اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں پرمنی لانڈرنگ Money laundering کا کیس بنتا ہے: چیف جسٹس

03 ستمبر 2018

asasay zahir nah karne walonper money  laundering ka case bantaa hai : cheif justice

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان Pakistan جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ بیرون رقم کی واپسی کے حوالے سے پیشرفت پر مطمئن نہیں اور اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں پرمنی لانڈرنگ Money laundering کا کیس بنتا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان Pakistan کی سربراہی میں بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ عدالت میں پیش ہوئے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ لندن اتھارٹیز نے 225 لوگوں کی جائیدادوں کی معلومات ایف بی آر کو بھجوائیں جب کہ عدالتی معاون شبر زیدی نے بتایا کہ ایف بی آر نے 300 افراد کو بیرون ملک جائیدادوں پرنوٹس جاری کیے ہیں، زیادہ رقم حوالے کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بیرون رقم کی واپسی کے حوالے سے پیشرفت پر مطمئن نہیں، ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم اور جائیدادیں باہر پڑی ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ دبئی اتھارٹی سے کہیں گے جائیدادیں نہ ماننے والوں کے خلاف بے نامی قانون کے تحت کارروائی کریں، جنہوں نے جائیدادیں مان لیں ان سے ذرائع طلب کریں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہ لوگ ہیں جوپاکستان Pakistan میں رہتے ہیں اور باہر جائیداد بناتے ہیں؟ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ کی کمیٹی کے ٹی او آر سادہ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو پیسہ چوری کرکے باہر لے گئے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے اس معاملے پر 5 ماہ پہلے از خود نوٹس لیا لیکن پیشرفت سست ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں 2 فیصد ٹیکس رکھا گیا جو بہت کم تھا، انڈونیشیا Indonesia نے 17 فیصد ٹیکس رکھا وہاں یہ اسکیم کامیاب ہوئی، رپورٹ کےمطابق ایمنسٹی اسکیم سے لگ بھگ 8 ارب ڈالر billion dollor کی جائیداد ظاہر کی گئی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے طارق باجوہ سے مکالمہ کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک، تمام لوگ موجودہیں، 100 افراد کے نام دیں باقی کام ہم کرلیں گے، ایف بی آر سے بڑھ کر عدلیہ پاکستان Pakistan کی اسٹیٹ ہے، اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں پرمنی لانڈرنگ Money laundering کا کیس بنتا ہے۔

جسٹس عمر نے کہا کہ جنہوں نےنہ صرف یہاں بلکہ باہر اثاثے چھپائے انہیں سزادی جانی چاہیے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ عدالتی احکامات پر28 اگست کونوٹی فکیشن جاری ہوا اور ٹاسک فورس بنادی گئی جس میں ایف آئی اے، نیب، ایس ای سی پی اور وزارت خزانہ کےحکام شامل ہیں، حکومت کی نیت ہے قانون بنایا جائے جس سے غیر ممالک میں پڑی دولت واپس لائی جاسکے، حکومت عوام کے مفاد کو عدالت کی نگرانی میں خود دیکھنا چاہتی ہے، ہنڈی اور حوالہ کے امور پر آج وزیراعظم کو بریفنگ دی جارہی ہے اس لیے عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے دیکھ لے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ جنہیں نوٹسز جاری کیے گئے ان کی فہرست سربمہر لفافے میں پیش کی جائے اور اگر یہ نام افشا ہوئے تو ایف بی آر اور رجسٹرار سپریم کورٹ ذمے دار ہوگا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔

 79