پاکستان Pakistan کسی کی جنگ نہیں لڑے گا

بات یہ ہے - ارشاد محمود

10 ستمبر 2018

pakistan ks k jang ni lare ga

چھ ستمبر یوم دفاع کی پروقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان Pakistan عمران خان Imran Khan نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اب پاکستان Pakistan کسی دوسرے ملک کی جنگ نہیں لڑے گا۔یہ بیان بظاہر ایک سیاسی لیڈر کی ماضی میں کی گئی تقریروں کا تسلسل لگتاہے لیکن حقیقت میں یہ وہ سبق ہے جو پاکستان Pakistan نے سات دہائیوں کے تجربات اور مشاہدے سے حاصل کیا ۔پاکستان Pakistan اور امریکہ United States کے درمیان دوستانہ تعلقات اور دفاعی معاہدوں کی اساس یہ تھی کہ پاکستان Pakistan کیمونزم بلکہ سابق سویت یونین کے خلاف عالمی اور مغربی اتحاد کا سرگرم حصہ ہوگا۔ اگرچہ پاکستان Pakistan اس اتحاد میںبخوشی شامل ہوا لیکن اس کا اصل مقصد مغربی نہیں بلکہ مشرقی سرحد کا دفاع تھا۔وہ ہتھیار اور عسکری تربیت حاصل کرکے بھارت India کے خلاف ایک ناقابل تسخیر دفاعی حصار کھڑا کرنا چاہتاتھا۔ امریکہ United States اور پاکستان Pakistan دومختلف سمتوں کے مسافر تھے لیکن سوویت یونین کے مشترکہ خطرے، بھارت India کے ساتھ ماسکو کی گہری شراکت داری اور بعدازاں سوویت یونین کے افغانستان Afghanistan پر حملے نے پاکستان Pakistan کو امریکہ United States کی جھولی میں گرادیا۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد تعلقات میں سردمہری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرحلے پر امریکہ United States پاکستان Pakistan کو دہشت گرد ممالک کی فہرست میں شامل کرنے والا تھا۔ توقعات کے برعکس امریکہ United States نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے پرپاکستان Pakistan کا ساتھ دینے کے بجائے اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ نائن الیون کے بعد بھی دونوں ممالک ایک ایسی جنگ میں شراکت دار بن گئے جہاں دونوں کی ترجیحات اور قومی مفادات میں گہرا تفاوت پایاجاتاتھا۔ امریکہ United States بھارت India کے افغانستان Afghanistan میں کردار کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتاہے بلکہ اس کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات بھی استوار کرچکاہے۔افغان سرزمین پاکستا ن کے خلاف مسلسل استعمال ہوئی لیکن امریکی اور اتحادی فوجیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل میں تعاون تو درکنار وہ بھارت India کا نقطہ نظر پاکستان Pakistan پر مسلط کرنے پر مضررہا۔ گزشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستان Pakistan نے بتدریج اپنا اسٹرٹیجک اور عالمی ویو تبدیل کیا۔دوستی اور دشمنی کے پیمانے کو بدلا۔ روس Russia کے ساتھ تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کو رفتہ رفتہ کم اور ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے باہمی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے کا عزم کیا۔ دونوں ممالک کی فوج اور دفاعی اداروں کے مابین اعتماد کی بحالی کے لیے متعدد قابل ذکر اقدامات کیے گئے ۔جنرل پرویزمشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل راحیل شریف اور اس سال اپریل میں جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa نے ماسکوکادورہ کیا۔روسی قیادت نے پاکستان Pakistan کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ پاکستان Pakistan کے کردار کی مسلسل تحسین بھی کی۔ طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور انہیں مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے کے حوالے سے دونوں ممالک میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ باالفاظ دیگر پاکستانی نقطہ نظر کو روس Russia نے زبردست پذیرائی بخشی۔ افغانستان Afghanistan میں داعش کے ابھرتے ہوئے خطرات نے بھی روس Russia ، ایران Iran اور وسطیٰ ایشیائی ممالک کو پاکستان Pakistan کے ساتھ تعاون اور مفاہمت پر آمادہ کیا تاکہ داعش کے خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیاجاسکے۔روس، ایران Iran اور پاکستان Pakistan کا خیال ہے کہ داعش کے ظہوراور مؤثر قوت بننے کے پس منظر میں مغربی ممالک کا ہاتھ ہے۔ شواہد بھی پیش کیے جاتے ہیں کہ ایک منظم منصوبے کے تحت داعش کو عراق Iraq اور شام سے براہ راست افغانستان Afghanistan پہنچایاگیاتاکہ طالبان کی قوت کو کمزور کرکے اسے وسطی ایشیائی ریاستوں، پاکستان Pakistan اور ایران Iran کے خلاف استعمال کیاجاسکے۔ چنانچہ اسی خطرے کے پس منظر میں جولائی کے دورے ہفتے میں اسلام آبادمیں روس، چین، ایران Iran اور پاکستان Pakistan کے خفیہ اداروں کا ایک غیر معمولی سربراہ اجلاس ہوا جس میں ان ممالک نے داعش کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور اطلاعات کے تبادلے پر غوروفکرکیا۔ روس Russia طالبان کی لیڈرشپ کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی شروع کرچکا ہے جس میں پاکستان Pakistan بھی شامل ہے۔ گزشتہ ماہ طالبان کے ایک وفد نے ازبکستان کا دورہ کیا ۔سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ روس Russia اور پاکستان Pakistan کی باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہ تھا۔روس Russia اور پاکستان Pakistan کے درمیان پیدا ہونے والی گرم جوشی کی بدولت پاکستان Pakistan کی مغربی سرحد پر گزشتہ ستر برسوں سے درپیش روسی خطرہ کا مفروضہ نہ صرف دم توڑچکا ہے بلکہ روسی حوصلہ افزائی سے وسطی ایشیائی ممالک میں پاکستان Pakistan سے تعاون اور خیرسگالی کا ایک جذبہ پایاجاتاہے۔وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان Pakistan کے دفاعی اور خفیہ اطلاعات کے تبادلے کا ایک میکنزم بھی ترتیب پاچکا ہے۔دفاعی ہتھیاروں کی خرید وفروخت کے علاوہ روسی ملٹری اکیڈمی میں پاکستانی افسروں کی تربیت کا آغاز بھی ہوچکاہے۔ . ایران Iran اور ترکی جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ ترکی امریکی حلیف ہی نہیں بلکہ گہرااسٹرٹیجک پارٹنر بھی تھا اب امریکہ United States سے نہ صرف دور ہوچکابلکہ روس Russia اور ایران Iran کے ساتھ مسلسل سفارتی اور معاشی تعلقات استوار کرنے میں لگاہوا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران Iran جو کل تک طالبان کے خلاف ایک سخت گیر موقف رکھتاتھا اب امریکی اس پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اور روس Russia طالبان کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ ایران Iran جو کل تک بھارت India کے ساتھ گہری قربت کا دعویٰ دار تھا اب بھارت India اور امریکہ United States کے درمیان فروغ پذیر تعلقات سے سخت پریشان اور متبادل حلیفوں کی تلاش میں ہے۔ بلکہ کہاجاتاہے کہ آج کل افغانستان Afghanistan کے حوالے سے پاکستان Pakistan اور ایران Iran دونوں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ نمل یونیورسٹی کے ڈاکٹر وقاض علی کوثر چند دن پہلے ایک ماہ کی فیلو شپ کے بعد امریکہ United States سے لوٹے توانہوں نے بتایا کہ امریکی اداروں میں مسلسل بحث ومباحثہ جاری ہے کہ کس طرح چین China کے مسلمانوں کی مدد کی جائے۔ حال ہی میں کانگریس اور سینٹ کے ارکان نے بھی اس موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یغور کی علیحدگی پسند تنظیم کا جھنڈ ا بھی واشنگٹن میں دیکھاجاسکتاہے۔ مغرب جب کسی ملک کو نکیل ڈالنے کا عمل شروع کرتاہے تو پہلے مرحلے میں اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے۔ میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے بروئے کار آتے ہیں۔ علمی ادارے جنہیں تھینک ٹینک کہاجاتاہے وہ سیناریو پیش کرتے ہیں۔اس کے بعد انتظامیہ یا سیاسی لیڈر شپ کانگریس کو استعمال کرتی ہے۔ پھر رفتہ رفتہ ایسے ممالک کو دنیا میں اچھوت بنادیا جاتاہے۔چین China کو بھی واشنگٹن میں ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔یوںچین China بھی امریکی رویہ سے کبیدہ خاطر ہے اور امریکہ United States کی سربراہی میں قائم عالمی نظام میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتارہتاہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے جنوبی اور وسطیٰ ایشیائی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب ہونے اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور کیا۔ اس خطے میں بھارت India اور افغانستان Afghanistan کے سوا کوئی ملک ایسا نہیں جو امریکہ United States کے ساتھ دوستی کا علم اٹھاتا ہو۔ پاکستان Pakistan کا بھی مکو ٹھپنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ حال ہی میں امریکہ United States نے عندیہ دیا کہ وہ آئی ایم ایف کو پاکستان Pakistan کو قرض فراہم کرنے کی حمایت نہیں کرے گا۔یہ ہے وہ پس منظر جس میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کہا کہ اب پاکستان Pakistan مزید کسی ملک کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی وزیرخارجہ کے دورے کے بعد یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتاہے کہ پاکستان Pakistan مشکلات کا مقابلہ کرنے اور امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کا فیصلہ کرچکاہے ۔اس فیصلے میں اسے علاقائی ممالک کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔علاوہ ازیں سول ملٹری لیڈرشپ میں بھی اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

 72