اصغرخان عملدرآمد کیس: سپریم کورٹ نے ان کیمرہ بریفنگ کی اجازت دے دی

25 ستمبر 2018

asgar khan amal-dar-aamad case : Supreme Court ne un camera breifing ki ijazat day di

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو اصغر خان عملدرآمد کیس میں ان کیمرہ بریفنگ دینے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan کی سربراہی میں اصغرخان عمل درآمد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن Yemen نے عدالت کو ان کیمرہ بریفنگ کی درخواست کی۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ کیس کے بعض حقائق عدالت کو علیحدہ سے بتانا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ایف آئی اے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کیمرہ بریفنگ کی اجازت دی۔

اصغرخان عملدرآمد کیس: تمام اداروں کو ایف آئی اے سے تعاون کا حکم

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں، کوئی ادارہ قانون سے بالا نہیں ہے۔

اصغر خان کیس کا پس منظر

1990ء کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔

اس حوالے سے ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان Pakistan کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔

خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنماؤں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کا وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم

پیسے لینے والوں میں غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف Nawaz Sharif سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔

 40