قومی اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھالیا

13 اگست 2018

qaumi assembly ke no muntakhib arakeen ne halaf athalya

اسلام آباد: 15 قومی اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا جن سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حلف لیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس نگران وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کی سفارش پر صدر مملکت نے 13 اگست کو بلانے کی منظوری دی۔

اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا

ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا اور تمام اراکین نے بصد احترام کھڑے ہوکر قومی ترانہ سنا جس کے بعد تلاوت کلام پاک کی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اجلاس کے آغاز میں نومنتخب اراکین کو مبارکباد دی اور حلف کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔

ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے 15 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا اور طریقہ کار بھی بتایا۔

اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے نو منتخب اراکین اسمبلی سے حلف لیا جس کے بعد اراکین کی جانب سے رول آف ممبرز کے رجسٹر پر دستخط کیے گئے۔

اسمبلی رجسٹر پر حروف تہجی کے تحت دستخط کیے گئے اور آصف زرداری نے سب سے پہلے رجسٹر پر دستخط کیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی PTI عمران خان Imran Khan جب دستخط کرنے آئے تو اسمبلی میں موجود تحریک انصاف کے ارکان نے ان کے حق میں نعرے لگائے اور وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے نعرے لگائے گئے۔

بعد ازاں رولز آف ممبر پر دستخط مکمل ہونے کے بعد تمام اراکین اسمبلی سے واپس روانہ ہوگئے اور اسپیکر ایاز صادق نے اجلاس 15 اگست کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، آصف زرداری، بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، شفقت محمود، شہبازشریف، خالد مقبول صدیقی، رانا ثناءاللہ، نوید قمر اور دیگر اراکین قومی اسمبلی میں موجود تھے۔

عمران خان، زرداری اور شہبازشریف نے مصافحہ نہیں کیا

عمران خان، آصف زرداری اور شہبازشریف نے انتہائی قریب رہتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا۔

عمران خان Imran Khan قائدایوان کے لیے مخصوص نشست کے ساتھ والی نشست پر براجمان تھے جب کہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نفیسہ شاہ کے ساتھ والی نشست پر موجود تھے، سابق صدر آصف زرداری سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ بیٹھے جب کہ شہبازشریف، احسن اقبال اور رانا تنویر ساتھ ساتھ بیٹھے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری پہلی بار قومی اسمبلی میں آئے اور انہوں نے عمران خان Imran Khan کی نشست پر جاکر ان سے ملاقات کی جب کہ دونوں رہنماؤں نے ایک ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری پہلی اور آصف زرداری نے پہلی بار قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیا جب کہ سابق وزرائے اعظم راجہ پرویزاشرف، محمدمیاں سومرو، سابق وزرائے اعلیٰ شہباز شریف، پرویز خٹک اور قومی اسمبلی کے دو سابق اسپیکر فہمیدہ مرزا اور فخرم امام بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل بھی طویل عرصے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت کاحلف لیا جب کہ جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی بھی آج قومی اسمبلی کا حصہ بن گئے ہیں۔

خیبرپختون خوا اسمبلی کے اسپیکر اسدقیصر بھی قومی اسمبلی کی رکنیت کاحلف لیا اور وہ قومی اسمبلی میں اسپیکر کے امیدوار نامزد ہیں۔

اسمبلی میں 134 نئے چہرے

134 نئے رکن چہرے قومی اسمبلی پہنچ گئے،کئی گھرانوں کے ایک سے زائد اراکین قومی اسمبلی پہنچے، آصف زرداری، ان کے بیٹے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور بہنوئی نواب منور تالپور شامل قومی اسمبلی کے رکن بن گئے ہیں۔

تحریک انصاف کے شاہ محمود اور ان کے بیٹے زین قریشی، (ن) لیگ کے پرویز ملک،اہلیہ شائستہ پرویز اور بیٹا علی پرویز بھی رکن قومی اسمبلی بن گئے۔

رضا ربانی کھر اور حنا ربانی کھر بہن بھائی ایم این اے منتخب ہو گئے۔تین سابق اسپیکرز فخر امام، فہمیدہ مرزا اور ایاز صادق، 2 وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف اور میاں محمد سومرو بھی دوبارہ رکن بنے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان تو نہ جیت سکے مگر ان کے بیٹے اسد محمود اپنی خالہ شاہدہ اخترعلی کے ساتھ اسمبلی پہنچ گئے۔

سینئر ارکان اسمبلی

پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ Khursheed Shah اور نوید قمر مسلسل ساتویں بار قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا جب کہ خواجہ آصف مسلسل چھٹی بار، غوث بخش مہر بھی چھٹی بار اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا پانچویں بار رکن قومی اسمبلی بنی ہیں۔

وزیراعظم کا انتخاب 16 اگست کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے مشروط

16 اگست کو وزیراعظم کا انتخاب کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے مشروط ہوگا، 16 کی صبح کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے گِئے تو شام میں وزیر اعظم Prime Minister کا انتخاب ہوگا۔دوسری صورت میں یہ انتخاب 17 اگست کی صبح ہوگا۔

انتخابات 2018: کئی سیاستدانوں کی خواتین رشتہ داروں کی قسمت بھی جاگ اٹھی

نو منتخب وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب 18 اگست کو ایوان صدر میں منعقد کی جائے گی۔

جنرل نشستوں کےبعد خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں بھی سیاسی جماعتوں کو الاٹ کردی گئیں۔

تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے آگے

قومی اسمبلی میں اس وقت سب سے آگے پاکستان Pakistan تحریک انصاف ہے جس کی 125جنرل، خواتین کی 28 اور اقلیتوں کی پانچ مخصوص نشستیں ہیں۔

اس طرح تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 158 نشستوں پر پہنچ گئی ہے لیکن دوہری نشستوں والے ارکان کی جانب سے ایک، ایک نشست چھوڑنے کے بعد یہ نمبر کم ہوجائے گا اور 172 کے نمبر پر پہنچنے کے لیے تحریک انصاف کو ایم کیو ایم پاکستان Pakistan کی سات، مسلم لیگ ق کی پانچ، بلوچستان Balochistan عوامی پارٹی کی پانچ اور بلوچستان Balochistan نیشنل پارٹی (مینگل) کی چار نشستوں کو ساتھ ملانا پڑے گا۔

پی ٹی آئی PTI کی اسپیکر ایاز صادق کو عمران خان Imran Khan کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت

دوسری جانب خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے ساتھ پاکستان Pakistan مسلم لیگ (ن) کا نمبر 82 پر پہنچ گیا ہے۔

اسی طرح پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد 52 جبکہ متحدہ مجلس عمل 15 نشستوں کے ساتھ ایوان میں موجود ہوگی۔

سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی

بنی گالا سے پارلیمنٹ ہاؤس تک سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن 2018: کراچی سے کتنے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے پیش نظر ریڈ زون سمیت ضلع بھر میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ ہے، خصوصی پاس والے افراد ہی پارلیمنٹ میں داخلے کی اجازت ہے۔

ریڈزون میں کسی بھی غیرمتعلقہ فرد کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ سیکیورٹی کے لئے پولیس کے ساتھ رینجرز اہل کار بھی ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

 93