افغان کرکٹ ٹیم اور بھارت India کی غضبناکی کیوں

حرف راز - اوریا مقبول جان

24 ستمبر 2018

Afghan cricket team aur Bharat ki gazbnakii kyun

گزشتہ ہفتے دو چہرے بہت غضبناک نظر آئے‘ ایک کرکٹ میچ میں افغان کھلاڑیوں کا چہرہ اور دوسرا مذاکرات کے انکار پر بھارت India کے سفارتکاروں کا چہرہ۔ ان دونوں کی غضبناکی میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ بھارت India کا یہ چہرہ تو پاکستان Pakistan کے عوام صدیوں سے جانتے ہیں لیکن افغان چہرہ پاکستانیوں کے لیے بالکل نیا تھا اور سب کے سب حیران تھے کہ یہ وہ قوم ہے جس کے چالیس لاکھ مہاجرین کو پاکستان Pakistan نے اپنی سرزمین پر پناہ دی۔ جب وہ روس Russia کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے تو کوئٹہ اور پشاور کے ہسپتال ان کے زخمیوں کی تیمارداری کرتے تھے‘ وہ سرسبز و شاداب جنگل جہاں مہاجرین کے کیمپ لگائے گئے‘ بنجروادیوں میں تبدیل ہو گئے‘ پاکستان Pakistan کی سرزمین پر پہلی دفعہ دھماکے اور بم بلاسٹ شروع ہوئے اور افغان ایجنسی خاد روسی ایجنسی کے جی بی کے تعاون سے پاکستان Pakistan میں سات ہزار سے زیادہ دھماکے کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ہیروئن اور کلاشنکوف تو اس جنگ کا عطیہ تھیں‘ اس کے بعد جب مجاہدین میں خانہ جنگی شروع ہوئی‘ کابل شہر کے ایک طرف کی پہاڑیوں پر گلبدین حکمت یار اور دوسری سمت کی پہاڑیوں پر احمد شاہ مسعود کی توپیں شعلے اگلتی تھیں تو شاید اس خطے میں واحد پاکستان Pakistan تھا جو اس جنگ میں بلکہ خانہ جنگی میں غیرجانبدار رہا‘ ورنہ ایران Iran اور بھارت India جس طرح کھل کر شمالی اتحاد کی مدد کر رہے تھے‘ وہ ہر کسی کو معلوم تھا۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں سفید پرچم تھامے طالبان برآمد ہوئے اور انہوں نے پانچ سال اس جنگ زدہ اور آفت گرفتہ افغانستان Afghanistan میں امن و انصاف قائم کرکے دکھایا۔ ہم اس وقت بھی ان تین ممالک میں شامل تھے جنہوں نے عالمی سطح پر طالبان کی حکومت کوتسلیم کیا‘ وہ حکومت جسے اقوام متحدہ بھی اپنے تعصب کی بنیاد پر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی۔ پھر افغان کھلاڑیوں کی آنکھوں میں نفرت اور غصہ کہاں سے آیا۔ کیا یہ ایک احسان فراموش قوم ہے۔ یہ سوال مجھ سے لاتعداد لوگوں نے کیا اور میرا ایک ہی جواب تھا یہ شکست خوردہ لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مدتوں سے پاکستان Pakistan کے سیکولر‘ لبرل اور قوم پرست لوگوں سے گٹھ جوڑ رہا ہے۔ انہی کی طرح جب سوویت یونین سرخ انقلاب لا رہا تھا تو یہ سرخ سویرے کے پرچم بلند کرتے تھے۔ افغانستان Afghanistan میں دو سیاسی پارٹیاں تھیں‘ ایک ’’خلق اور دوسری ’’پرچم‘‘ اور دونوں کمیونسٹ نظریات کی حامل تھیں۔ دونوں کو افغان عوام ’’شوروی‘‘ کہتے تھے۔ روس Russia ان دونوں کے ساتھ داشتائوں والا کھیل کھیلتا تھا۔ کبھی ایک کو افغانستان Afghanistan کے تخت پر بٹھا دیا اور کبھی دوسرے کو۔ لیکن جیسے ہی سوویت یونین کو ذلت آمیز شکست ہوئی تو جس طرح امریکہ United States کو ہر وقت گالیاں دینے والے پاکستانی کمیونسٹوں نے امریکی بادشاہت کی چوکھٹ پر سجدہ کردیا اور وہ تمام دانشور سیاسی نابغے ایک دم سیکولر‘ لبرل اور جمہوریت پرست ہو گئے‘ ویسے ہی افغانستان Afghanistan کا گروہ بھی امریکی بالادستی کے سامنے سرتسلیم خم کر بیٹھا۔ افغانستان Afghanistan کا یہ سیاسی گروہ ہمیشہ کابل اور اس ملک کی فارسی بولنے والی اقلیت میں مقبول تھا۔ کابل صدیوں سے پورے افغانستان Afghanistan میں ایک جزیرے کی حیثیت رکھتا رہا ہے۔ افغانستان Afghanistan اپنی تہذیب و تاریخ کے حوالے سے ایک مکمل قبائلی معاشرہ ہے جسے اسلام کے زریں اصولوں نے ایک خاص تہذیبی و اخلاقی رنگ میں رنگ دیا ہے جبکہ کابل ہمیشہ سے ایک جدید‘ مغربی تہذیب سے متاثر اور ایرانی تصورات کے خوشہ چین China کے طور پر آباد شہر تھا۔ کس قدر حیران کن تضاد ہے کہ افغانستان Afghanistan کے پہاڑی راستوں میں آباد گائوں میں تو عورتیں برقعہ پوش نظر آتیں لیکن کابل میں آپ کو سڑکوں پر جینز اور سکرٹ میں ملبوس خواتین گھوتی پھرتی نظر آتیں۔ کابل کے شہریوں کا لائف سٹائل باقی افغانستان Afghanistan میں بسنے والی اکثریت سے بالکل مختلف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب افغانستان Afghanistan میں نور محمد ترکئی کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے خلاف مسجد و مدرسہ سے آواز اٹھنے لگی تو کابل میں بسنے والا یہ طبقہ فوراً اس کے خلاف ہوگیا۔ افغانستان Afghanistan سے جنگوں کے دوران دو طرح کی ہجرتیں ہوئیں۔ ایک عام افغان جو پاکستان Pakistan یا کسی حد تک ایران Iran چلے گئے‘ جبکہ دوسری ہجرت ان کابل کے باسیوں کی تھی جو جرمنی‘ فرانس‘ برطانیہ اور امریکہ United States میں جا کر آباد ہو گئے۔ انہیں بہرصورت اپنے لائف سٹائل کا تحفظ کرنا تھا۔ جیسا لائف سٹائل انہوں نے کابل میں بنا لیا تھا یا وہ جس کے عادی ہو چکے تھے ویسا تو صرف مغرب میں ہی میسر تھا۔ 1979ء کے دسمبر سے لے کر 2001ء کے دسمبر تک 22 سال افغانستان Afghanistan میں یہ لائف سٹائل کی جنگ چلتی رہی۔ پہلے یہ طبقہ روس Russia اور اس کے حواریوں کے جیتنے کی امیدیں لگائے ہوئے تھا اور پھر امریکہ United States ان کی آرزئوں کا مرکز بن گیا۔ گیارہ ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے سے ان کی امیدیں بر آئیں۔ امریکہ United States اور اڑتالیس دیگر ممالک نے کابل پر قبضہ کیا اور یہ سب کے سب واپس لوٹ آئے۔ قہوہ خانے آباد ہو گئے‘ رقص و سرود کی محفلیں شروع ہو گئیں۔ اب تو معاملہ دوآتشہ تھا۔ ایک تو کابل کو دوبارہ آباد کرنے کا عزم اور دوسرا یورپی تہذیب میں عمر گزارنے کا تجربہ۔ امریکی فوج نے ان سب کو نہ صرف کابل میں دوبارہ آباد کیا بلکہ ان کے سیاسی قائدین کی حکومت بھی اپنی افواج کی مدد سے قائم کردی لیکن یہ حکومت گزشتہ سترہ برس میں کابل اور اس کے گردونواح سے باہر مستحکم نہ ہوسکی۔ کابل کے باہر کا افغانستان Afghanistan طالبان کا تھا اور آج بھی ہے۔ کابل واحد شہر ہے جہاں انتہائی سخت سکیورٹی کے حصار میں یہ لائف سٹائل پروان چڑھتا ہے اور کرکٹ بھی اسی لائف سٹائل اور تہذیب کا حصہ ہے ورنہ امریکہ United States اور یورپ کی پشت پناہی سے بننے والی حکومتوں سے قبل افغانستان Afghanistan کرکٹ کے لفظ سے بھی ناآشنا تھا۔ کابل کی افغان حکومت کے اس لائف سٹائل کو تحفظ دینے میں بھارت India اور ایران Iran کا بہت بڑا کردار ہے۔ گزشتہ سال بھارت India نے تین بڑے معاہدے کئے اور تینوں عسکری نوعیت کے تھے لیکن انہیں سٹریٹجک معاہدوں کا نام دیا گیا۔ ایک افغانستان Afghanistan کے ساتھ‘ دوسرا ایران Iran اور تیسرا امریکہ United States سے۔ تینوں معاہدوں کا ہدف پاکستان Pakistan تھا اور اس کا بنیادی مقصد چین China کے اس خطے میں بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کو روکنا۔ اسی لیے افغانستان Afghanistan میں بھارتی Indian قونصلیٹ چاہ بہار chabahar کی بندرگاہ کا بھارتی Indian آپریشن اور امریکی ایٹمی ایندھن کی سپلائی‘ یہ سب ایک جال تھا جو پاکستان Pakistan کے گرد پھیلایاجارہا تھا لیکن گزشتہ دس ماہ میں طالبان کی پیش قدمی اور افغانستان Afghanistan کے ستر فیصد علاقے پر ان کے مکمل اختیار نے بوکھلا دیا۔ امریکہ United States نے مڑ کر دیکھا تو مسئلے کے حل کے لیے پاکستان Pakistan کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہ آیا۔ سعودی عرب Saudi Arabia کا سی پیک CPEC میں شامل ہونا‘ امریکی آشیر باد ہی تو ہے۔ یہ بدلتا ہوا موسم ہے جس کی وجہ سے بھارت India کا کردار ختم ہوتا نظر آ رہا ہے اور اگر ایک دفعہ یہ راہداری بن گئی تو پاکستان Pakistan کا تعلق جنوبی ایشیا نہیں بلکہ سنٹرل ایشیا سے مستحکم ہو جائے گا‘ ایسے میں امن کی ضمانت صرف طالبان سے کامیاب مذاکرات ہی دے سکتے ہیں۔ اربوں کھربوں ڈ الروں کا کھیل ہے اور یہ کھیل آگے نہیں بڑھ سکتا اگر پاکستان Pakistan کا کردار اہم اور بنیادی نہ ہو اور طالبان کا کردار افغانستان Afghanistan میں تسلیم نہ کیا جائے۔ یہ ہے وہ خوف جو بھارت India کے سفارتکاروں کو غضبناک کرتا ہے اور افغانستان Afghanistan کی کابل میں رہنے والی ایک فیصد مراعات یافتہ آبادی کو برہم کردیتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے کرکٹ کا میدان ہو یا تجارت‘ عسکری محاذ ہو یا سفارتی‘ ساری جنگ طرز زندگی‘ لائف سٹائل کی ہے اور یہی جنگ ہے جو انبیاء نے فرعون کے مصر اور مشرکین کے مکہ میں لڑی تھی۔

 333