سینٹرل لندن کا ہوٹل

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

05 ستمبر 2018

centeral london ka hotel

خبر تو بہت بڑی تھی کہ نیب نے پاکستان Pakistan کی ایک بہت بڑی صنعتی شخصیت کو لندن میں خریدے گئے‘ ایک ہوٹل کے سلسلے میں طلب کر لیا۔ یہ ایک ایسا عمل ہوا ہے‘ جسے پر پاکستان Pakistan کے سیا سی ‘ صنعتی اور تجارتی حلقے حیرت زدہ ہیں۔خیریہ تو نیب کی انکوائری کے بعدپتہ چلے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ سینٹرل لندن کا یہ ہوٹل اور کلب‘ پاکستان Pakistan کی جس بڑی شخصیت نے خریداہے‘ اس کے بارے سننے میں آ یا کہ وہ ایک بہت بڑی صنعتی اور تجارتی شخصیت ہے‘ جسے ایک اہم ترین سیا سی شخصیت کے قریب ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور انہوں نے اس سیاسی شخصیت کے لیے سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کوSavills Gerard Nolanاینڈ پارٹنرز‘ برطانیہ کی پراپرٹی کمپنی کے ذریعے خریدا ہے۔ یادر ہے کہ جیسے ہی اس ہوٹل کی خریداری ہوئی‘ تو اس وقت بھی میں نے‘ ایک قومی اخبار میں اپنے ایک کالم میں اس کی خریداری کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا تھاکہ سات‘ آٹھ پارک پیلس ‘سینٹرل لندن میں واقع اس ہوٹل کی کل قیمت 60 ملین پائونڈز ہے‘جو اس وقت کی یورپی یونین کی کرنسی کے مطا بق70 ملین یورو بنتی ہے۔یہ رقم پاکستان Pakistan کی ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت کی جانب سے ادا کی گئی اور اس میں وہ رقم شامل نہیں‘ جو یہ سودا کروانے والی کمپنیوں کو بطورِ کمیشن اور حکومت ِبرطانیہ کو ادا کئے جانے والے ٹیکسوں کی صورت میں سینٹ جیمز ہوٹل اور کلب کو 2008ء میں دوبارہ کھولا گیا اور دو سال تک اس پر کام ہوتا رہا‘ تاکہ اس کو ایک بار پھر نئے سرے سے تیار کیا جائے ۔واضح رہے کہ یہ ہوٹل بکنگھم پیلس ‘ مے فیئر‘ پکا ڈلی اور گرین پارک کے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

ابتدا میں اس ہوٹل کو خریدنے کی ڈیل کو خفیہ رکھنے کی پوری کوشش کی گئی‘ لیکن لندن کی تاریخ کے اہم ترین معاملات کی طرح یہ سودا ہی ایسا تھا کہ برطانیہ بھر کی رئیل اسٹیٹ میں اس نے ایک ہلچل سی مچا دی۔ لوگ حیران ہو ئے کہ اس قدر بھاری قیمت پر یہ ہوٹل خریدنے والا کون ہو سکتا ہے؟ لندن کی پراپرٹی مارکیٹ سے متعلقہ لوگ سمجھتے رہے کہ لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ کا کوئی نو دولتی ہے‘ لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ اس خریدار نے کبھی بھی کچی گولیاںنہیں کھیلیں اور یہ سچائی اب اس ہوٹل کی مارکیٹ ویلیو خود ہی بتا رہی ہے اور یہ ہوٹل بیچنے والی کمپنی ‘جس کا دفتر 122 وگمور سٹریٹ لندن میں واقع ہے ‘کے علا وہ یو کے پراپرٹی کمپنی کے دفتر میں سجائی گئی فائلیں تصدیق کر رہی ہیں کہ آج اس کی قیمت کس قدر بڑھ چکی ہے ۔ جب یہ ہوٹل بیچا گیا ‘تو اس کے مینیجنگ ڈائریکٹرHenrik Muehle نے اس وقت کہا تھا کہ یہ ہوٹل متعلقہ سرمایہ کار گروپ کیلئےTroph asset ثابت ہو گا۔ اس ہوٹل کے فرنٹ کا ایک منظر تو بہت ہی پیارا ہے۔ ایک پرانے درخت کی سوکھی ہوئی ایک نہیں ‘بلکہ ارد گرد لٹکتی ہوئی کوئی 12 کے قریب ٹنڈ منڈ اور خشک شاخیں ‘اس کے چند کمروں کی کھڑکیوں کی جانب بڑھتی ہوئی عجب نظارہ پیش کرتی ہیں۔ لندن میں رہتے ہوئے‘ میراوہاں سے جب بھی گزر ہوتاااور میں جب بھی وہ منظر دیکھتا‘ تو مجھے وہ بہت بھلا لگتا۔امید ہے کہ وہ منظر اب بھی ویسا ہی ہو گا۔

ساٹھ ملین پائونڈز میں خریدے جانے والے اس ہوٹل کو‘ اگر آج کے پاکستانی روپے کے حساب سے دیکھا جائے ‘تو یہ رقم تقر یباً 10 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔ اب اگر آج سے دس سال قبل پاکستان Pakistan کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات کو سامنے رکھیں ‘تو بآسانی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ اس وقت پاکستان Pakistan کی مارکیٹ میں موجود اس قدر بھاری رقم کی بیرون ملک خریداری کرنے والے بہت ہی کم لوگ تھے اور اس قدر بیرونی انویسٹمنٹ کوئی بہت بڑا کاروباری شخص اکیلانہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر باہر نکلی‘ تو یہی ایک چیز ذہنوں میں بہت سے سوالات اٹھانے لگی کہ اس پردے کے پیچھے پاکستان Pakistan کی طاقتور شخصیت کون ہو سکتی ہے؟ کیونکہ بہت سے با خبر لوگوں کا شک پرائیویٹائزیشن کمیشن کی مہربانیوں کی جانب بھی اٹھنے لگا تھا کہ کہیں یہ سب کچھ اس کی مرہون منت تو نہیں ؟ ساٹھ ملین پائونڈ کوئی معمولی رقم نہیں‘ کیو نکہ اگر اس رقم کو ڈالرز کے حساب سے دیکھا جائے ‘توخریداری کے وقت جو کاغذات تیار کئے گئے تھے‘ ان کے مطابق یہ کروڑوں ڈالر بنتے ہیں۔صرف اتنا ذہن نشین کر لیں کہ پاکستانی شخصیت کی جانب سے سینٹ جیمز اینڈ کلب ہوٹل کا ایک کمرہ10 لاکھ پائونڈز میں خریدا گیا تھا اور اس ہوٹل کے کمروں کی کل تعداد60 سے کچھ زیا دہ ہے۔ کمروں کی حتمی تعداد تو ساٹھ ہے‘ لیکن بتایا جاتا ہے کہ کچھ اضافی لگژری اپارٹمنٹس بھی اس میں شامل ہیں۔

سات اور آٹھ پارک پیلس پر واقع سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کی دیکھ بھال کا انتظامAlthoff Hotels کی انتظامیہ کے پاس تھا ‘جو اسے بہت ہی خوش اسلوبی سے چلا رہی تھی ۔یہ ہوٹل اپنی انتظامیہ اور ہوٹل کی اندرونی اور بیرونی دیکھ بھال کی وجہ سے ظاہری طور پر بھی بہت خوبصورت نظر آتا ہے ۔ فائیو سٹار ہوٹل جو وکٹورین ٹائون ہائوسز کی طرز تعمیر کے ساتھ اس اضافی خصوصیت کا بھی حامل ہے کہ یہ کسی گزر گاہ پر نہیں‘ بلکہ سینٹ جیمز سٹریٹ پر واقع ‘ اس ہوٹل کی عمارت آخری سرے پر ہے اور آگے کی جانب گزرنے کیلئے کوئی اور راستہ نہیں اور یہ اپنے بلاک کے آخر پر واقع ہونے کی وجہ سے بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کی روانی سے محفوظ ہے اور یہ ایک اضافی خوبی سمجھی جاتی ہے ‘جو دنیا بھر کے سیا حوں اور کاروباری شخصیات کو اپنی جانب مائل کرتی ہے۔ پاکستان Pakistan کی اس کاروباری شخصیت کی اس ہوٹل کی خریداری میں دلچسپی اس وقت اور بھی بڑھ گئی‘ جب اسے معلوم ہوا کہ یہFreehold پراپرٹی ہے‘ جس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں‘ جنہیں لندن میں گھر بار یا کوئی بھی عمارت خریدنے کا کبھی اتفاق ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ہوٹل کی خریداری کے معاہدے پر تمام قانونی دستاویزات کی تکمیل کے بعد savills Hotels کے چیف ایگزیکٹو فلپ جانسن نے کہاکہ لندن اپنی شاندار روایات اور مضبوط مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہی بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا سبب رہا ہے اور اس ہوٹل کی فی کمرہ کے حساب سے ادا کی جانے والی رقم نے بے شک پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کو چونکا کر رکھ دیا تھا ۔

خیریاد رہے کہ جیسے ہی سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب کی خریداری کی خبر سامنے آئی ‘تو لوگ فلپ جانسن اور اس کی کمپنی '' سیولز ہوٹلز‘‘ کو اس کی بہترین ڈیل پر مبارکبادیں دینے لگے ‘کیونکہ ان سب کیلئے اس ہوٹل کی اس قدر بھاری پیشکش کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی تھی؟ وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے ستمبر 2009 میں اسی کمپنیsavills and gerard Nolan نےStafford Hotel کوصرف7 لاکھ40 ہزار پائونڈز میں بیچا گیا تھا اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لوگ حیران ہو رہے تھے کہ یہ خریدار تیل پیدا کرنے والے کسی ملک کا نہیں‘ بلکہ کسی غریب ایشیائی ملک سے تعلق رکھتاہے۔

لندن کے مذکورہ ہوٹل کی خریداری کیلئے تو نیب نے معروف کاروباری شخصیت کو طلب کر لیا ہے‘لیکن چیئر مین نیب سے گزارش ہے کہ آئس لینڈ کی سب سے بڑی چین China '' ہیگ کاپ گروپ‘‘ کو کس پاکستانی نے خریدا اور خریدنے کے بعد سب سے پہلے اس میں کام کرنے والے تمام پاکستانیوں کو نکال باہر کیا ۔یہ اربوں ڈالر کہاں سے آئے؟ اس بارے میں بھی تحقیق کرنا از حد ضروری ہے۔

 182