ویل ڈن عمران خان

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

31 اگست 2018

welldone imran khan

حکومت کو آج 13دن ہو چکے ہیں‘ ہم اگر ان 13دنوں کے فیصلوں کو سیاسی اور انتظامی دو حصوں میں تقسیم کریں تو بڑی دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے شاہ محمود قریشی‘ اسد عمر اور غلام سرور خان کے علاوہ عمران خان Imran Khan کے تمام سیاسی فیصلے اور سیاسی تعیناتیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں‘ آپ دیکھ لیجئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہوں‘ وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان ہوں‘ وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان ہوں‘

وزیر ریلوے شیخ رشید ہوں‘ گورنر سندھ عمران اسماعیل ہوں یا پھر فواد چودھری کے گوگل خیالات ہوں پاکستان Pakistan تحریک انصاف کو ہر جگہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ یہ اللہ کا خصوصی کرم ہے وفاقی اور صوبائی کابینہ کے باقی ارکان ابھی میڈیا میں نہیں

آئے‘ یہ تاحال سکتے کے عالم میں اپنے گھروں اور دفتروں میں دبک کر بیٹھے ہیں‘ یہ لوگ بھی جس دن باہر آ گئے یا یہ میڈیا میں تشریف لانا شروع ہو گئے تو آپ اس دن شیخ رشید‘ عثمان بزدار اور فیاض الحسن چوہان کی عزت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے‘ آپ کے دل سے ان کےلئے تعریف نکلے گی‘ اصل شاہکار ابھی اندر بیٹھے ہیں‘ ابھی تو میرے دوست شاہ فرمان اور محمود خان کی باری نہیں آئی‘ یہ جس دن باہر آئیں گے قوم کو لگ پتہ جائے گا‘ پاکستان Pakistan تحریک انصاف کے چند وفادار عمران خان Imran Khan کو قائداعظم کا اصل وارث اور ثانی قرار دے رہے ہیں‘ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی چل رہی ہیں جن میں قائداعظم عمران خان Imran Khan کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہیں اور قائداعظم ثانی ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر صوفے پر بیٹھے ہیں‘ میں ان لوگوں سے تھوڑا سا اتفاق کرتا ہوں‘ قائداعظم کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ان کی پارٹی اور ان کے لوگ تھے اور قائداعظم ثانی بھی آج اسی چیلنج سے گزر رہے ہیں‘ پاکستان Pakistan اگر صرف قائداعظم اور ان کے ٹائپ رائیٹر نے بنایا تھا تو آج نئے پاکستان Pakistan کی تمام تر ذمہ داری عمران خان Imran Khan اور ان کے موبائل فون پر آپڑی ہے اور اگر

قائداعظم کی جیب میں چند کھوٹے سکے تھے تو آج قائداعظم ثانی کی جیب بھی کھوٹے سکوں سے بھری ہوئی ہے اور ہر سکے پر عامر لیاقت حسین جیسے لوگوں کی تصویر چھپی ہے لہٰذا مجھے محسوس ہوتا ہے جس طرح قائداعظم کے ساتھیوں نے وزارتوں اور عہدوں کےلئے قائداعظم اور قائداعظم کے پاکستان Pakistan کو نہیں چلنے دیا تھا بالکل اسی طرح قائداعظم ثانی کے ساتھی بھی انہیں اور ان کے نئے پاکستان Pakistan کو لے کر بیٹھ جائیں گے‘ یہ لوگ بھی عمران خان Imran Khan کو چلنے نہیں دیں گے‘

عمران خان Imran Khan اگر انہیں وزارتیں نہیں دیتے تو یہ عامر لیاقت حسین اور آفتاب جہانگیر کی طرح صدارتی انتخاب اور اہم بلوں پر ووٹنگ کے دوران حکومت کو بلیک میل کریں گے اور اگر عمران خان Imran Khan نے دباﺅ میں آ کر انہیں وزارتیں دے دیں تو یہ اختیارات مانگیں گے اور اگر اختیارات مل گئے تو یہ اپنی مرضی کے سیکرٹری‘ چیئرمین اور ڈی جی تعینات کرائیں گے‘ وزیراعظم نے اگر یہ مطالبے نہ مانے تو یہ وزارتوں سے استعفے دے دیں گے اور اگر وزیراعظم نے مجبور ہو کر ان کی ڈیمانڈز مان لیں تو یہ اپنی وزارتوں میں ایسے ایسے گل کھلائیں گے کہ قوم کو آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif فرشتے دکھائی دینے لگیں گے

چنانچہ مجھے آج پہلی بار عمران خان Imran Khan پر ترس بھی آ رہا ہے اور میں ان کےلئے دعا بھی کر رہا ہوں‘ یہ ملک کی آخری امید ہیں‘ ان کا کامیاب ہونا ہمارے لئے ناگزیر ہے‘ عمران خان Imran Khan کا ماضی ایک طرف لیکن یہ اب ملک کےلئے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اس وقت ممکن ہو سکے گاجب ان کی حکومت کھوٹے سکوں کے بوجھ سے بچ جائے گی۔ہم اگر اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور ہمیں اگر اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہے تو پھر ہمیں تنقید برائے تنقید سے اوپر اٹھ کر حکومت کے اچھے فیصلوں کو تسلیم بھی کرنا ہوگا اور ان کی تعریف بھی کرنا ہوگی‘

ہم جس طرح عمران خان Imran Khan کے زیادہ تر سیاسی فیصلوں کو غلط قرار دے رہے ہیں بالکل ہمیں اسی سپرٹ کے ساتھ ان کے اچھے انتظامی فیصلوں کی تعریف کرنا ہوگی‘ مجھے عمران خان Imran Khan کے 90 فیصد انتظامی فیصلے درست محسوس ہوتے ہیں‘ وزیراعظم نے سب سے پہلے محمد شہزاد ارباب کو اپنامشیربرائے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بنایا‘ یہ فیصلہ بہت اچھا تھا‘ شہزاد ارباب پشاور کی ارباب فیملی سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کے والد ارباب نیاز فوج میں کرنل تھے اور وہ جنرل ضیاءالحق کے دور میں کے پی کے میں سپورٹس کے وزیر رہے

جبکہ چچا ارباب جہانگیر وزیراعلیٰ تھے‘ یہ ڈی ایم جی افسر ہیں‘ سیکرٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں‘ ایماندار‘ ان تھک اور ذہین ہیں‘ یہ 2014ءمیں کے پی کے میں چیف سیکرٹری تھے‘ یہ پرویزخٹک کے غیر قانونی کاموں پر بطور احتجاج اپنے عہدے سے سبک دوش ہو گئے تھے‘ شہزاد ارباب نے 11 اپریل 2014ءکو پرویز خٹک کی ”بیڈ گورننس“ پر ایک اوپن خط لکھا تھا‘ یہ خط آج بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے اور یہ ان کی ایمانداری اور بے خوفی کا ثبوت ہے‘

یہ آصف علی زرداری کے ایڈیشنل سیکرٹری اور نواز شریف Nawaz Sharif کے سیکرٹری کامرس رہے ہیں‘ یہ فاٹا ریفارمز کمیٹی کے سیکرٹری بھی تھے اور انہوں نے سرتاج عزیز کے ساتھ مل کر فاٹا کے انضمام کا بندوبست کیا تھا‘ یہ 2017ءمیں ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان Pakistan تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور ابتدائی سو دن کا ایجنڈا بنایا‘ یہ عمران خان Imran Khan کی بہت اچھی چوائس ہیں‘ یہ اب اہم عہدوں پر اہم بیورو کریٹس تعینات کر رہے ہیں‘ شہزاد ارباب نے میاں اسد حیاءالدین کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج پٹرولیم بنایا‘ یہ 15 کامن کے ٹاپر ہیں‘

یہ فلیچر سکول بوسٹن سے پی ایچ ڈی ہیں اور یہ بھی ایماندار اور ماہر افسر ہیں‘ یہ نواز شریف Nawaz Sharif کے دور میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ تھے‘ ڈاکٹر اعجاز منیر کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بنایا گیا‘ یہ 16 کامن کے ٹاپر ہیں‘ یہ نواز شریف Nawaz Sharif کے ایڈیشنل سیکرٹری اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کے دور میں پنجاب میں سیکرٹری ہیلتھ‘ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن اور سیکرٹری سروسز رہے‘ محمد سلیمان خان کو آئی بی کا ڈی جی بنایا گیا‘ یہ15 کامن کے پولیس افسر ہیں‘ بنوں کے رہنے والے ہیں‘ سابق ڈی جی آفتاب سلطان کی ٹیم میں شامل تھے‘

یہ نواز شریف Nawaz Sharif کے دور میں کے پی کے میں آئی بی کے سربراہ رہے‘ انہوں نے اس دور میں دہشت گردی کے بے شمار نیٹ ورک توڑے‘ شاہد خاقان عباسی نے انہیں 7مئی کو آئی بی کا ڈی جی لگایا تھا لیکن انہیں نگران وزیراعظم نے پاکستان Pakistan تحریک انصاف کے مطالبے پرعہدے سے ہٹا دیا تھا‘ عمران خان Imran Khan نے انہیں اب دوبارہ ڈی جی بنا دیا‘ یہ فیصلہ بھی میرٹ پر ہوا اور اچھا ہوا اور چوتھی اور اہم تعیناتی ڈاکٹر جہانزیب خان کو ایف بی آر کا چیئرمین بنانا ہے‘ یہ کمال انسان ہیں‘

یہ انتہائی ایماندار‘ مہذب‘ پڑھے لکھے اور تجربہ کار ہیں‘ یہ بزنس فرینڈلی بھی ہیں‘ یہ پیرس میں پانچ سال کمرشل قونصلر رہے‘ پاکستان Pakistan کی تاریخ میں آج تک پیرس میں ان سے اچھا کمرشل قونصلر نہیں گزرا‘ یہ چار فرنچ کمپنیوں کو سرمایہ کاری کےلئے پاکستان Pakistan لائے تھے‘ یہ صدر سرکوزی اور ان کے خاندان کا حصہ بن گئے تھے‘ صدر سرکوزی نے مئی 2009ءمیں صدر آصف علی زرداری کو مشورہ دیا تھا آپ ڈاکٹر جہانزیب کو فرانس میں سفیر بنا دیں‘

صدر زرداری نے آرڈر جاری کر دیئے لیکن یہ فارن آفس کی مخالفت کی وجہ سے سفیر نہ بن سکے‘ یہ دس سال پنجاب میں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ٹیم کاحصہ رہے‘ یہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین بھی تھے‘ یہ توانائی کے منصوبوں کےلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی تھے اور یہ سیکرٹری لائیوسٹاک بھی رہے‘ یہ سی پیک CPEC کے توانائی کے تمام منصوبوں کے آرکی ٹیکٹ ہیں‘ ڈاکٹر جہانزیب نے پنجاب میں ٹیکس کولیکشن میں تین گنا اضافہ کیا تھا چنانچہ یہ ہر لحاظ سے ایف بی آر کے چیئرمین بننے کے اہل ہیں‘

آپ انہیں ایک سال دے دیں مجھے یقین ہے یہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کےلئے دوسرے عبداللہ یوسف ثابت ہوں گے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ آدھی دنیا دیکھ چکے ہیں‘ یہ کاروبار‘ سرمایہ کاری اور صنعت کاری کو سمجھتے ہیں‘ یہ پنجاب میں دس سال کام کر چکے ہیں‘ یہ مثبت ذہنیت کے مالک ہیں ‘ یہ دوسروں کی بات تحمل اور بردباری سے سن لیتے ہیں اور یہ جائز اور ناجائز کی تفریق بھی سمجھتے ہیں چنانچہ یہ واقعی ٹیکس سسٹم میں تبدیلی لے آئیں گے اور آخری تعیناتی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں‘

یہ بھی انتہائی ایماندار‘ پڑھے لکھے‘ محنتی اور ماہر ہیں تاہم یہ گرم مزاج ہیں لیکن آپ ان کی گردن پر بندوق رکھ کر بھی غلط کام نہیں کرا سکتے‘ یہ ہاں یا ناں کا فیصلہ بھی فوری کرتے ہیں‘ یہ فائل میز پر رکھ کر ”کل آ جائیے“ نہیں کہتے اور یہ آج کے دور میں چھوٹی خوبی نہیں۔عمران خان Imran Khan کی اس انتظامی ٹیم پر دو اعتراض کئے جا رہے ہیں‘ پہلا اعتراض یہ لوگ پشتون ہیں‘ عمران خان Imran Khan نے سیاسی عہدے پنجابیوں اور انتظامی پوزیشنیں پشتونوں میں تقسیم کر دی ہیں‘ وغیرہ وغیرہ‘

یہ اعتراض غلط ہے‘ ہمیں اب ذہنی اور اخلاقی لحاظ سے میچور ہو جانا چاہیے‘ ہمیں اب پنجابی‘ سندھی‘ پٹھان‘ بلوچی اور کشمیری کی تقسیم سے بھی باہر آ جانا چاہیے‘ ہمیں لوگوں کو صرف اور صرف میرٹ پر دیکھنا چاہیے اور یہ تمام لوگ میرٹ پر ہیں‘ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں‘ ایماندار بھی‘ محنتی بھی اور پرفارمر بھی چنانچہ یہ جہاں سے بھی ہوں ہمیں اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور دوسرا اعتراض یہ لوگ شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ٹیم تھے‘ مجھے اس اعتراض پر بھی اعتراض ہے‘ یہ شہباز شریف Shehbaz Sharif نہیں پاکستان Pakistan کی ٹیم تھے‘ یہ آج بھی پاکستان Pakistan کی ٹیم ہیں‘ یہ سپیریئر سول سروس Russia کا حصہ ہیں اور یہ سروس Russia کسی کی ذاتی جاگیر نہیں‘

شہباز شریف Shehbaz Sharif نے پورے ملک سے چن چن کر افسر اپنی ٹیم میں شامل کئے تھے‘ یہ لوگ دس سال پرفارم کر کے ٹرینڈ ہو چکے ہیں‘ عمران خان Imran Khan اگر آج انہیں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی وجہ سے مسترد کر دیتے ہیں تو یہ بہت بڑی غلطی ہو گی‘ میں سمجھتا ہوں عمران خان Imran Khan نے ان لوگوں کا انتخاب کر کے عقل مندی اور وسیع القلبی کاثبوت دیا چنانچہ میں ان کے انتظامی فیصلوں پر ویل ڈن کہنے پر مجبور ہو رہا ہوں‘ ویل ڈن عمران خان‘آپ اگرباقی سرکاری محکموں میں بھی ان لوگوں جیسے لوگ لے آئے تو آپ واقعی کامیاب ہو جائیں گے‘آپ واقعی نیا پاکستان Pakistan بنا لیں گے ۔

 345