منی لانڈرنگ Money laundering کیسز میں صرف ٹھوس شواہد پر کارروائی ہوگی، برطانوی وزیرداخلہ

25 ستمبر 2018

money laundering cases mein sirf thos shawahid par karwai hogi, Bartanwi wazeer e dakhla

لندن: برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستانیوں کی منی لانڈرنگ Money laundering اور کرپشن کیسوں میں صرف ٹھوس شواہد پر ہی کارروائی کرے گا۔

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو مین ان کا کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan سے مل کر کرپشن، منی لانڈرنگ Money laundering اور دہشت گردی کےخلاف کام کریں گے لیکن برطانوی نظام انصاف میں بنیادی حیثیت ٹھوس شواہد کو ہی دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان Pakistan کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، ہمیں صرف شواہد میں دلچسپی ہے۔

پاکستان Pakistan اور برطانیہ کے درمیان قانون اور احتساب سے متعلق معاہدہ

ساجد جاوید کا مزید کہنا تھا کہ برطانوی حکومت وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی حکومت سے مل کر کام کرے گی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستان Pakistan اور برطانیہ کے درمیان قانون اور احتساب سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد مختلف جرائم کے خاتمے کے لیے معاونت کرنا ہے۔

یہ معاہدہ برطانوی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان Pakistan کے موقع پر ہوا تھا۔ ان سے وزیراعظم عمران خان Imran Khan ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر قانون فروغ نسیم نے ملاقات کی تھی۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد اکبر نے کہا کہ معاہدے کا مقصد لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ہے اور ملزمان کے تبادلے کے معاہدے کی تجدید کریں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں ساجد جاوید کا کہنا تھاکہ پاکستان Pakistan برطانیہ کے لیے بہت اہم ملک ہےاس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں جن میں احتساب بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، پاکستان Pakistan حکومت کے بدعنوانی کے خلاف مل کر کام کرنے اور کریک ڈاؤن کے لیے تیار ہیں، بدعنوانی سے نمٹنےکیلئے تعاون، معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ ضروری ہے اور اس کے لیے کوشاں ہیں۔

 52