ٹرائل نواز شریف Nawaz Sharif کا بھی تو عدلیہ کا بھی

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

14 اگست 2018

trial Nawaz shareef ka bhi to adliya ka bhi

میاں نواز شریف، مریم نواز Maryam Nawaz اور کیپٹن صفدر احتساب عدالت کے ایک ناقص فیصلہ کی بنا پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ یہ فیصلہ ناقص ہے یہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ پاکستان Pakistan کے نامور قانون دان اسے ایک ایسا فیصلہ تصور کرتے ہیں جس کا نہ تو قانونی طور پر دفاع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس فیصلہ پر عدلیہ فخر کر سکتی ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری جو نواز شریف Nawaz Sharif حکومت کے سخت مخالف رہے، جنہوں نے پاناما کیس میں نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس بھی بھیجا، اُنہوں نے بھی اپنے ایک ٹی وی انٹر ویو میں کہا کہ فیصلہ ناقص ہے اور یہ بھی کہ نیب نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف کیس میں شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ احتساب عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ تسلیم کیا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف کرپشن کرنے کا ثبوت نہیں ملا اور یہ بھی کہ نیب یہ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا کہ لندن فلیٹس کرپشن کے پیسہ سے بنائے گئے۔ اس بنیادی الزام سے بری کرنے کے بعدعدالت نے یہ بھی مانا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف نیب کوئی ٹھوس ثبوت نہیں فراہم کر سکا کہ لندن فلیٹس کے نواز شریف Nawaz Sharif مالک ہیں لیکن حیران کن انداز میں عدالت نے نیب کی طرف سے پیش کیے گئے مفروضہ کا باقائدہ ذکر کیا کہ چونکہ لندن فلیٹس میں نواز شریف Nawaz Sharif اور اُن کے مرحوم والد میاں شریف رہتے رہے جس سے ثابت ہوا کہ نواز شریف Nawaz Sharif ہی ان فلیٹس کے مالک ہیں۔ اس مفروضہ کی بنا پر نواز شریف Nawaz Sharif کو لندن فلیٹس کا مالک ’’ثابت‘‘ کرتے ہوئے عدالت نے سزا کا حکم سناتے ہوئے کہا کہ لندن فلیٹس کے مالک نواز شریف Nawaz Sharif چونکہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اُنہوں نے یہ فلیٹس کیسے خریدے اس لیے انہیں اس بنا پر سزا دی جاتی ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے کئی قانون دان حیران ہیں کہ اگر کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو پھر آمدن سے زائد اثاثہ رکھنے کے جرم میں کیسے سزا دی جا سکتی ہے اور یہاں تو نواز شریف Nawaz Sharif اور لندن جائیداد کا تعلق بھی مفروضہ کی بنا پر جوڑا گیا۔ احتساب عدالت کے اس فیصلہ میں کہیں تین سو ارب کی کرپشن کا کوئی ذکر نہیں نہ ہی کہیں منی لانڈرنگ Money laundering کی کوئی بات کی گئی۔ چند ہفتہ قبل احتساب عدالت کے اس ناقص فیصلہ کو معطل کرنے کی اپیل اسلام آباد Islamabad ہائی کورٹ میں نواز شریف، مریم نواز Maryam Nawaz اور کیپٹن صفدر کی طرف سے دائر کی گئی۔اسلام آبادہائی کورٹ اس کیس میں کبھی ایک بنچ بنتا ہے تو کبھی دوسرا۔ ابھی تک نواز شریف Nawaz Sharif وغیرہ کی طرف سے دائر کی گئی کچھ دوسری درخواستوں کو تو سنا گیا لیکن احتساب عدالت کے اس ناقص فیصلہ کو معطل کرنے کی درخواست کو ہائی کورٹ نے نہیں سنا۔ پاکستان Pakistan کی سیاست اور آئین و قانون کے حوالہ سے جانے والا ایک نامور نام وسیم سجاد کا ہے۔ وسیم سجاد صاحب سیاسی طور پر نواز شریف Nawaz Sharif اور ن لیگ کے مخالف ہیں۔ وسیم سجاد کے مطابق عام حالات میں عدالتیں ضمانت کے مقدمات کی سماعت پہلے کرتی ہیں کیونکہ ایسی صورتحال میں ملزم یا مجرم جیل میں ہوتے ہیں جبکہ اس کیس میں مجرموں نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا تھا۔ وسیم سجاد کے مطابق کیپٹن صفدر کو چونکہ ایک سال کی سزا سنائی گئی اس لیے اُن کی ضمانت کاتو کوئی مسئلہ نہیں۔ مریم نواز Maryam Nawaz کے بارے میں وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ مریم کو سات سال کی سزا ہوئی لیکن خاتون ہونے کی وجہ سے اُنہیں ضمانت دی جا سکتی ہے جبکہ نواز شریف Nawaz Sharif کے دل کی مرض کی شدت دیکھتے ہوئے اُنہیں بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ وسیم سجاد صاحب نے اس کیس کے میرٹ پر بات ہی نہیںکی۔ سینئر وکیل بابر ستار نے اس احتساب عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

’’بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ اُس وقت قانون کا مقصد فوت ہوجاتا ہے جب قانونی طریق کار، قانون کی نرمی اور چالاک وکلا کی وجہ سے وہ افراد بھی بچ نکلتے ہیں جن کے بارے میں ’ہر کوئی‘ جانتا ہے کہ وہ بدعنوان اور مجرم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بُرے آدمی کو ہر قیمت پر سزا ملنی چاہیے، خواہ اس کے لیے قانونی طریق کار اور طے شدہ اصول و ضوابط میں کچھ تبدیلی کیوں نہ کرنی پڑے۔ جب یہ سوچ غالب اور فعال ہو جائے تو پھر فیصلوں کے نتائج بہت حد تک واضح ہو جاتے ہوں گے، یہ اور بات ہے کہ ان میں قانونی استدلال موجود نہیں ہو گا۔ نیب عدالت کا فیصلہ اسی کیٹیگری میں آتا ہے۔ اس میں قانونی استدلال ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ یہ بڑی حد تک اُس قیاس اور تاثر کا نتیجہ ہے جو نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف میڈیا ٹرائل نے پیدا کیا ہوا تھا۔‘‘

بابر ستار نے درست کہا کہ فیصلہ تو میڈیا ٹرائل کے ذریعے پیداکیے گئے تاثر کا نتیجہ ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ کیا پاکستان Pakistan کے عدالتی نظام میں واقعی فیصلہ قانون اور شواہد کی بجانے کھا گئے، لوٹ کے لے گئے تین سو ارب روپے کی کرپشن کر گئے جیسے تاثر کی بنیاد پر ہی کیے جائیں گے۔ اس کا فیصلہ بھی عدلیہ کو ہی ہی کرنا ہے۔ اس کیس سمیت، سیاسی فیصلے دراصل عدلیہ کا ٹرائل ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس ٹرائل میں عدلیہ کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟

 103