غلبے کی جبلت کے مختلف انداز

ماجرا - بلال الرشید

19 ستمبر 2018

ghalbay ki jibillat ke mukhtalif andaaz

کرہ ٔ ارض پہ جب زندگی تخلیق کی گئی ‘تو خدا نے فرشتوں سے کہا کہ میں ان میں سے ایک کو اپنا نائب بنائوں گا۔ فرشتے حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یا اللہ!یہ مخلوقات تو ایک دوسرے کا خون بہاتی ہیں ۔ بھلا‘ ان میں سے کوئی تیرا نائب کیسے ہو سکتاہے ۔ ہم ہر وقت تیری تسبیح بیان کرتے ہیں (اور کسی قسم کی قتل و غارت نہیں کرتے )۔ اللہ تعالیٰ نے کہا : جو میں جانتا ہوں ‘ وہ تم نہیں جانتے ۔

فرشتوں کو اندازہ نہیں تھا کہ ان مخلوقات میں سے ایک کو کیسا دماغ ملنے لگا ہے ۔ اس میں جبلت کے ساتھ عقل بھی ہوگی ۔ خود غرضی کے ساتھ ایثار بھی ہوگا۔پیغمبروں کو تو چھوڑ دیجیے‘ عام انسانوں میں عبد الستار ایدھی جیسے لوگ پیدا ہونا تھے‘ جنہوں نے اپنی زندگیاں مخلوق کی نذر کر دینا تھیں ۔

زمین پہ زندگی کو ایسے پیدا کیاگیا ہے کہ ہر جاندار میں درد اور دوسرے عوامل کی وجہ سے اپنی جان کی شدید محبت رکھی گئی ہے ۔اس لیے زندہ رہنے کی خواہش بہت شدید ہے ۔ اس کے لیے مخلوقات ایک دوسرے کو چیر پھاڑ کے کھاجاتی ہیں۔ فرشتوں میں ایسی کوئی بھوک نہیں تھی‘ جس کی وجہ سے وہ زمین کی مخلوقات کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے ۔ اس کے علاوہ فرشتوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھی کوئی خواہش نہیں تھی ۔

مخلوقات صرف اپنی بھوک مٹانے کے لیے ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتیں ‘بلکہ اپنی برتری کا جھنڈا گاڑنے کے لیے بھی۔ انسان کو دیکھ لیجیے ۔ دوعظیم جنگیں ہمارے سامنے ہیں ۔ سوویت یونین اور امریکہ United States کے درمیان جو مقابلہ جاری رہا ‘ وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ جرمنی نے جس طرح دو بار دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجائی‘ وہ ہمارے سامنے ہے ۔ یہ غلبے کی جبلت ہے ۔ یہ ہر انسان میں انفرادی طور پر پائی جاتی ہے اور اجتماعی طور پر ہر قوم میں بھی موجود ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی امریکہ United States اور سویت یونین میں اس قدر لمبی سرد جنگ برپا نہ رہتی ۔بھارت India والوں کو دیکھ لیں ۔ مسلمان ہمیشہ اقلیت میں تھے‘ لیکن ہمیشہ حکومت کرتے رہے ‘ پھر انگریز آگیا ۔ جب وہ واپس جانے لگا اور جب پہلی بار انہیں مسلمانوں پر حکومت کا موقعہ نظر آیا تو بیچ میں اقبالؔ اور جناحؒ آگئے ۔ پاکستان Pakistan بن گیا۔ 7عشرے گزر چکے ہیں ‘ بھارت India والے آج بھی وہیں کھڑے ہیں ۔ ایک شدید احساسِ کمتری اور غلبے کی خواہش نے انہیں پاگل کر رکھاہے ‘ورنہ پاکستان Pakistan پہ تو کبھی وہ حکومت نہیں کر سکتے۔ غلبے کی خواہش میں انسان حقیقت کی دنیا سے بہت دور چلا جاتاہے ۔

غلبے کی یہ جبلت صرف انسانوں تک محدود نہیں ۔ ایک شیر کی موجودگی میں اگر لگڑ بگڑ اکٹھے ہو جائیں ‘تو وہ جارحانہ انداز میں اپنے پنجوں سے زمین پر لکیریں لگاتا ہے ۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ وہ اس علاقے کا مالک ہے ؛ لگڑ بگڑ اب نکلنے والی کریں ‘ اگر اپنی زندگی انہیں عزیز ہے تو ۔ جنگلی کتوں کے غول میں الفا میل (غالب نر) کے سامنے جب باقی کتے جاتے ہیں ‘تو انہیں اپنا سر اور دم نیچی رکھنی پڑتی ہے ورنہ اس گستاخی کا انجام بھگتنا پڑتا ہے ۔

انسانوں میں اس غلبے کی جبلت کے اندازانتہائی وسیع ہیں‘ کیونکہ انسان کا دماغ جو بہت وسیع ہے ۔ شادی بیاہ کے دوران برپا ہونے والی محفلوں میں انہیں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایک شخص کوئی بات کرتاہے ‘ جس پہ سب ہنس پڑتے ہیں ۔ اس پر ہنسانے والی کو تسکین ملتی ہے ۔ اس لیے کہ اس کی غلبے کی جبلت کو اس ہنسی کی صورت میں غذا ملتی ہے ‘ پھر بار بار وہ کوشش کرتاہے کہ انہیں ہنساتا رہے۔ دوسری طرف باقی صاحبان بھی اسی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ اس دوران وہ ایک دوسرے کی تحقیر بھی کر جاتے ہیں ۔ بعض اوقات ہمیشہ باقی رہنے والی دشمنی کی بنیاد پڑ جاتی ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک دفعہ جس شخص کی بات پر لوگ ہنس پڑیں ‘ وہ بار بار انہیں دوبارہ ہنسانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔ آخر کیوں ؟ ظاہر ہے کہ اسے لذت محسوس ہوتی ہے ۔

غلبے کی یہ جبلت انسان کو اس قدر مسرت سے نوازتی ہے کہ جس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ٹین ایج میں اکثر لوگ خیال ہی خیال میں ایسی situationsسوچتے ہیں کہ جن میں وہ خود کو دوسروں پر غالب دیکھتے ہیں ۔ ہو سکتاہے کہ وہ خود کو عالمی کرکٹ میں چھکے مارتے یا وکٹ اڑاتے ہوئے دیکھیں ۔ ہو سکتاہے کہ تصور کی آنکھ سے وہ خود کو لوگوں کو مارتے پیٹتے ہوئے دیکھیں ۔ ایسی situationsگو کہ حقیقت نہیں ہوتیں ‘ پھر بھی یہ سوچنے والے کو لذت دیتی ہیں۔ imaginationعقل کی مدد سے ہوتی ہے ۔ غلبے کی خواہش جبلت ہے ‘لیکن یہ جبلت اس imaginationکو استعمال کرنے لگتی ہے ‘ یعنی جبلت عقل کے سر پہ بندوق رکھ دیتی ہے ۔

یہی غلبے کی جبلت ہے اور طاقت کا اظہار ‘ جس میں لڑکے اگلا پہیہ اٹھا کرموٹر سائیکل چلانے لگتے ہیں ۔ گو کہ اس میں دوسری جبلتیں ‘مثلاً جنس مخالف کی کشش‘ بھی مل جاتی ہیں ۔ انسان کی بدن بولی بالکل ہی بدل کے رہ جاتی ہے ۔ وہ نشے میں محسوس ہوتاہے ۔

صحافیوں میں غلبے کی جبلت بہت متحرک ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ ان کا کام ہی حکومت کی غلط کاریوں پہ روشنی ڈالنا ہوتاہے ۔ اس دوران دوسروں کی کمزوریاں ان کے ہاتھ لگتی رہتی ہیں ۔ جب وہ مخلوقِ خدا کو ان کے حکمرانوں کے کرتوت دکھاتے ہیں‘ تو لوگ انہیں عقیدت بھری نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں ۔ ایک صحافی کا بیانیہ جہاں یہ ہوتا ہے کہ حکمران برے لوگ ہیں ‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ میں ایک ایماندار اور بہادر شخص ہوں ‘ جو کہ یہ سب آپ کے سامنے لا رہا ہوں ۔ لکھنے والے کا دعویٰ یہ بھی ہوتاہے کہ وہ پڑھنے والوں سے زیادہ جانتا ہے ۔ دوسروں سے زیادہ جاننے میں بھی غلبے کی جبلت انسان کو بھرپور تسکین مہیا کرتی ہے۔اسی طرح دوسروں سے منفرد اور اچھوتے خیالات پر مبنی تحریریں بھی انسان کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی ہیں ۔آدمی جائے تو بچ کے جائے کہاں ؟

غلبے کی یہ جبلت انسان کو اس قدر گمراہ کرتی ہے کہ جو شخص اپنا کما نہیں سکتا‘ وہ لوگوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے لگتاہے ۔ ایک دفعہ ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی ‘ جس نے نوجوانی میں ایک قتل کر دیا تھااور پھر کافی سال جیل میں گزارے۔ وہ شخص مسلسل اسی ذہنی رو میں تھا کہ میں بہت خطرناک بندہ ہوں ۔

یہی صورتِ حال نیکی کے کاموں کی ہے ۔ جب انسان نیکی کے ایسے کام کرتاہے ‘ جس میں مخلوق کا بھلا ہوتا ہے یا وہ غیر معمولی عبادت کرتاہے ‘تو بھی اس کے اندر اپنی نیکی کا خمار پیدا ہو جاتاہے ۔ ایک دفعہ میں ایک ایسے شخص سے ملا ‘ جس نے ایک لنگر بنایا تھا۔ وہیں بیٹھے ہوئے ‘ عبد الستار ایدھی کا ذکر آیا تو وہ شخص کہنے لگا: ہاں ‘ ایدھی بھی اچھا کام کر رہا ہے ۔ میں حیران رہ گیا ۔ یہ بات صاف ظاہر تھی کہ سوچ ہی سوچ میں ‘ وہ ایدھی صاحب سے اپنا موازنہ کرتا رہتا تھا ؛حالانکہ دونوں کا کوئی موازنہ بنتا نہیں تھا۔

علاج سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ انسان اپنی اصل اوقات یاد کرتا رہے ۔جب وہ برے حالوں میں تھا۔ اپنی ہر خوبی اللہ سے منسوب کر دے اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہے ۔اسے چاہیے کہ اپنی ریٹائرمنٹ ‘ اپنے بڑھاپے کو یاد کرتا رہے اور قبرستان میں دفن ماضی کے عظیم لوگوں پہ ایک نظر ڈالتا رہے !

 289