاچنانچہ ڈیزائن میں جہاں مشکل آتی تھی‘ کمپنی امریکی صدر کے ساتھ بات کرکے وہ مشکل دور کرا لیتی تھی‘

غلام فاروق اور اسحاق خان نے ہارزا کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا تھا کمپنی 270 امریکی انجینئرز کو پاکستان Pakistan لائے گی‘ امریکا کا ہر انجینئر ڈیم پر کام کے دوران دو پاکستانی انجینئرز کو ٹرینڈ کرے گا‘ یہ معاہدہ بھی ہو گیایوں ہارزا نے پاکستان Pakistan کے پانچ سو انجینئرز ٹرینڈ کئے‘ پاکستان Pakistan نے1962ءمیں منگلا کا انٹرنیشنل کانٹریکٹ جاری کیا‘ یہ اس دور میں دنیا کا سب سے بڑا سول انجینئرنگ کانٹریکٹ تھا‘ پوری دنیا حیران تھی پاکستان Pakistan کہاں ہے اور یہ اتنا بڑا پراجیکٹ کیسے شروع کر رہا ہے؟

پاکستان Pakistan کے پاس منصوبے کی کل لاگت کا صرف 15 فیصد تھا‘ ہمیں 17 ملکوں نے 80 فیصد رقم کے برابر گرانٹ دی‘ پانچ فیصد ورلڈ بینک نے ڈالا اور منگلا ڈیم شروع ہو گیا‘ امریکا نے ڈیم کےلئے منگلا میں ائیرپورٹ بنایا‘ امریکا سے انجینئرز کا پورا پورا جہاز منگلا آتا تھا‘ واپڈا نے منصوبے کی پڑتال کےلئے اپنا ہوائی جہاز خرید لیا ‘ دو سال بعد تربیلا ڈیم پر بھی کام شروع ہو گیا‘ یہ منگلا سے دو گنا بڑا تھا‘ یہ منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ تین ملکوں کی کمپنیوں نے مل کر یہ ٹھیکہ لیا

اور امریکا دنیا کی سب سے بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے طالب علموں کو جہازوں میں بھر کر تربیلا لاتا تھا اور وہ طالب علم پندرہ پندرہ دن سائیٹ پر رہتے تھے‘ تربیلا ڈیم اس دور کا اہرام مصر تھا‘پوری دنیا میں اس کے بارے میں مضامین بھی چھپے اور دنیا کی بڑی انجینئرنگ یونیورسٹیوں نے اس پر تھیسس بھی کئے‘ منگلا اور تربیلا دونوں ڈیم اپنی مدت سے کم میں مکمل ہو ئے اور دنیا پاکستان Pakistan کے جذبے‘ شفافیت اور قوت فیصلہ کی معترف ہو گئی۔ورلڈ بینک نے پاکستان Pakistan کو منگلا‘ کالاباغ اور تربیلا تین ڈیم بنا کر دینے تھے‘

کالاباغ نسبتاً آسان تھا چنانچہ واپڈا نے فیصلہ کیا ہم امریکی انجینئرز سے منگلا اور تربیلا بنوالیتے ہیں‘ہمارے انجینئرز اس دوران ٹرینڈ ہو جائیں گے اور ہم کالاباغ خود بنا لیں گے اور یوں یہ ہمیں سستا بھی پڑے گا اور ہمارے انجینئرز بھی ٹرینڈ ہو جائیں گے اور یہ ہماری وہ غلطی تھی جس کا تاوان قوم آج تک ادا کر رہی ہے‘ ہم آج تک اپنی نالائقی کے زخم چاٹ رہے ہیں‘ پاکستان Pakistan کیا تھا اور یہ کیا ہو گیا‘ ہم کس بلندی سے کس پستی تک آ گئے؟ آپ سوچیں گے تو شرمندہ ہو جائیں گے۔ (باقی کل ملاحظہ کیجئے)

 195