بیانیہ کس باغ کی مولی ہے؟

کٹہرا - خالد مسعود خان

14 اگست 2018

bayaniya kis baagh ki mooli hai ?

اس وقت ملک میں بیانیے کی ''بھسوڑی‘‘ پڑی ہوئی ہے۔ اور یہ بھسوڑی میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور اس کے سیاسی مخالفین سے زیادہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کے حامیوں کے درمیان ہے۔ میرا خیال ہے درج بالا فقرہ تھوڑا غلط ہو گیا ہے۔ یہ بیانیے والی بھسوڑی میاں نواز شریف‘ اس کے حامیوں اور اکیلے میاں شہبازشریف کے درمیان پڑی ہوئی ہے۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کا فی الوقت کوئی ساتھی نظر تو نہیں آ رہا‘ لے دے کے ایک چوہدری نثار علی خان تھے۔ قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں ان کی جیپ کے ٹائر صرف پنکچر نہیں ہوئے‘ بلکہ بری طرح پھٹ گئے تھے اور اب وہ خاموشی سے اپنی ایک صوبائی نشست پر اپنی آزاد حیثیت رکھ کر عزت بچا رہے ہیں۔ باقی رہے نام اللہ کا۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنے بیانیے سمیت اکیلے ہیں۔ رہ گیا ‘حمزہ شہباز تو وہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کے بغیر ٹکے کا نہیں ہے۔ ایسے بعض لوگ شہباز شریف Shehbaz Sharif کے لیے بوجھ ‘یعنی Liability قرار دیتے تھے۔ اب وہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔

اب مسلم لیگ کے حامی وہ بات کہہ رہے ہیں‘ جو مسلم لیگ کے ناقدین کہا کرتے تھے‘ اور وہ لوگ جو اب یہی بات کہہ رہے ہیں‘ تب ایسی باتیں کرنے والوں کے لتے لیا کرتے تھے۔ میں نے ایک دن مسلم لیگ ن کے بڑے توپ قسم کے حامی ایک صحافی سے محض اپنی معلومات میں اضافے کے لیے پوچھا کہ کیا میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کے درمیان کوئی سوچ کا ‘ پالیسی کا یا سیاسی فکر کا کوئی اختلاف ہے؟ وہ صحافی بڑے زور سے ہنسا اور کہنے لگا: یہ بھی سیاست ہے۔ میاں! یہ جو آپ کو بظاہر دو مختلف نقطہ نظر کی سیاسی سوچ ان دونوں بھائیوں کے درمیان نظر آ رہی ہے‘ یہ دراصل آپ کی سمجھ سے باہر ہے۔ دونوں بھائیوں نے اس طرح ہر دو طرح کی سوچ رکھنے والے اپنے سیاسی مقلدین کو انگیج کر رکھا ہے۔ انقلابیوں اور جوشیلے فسادیوں کو میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif نے اپنے نقطہ نظر کا اسیر کر رکھا ہے اور دھیمے مزاج کے صلح جو سیاسی ورکروں کو میاں شہباز نے اپنی فکر سے باندھ رکھا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دو قطبین والوں کو دونوں بھائیوں نے ایک پارٹی سے منسلک کر رکھا ہے۔ ایمانداری کی بات ہے میں خود اس دلیل سے قائل ہو گیا۔ ہماری سیاست میں کیا نہیں ہوتا؟ ایک بھائی ایک طرف سے الیکشن لڑ رہا ہے اور دوسرا دوسری پارٹی سے۔ نتیجہ یہ کہ کوئی بھی ہارے یا جیتے۔ اسمبلی کی رکنیت بہر حال گھر میں رہے گی۔

دل کا وسوسہ چین China نہیں لینے دیتا۔ لاہور گیا تو ایک اور دوست صحافی سے یہی سوال کر مارا۔ ہمارا یہ دوست صحافی میاں صاحبان کے بڑا قریب ہے اور قریب کیا؟ اندر کا بندہ ہی سمجھیں۔ دونوں بھائیوں سے قریبی تعلقات‘ تاہم ہر اس شخص کی طرح جو کسی حوالے سے بھی مسلم لیگ سے ہمدردی‘ محبت یا تعلق رکھتا ہے‘ مسلم لیگ کی لیڈر شپ بلا شرکت غیرے و اپنے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے سر سجاتا ہے۔ ہمارا یہ دوست صحافی بھی میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کو کسی لیڈر کی بجائے اپنے لیڈر کا برادرخورد سمجھتا ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آج کل فیملی میں (میاں صاحب کی)دو کیمپ ہیں۔ ایک طرف میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif ہے اور دوسری طرف میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور حمزہ شہباز شریف Shehbaz Sharif ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ میری بات سن کر یہ والا دوست بھی پہلے والے کی طرح ہی زور سے ہنسا ‘لیکن اس کا جواب بالکل مختلف تھا۔ کہنے لگا: ممکن ہے مریم نواز Maryam Nawaz اور حمزہ شہباز کی حد تک یہ بات تھوڑی بہت درست ہو کہ کزن وغیرہ کی آپس میں مقابلہ بازی ہو جاتی ہے‘ لیکن میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف سوچیں! آپ کو ان دونوں بھائیوں کی باہمی محبت اور تعلق کا اندازہ ہی نہیں۔ جو لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں ‘وہ دراصل دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان ایسی کوئی بات نہیں۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif صرف میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا چھوٹا بھائی ہی نہیں ‘بلکہ برخوردار ہے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا کتنا احترام کرتا ہے۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif بعض اوقات اسے باقاعدہ ڈانٹ پلاتا ہے‘ جھڑکتا ہے‘ دبکے مارتا ہے۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif سر جھکائے ایسے سب کچھ سنتا ہے‘ جیسا کوئی نہایت ہی تابعدار بیٹا‘ اپنے باپ کی ڈانٹ ڈپٹ سنتا ہو۔ میں نے پوچھا :تو کیا یہ سب افواہیں ہیں؟ وہ دوست کہنے لگا: بالکل افواہیں ہیں۔ پھر اس دوست نے قربت اور محبت پر مبنی ایک پنجابی محاورہ بولا۔ کہنے لگا : خالد صاحب! دونوں کا یہ حال ہے کہ ''ان کے درمیان سے ہوا نہیں گزرتی‘‘۔ اب وہی دوست بیانیے کے اختلاف پر میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ مسلم لیگ‘ اس کے حامی‘ اس کے ووٹر اور سپورٹر‘ سب کے سب میاں نواز کے ساتھ ہیں۔ اس کے بیانیے کو سنے بغیر‘ اسے سمجھے اور تسلیم کیے بغیر‘ غیر مشروط‘ مسلم لیگوں کے نزدیک میاں نواز شریف Nawaz Sharif ان کا ''بھٹو‘‘ ہے‘ جس کے سامنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی کل حقیقت یہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا بھائی ہے۔ اگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif اس کے اوپر ہاتھ رکھ دیں‘ تو ہما‘ اگر ہاتھ اٹھا لیں تو بوم‘ لیکن اس میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا بیانیہ کہاں سے آ گیا؟ لوگ تب بھی اس کے ساتھ تھے‘ جب وہ چالیس صندوق‘ صدیق پہلوان اور گھر والوں کو لے کر بغیر کسی کو اطلاع دیئے یا اعتماد میں لیے جدہ چلا گیا تھا۔ لوگ اس وقت بھی اس کے ساتھ تھے ‘جب وہ جلا وطنی کے کسی دس سالہ معاہدے سے مکمل انکار کرنے کے باوجود اس کی موجودگی مان بھی گئے اور اس کے تحت دوبارہ پاکستان Pakistan سے سعودیہ بھجوا دیئے گئے‘ لیکن ان سے محبت کرنے والے ان سے جڑے رہے۔ میاں صاحب نا اہل ہوئے ان سے محبت کرنے والے ان کے ساتھ رہے۔ میاں صاحب لندن گئے۔ تمام تر افواہوں کے باوجود وہ آ گئے‘ ان کے چاہنے والے ان کے ساتھ رہے۔ کسی کو ان کے بیانیے سے غرض نہ تھی۔ جب وہ اسٹیبلشمنٹ تابعدار تھے‘ تب انہیں ایک کروڑ اڑتالیس ووٹ ملے (الیکشن 2013ئ) اور اس الیکشن میں انہیں ایک کروڑ انتیس لاکھ ووٹ ملے‘ یعنی انہیں 2013ء کے مقابلے میں 2018ء کے الیکشن میں 19لاکھ ووٹ کم ملے‘ تو بیانیے کی مقبولیت کہاں گئی؟ خواجہ سعد رفیق کو کسی نے بیانیے کی وساطت سے نہیں‘ شیر کی وساطت سے ووٹ دیئے‘ یہی حال حمزہ شہباز کا تھا اور یہی شہباز شریف Shehbaz Sharif کا۔ جنوبی پنجاب میں اس بیانیے کو مقبولیت تو کیا ملتی‘ الٹا نقصان کا باعث بنا۔

میں بیرون ملک تھا اور میری ملاقات ایک نہایت معتدل‘ نرم خو‘ صلح جو اور ''بیببے‘‘ صحافی دوست سے ہوئی۔ وہ بھی اندر سے میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے محبت کرنے والے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ مانیں یا نہ مانیں‘ آپ یہاں میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے شیدائی ہیں۔ وہ کہنے لگے: آپ نے درست کہا۔ میں نے کہا: آپ کو میاں صاحب کی نا اہلی کا دکھ ہے۔ وہ بولے: یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا: آپ کو میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی نا اہلی سے زیادہ دکھ یہ ہے کہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif ابھی تک پکڑ میں نہیں آئے اور آپ کی خواہش ہے کہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif بھی نا اہل ہو جائیں یا اندر ہو جائیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے: آپ کی یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے۔

ہمارے ہاں قوم بیانیے کو چھوڑیں‘ بیان کو نہیں دیکھتی۔ ان کا لیڈر اسمبلی میں جھوٹ بولے‘ کسی کی محبت کم نہیں ہوتی۔ ان کا قائد ٹیلی ویژن پر جھوٹ بولے: کسی چاہنے والے کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔ وعدہ کر کے مکر جائیں اور کہیں کہ وعدے قرآن Quran و حدیث نہیں ہوتے ‘کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔ یہ بیانیہ کس باغ کی مولی ہے؟

 324