کہیں کشمیر فلسطین نہ بن جائے!

بات یہ ہے - ارشاد محمود

11 اگست 2018

kahin Kashmir Palestine nah ban jaye !

کشمیر ایک بار پھر ہڑتالوں اور احتجاج سے بھڑک رہاہے۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ایک منصوبے کے تحت بھارتی Indian آئین کی دفعہ 35-A کے خاتمے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ دفعہ جموںو کشمیر کے شہریوں کی عددی بالادستی اور تشخص کو یقینی بناتی ہے ۔آئین کی یہ شق غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں منقولہ جائیداد خریدنے، سرکاری ملازمت حاصل کرنے اور غیر مشروط سرمایہ کاری کا حق نہیں دیتی۔ حتیٰ کہ کوئی ریاستی باشندہ سرکاری اسکالر شپ یا امداد کا بھی حق دار نہیں ہوتا۔ریاست جموں وکشمیر کی خواتین جو غیر ریاستی مردوں سے شادی کرتیں ہیں ان کی اولاد بھی اسٹیٹ سبجیکٹ کے حق سے محروم ہوجاتی ہے۔آسان الفاظ میں وہ جموں وکشمیر کے شہری نہیں رہتے۔ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دور حکومت سے چلا آرہاہے۔اس زمانے میں مہاراجہ کی مہربانیوں اور کرم نوازیوں کی وجہ سے پنجاب سے آنے والے تعلیم یافتہ او رہنر مند افراد اچھی ملازمت حاصل کرلیتے تھے۔حتیٰ کہ پنڈتوں تک کو جو اعلیٰ ذات کے ہندو کہلاتے تھے ‘ کوبھی معمولی سرکاری نوکری سے زیادہ کا اہل نہیں سمجھا جاتاتھا۔ ایک زبردست تحریک چلی جس نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ اسٹیٹ سبجیکٹ کے نام سے ایک قانون متعارف کرائے۔ سنہ 1927 ء میں طے پایاکہ مقامی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیرونی علاقوں سے آنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ کشمیر پر قبضے کے بعد اس قانون کو بھارت India کے آئین کا حصہ بنادیاگیا اور اسے دفعہ 35-A کہاجانے لگا۔بھارت India نے دفعہ 370کے ذریعے دفاع ،خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ باقی تمام معاملات میں ریاست جموں وکشمیر کے اختیارات کو تسلیم کیا۔یہ بھی طے پایاکہ ان تین معاملات کے علاوہ باقی کوئی بھی قانون جموں وکشمیر اسمبلی کی منظوری کے بنا ریاست میں نافذالعمل نہیں کیاجائے گا۔ جموں وکشمیر نے اپنا الگ آئین بنایا۔ سرکاری عمارتوں پر ریاستی جھنڈا بھی لہرایاگیا۔ صدر اور وزیراعظم کے عہدے بھی تخلیق کیے گئے۔ ابتدائی چھ سات برس تک ریاست داخلی امور میں بڑی حدتک آزادرہی۔ پرانے لوگ آج بھی وہ دن یاد کرتے ہیں جب بھارتی Indian ٹرک ڈرائیور اجازت نامہ (پرمٹ) دیکھا کر مقبوضہ جموں وکشمیر کی حدود میں داخل ہوتے تھے۔رفتہ رفتہ داخلی خودمختاری کا قصہ تمام ہوتاگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادکشمیر میں بھی اسٹیٹ سبجیکٹ کا قانون من وعن نافذ کیاگیا۔ چنانچہ کوئی غیر ریاستی باشندہ یہاں بھی زمین خرید سکتاہے نہ سرکاری نوکری کا اہل ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی یہ قانون ستر کی دہائی تک موجود رہا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ اس انتظام سے مطمئن نہ تھی۔ وہ پچاس کی دہائی سے ہی شیخ عبداللہ کی جادوائی شخصیت اور سیاست کی ناقد تھی۔ ان کا مقبول سلوگن تھاـ:ایک دیش دو ودھان،دو پردھان،دو نشان نہیں چلیں گے،نہیں چلیں گے۔جموں میں آرایس ایس کا مرکز مہاراجہ ہری سنگھ کے زمانے میں قائم ہوا اور اسے ہر زمانے میں نادیدہ حلقوں کی سرپرستی دستیاب رہی۔ آرایس ایس کے سیاسی ونگ بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی نے اپنے قیام کے آغاز سے ہی جموں وکشمیر پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ۔ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کا قومی دھارے میں ادغام اس کا خواب ہے ۔جناب اٹل بہاری واجپائی برسراقتدار آئے توپاکستان Pakistan اور کشمیریوں کے ساتھ نئے رشتے استوار کرنے کے لیے انہوں نے پرویز مشرف کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کا ڈھول ڈالا۔نریندرمودی ایک بہت مختلف شخصیت ہیں۔ واجپائی کی طرح اعتدال پسند ہیں نہ امن کے پرچارک۔وہ آرایس ایس کے صدر مقام ناگ پور کے قابل اعتماد حلیف ہیں۔ بنیادی طور پر ایک ایسے کار سیوک ہیں جو اپنا نصب العین آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔ بی جے پی BJP کی موجودہ حکومت بہت پہلے دفعہ35-A کے خاتمے کا اعلان کرچکی ہوتی ۔ دقت یہ ہے کہ بھارتی Indian آئین کی کسی بھی شق کا اطلاق جموں وکشمیر کی اسمبلی کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔35-A کے خاتمے کے لیے بی جے پی BJP کو جموںوکشمیر اسمبلی میں اکثریت چاہیے۔ گزشتہ ریاستی ا لیکشن میں اکثریت حاصل کرنے کی خاطر بی جے پی BJP نے ہر حربہ استعمال کیا لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔چنانچہ متبادل کے طور پر ایک این جی او کے ذریعے بھارتی Indian سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکٹھایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت India کی مرکزی حکومت نے اس قانون کے تحفظ کے سرکاری طور پر جواب دعویٰ داخل کرنے کے بجائے اسے عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جو اس بات کا عندیہ ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے دفاع میں دلچسپی نہیں رکھتی ۔مبصرین شک کا اظہار کرتے ہیں کہ سرپم کورٹ میں مقدمہ بھی مرکزی حکومت کی ایما پردائر کیا گیا تاکہ مرضی کا فیصلہ حاصل کیاجاسکے۔ سپریم کورٹ اس ماہ کے آخر پر ایک بار پھر اس کیس کی سماعت کرنے کو ہے۔ شہریوں کو خطرہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اس دفعہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر جموں وکشمیر کی الگ شناخت اور آبادی کا تناسب بگڑ جائے گا۔فلسطین کی طرح جموں وکشمیر میں بھی بھارتی Indian شہری اور خاص کر سرمایہ دار طبقہ زمینیں خرید لے گا۔ عام لوگ روپے کی لالچ اور خاص کر بھاری رقم کے عوض اپنے کھیت کھلیانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ رفتہ رفتہ کشمیری ہی نہیں بلکہ بدھ مذہب کے پیروکاربھی اپنی ہی سرزمین پر اجنبی ہوں گے۔ جموں کے ڈوگرہ بھی اس خدشے کو محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایاہے۔ مزاحمتی جماعتیں بھی احتجاجی تحریک میں حصہ لے رہی ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ اگر ایک مرتبہ ریاست جموں وکشمیر کا تشخص تحلیل ہوگیا تو پھر آزادی کی جدوجہد مزید کٹھن ہوجائے گی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ بھارتی Indian میڈیا میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کی خاموشی کو آڑے ہاتھوں لیا۔علاوہ ازیںدنیا میں اب کشمیریوں کی آواز کی گونج سنائی دینا شروع ہوگئی ہے۔ چند دن قبل نیویارک ٹائمز نے اپنے صفحہ اوّل پر ایک تفصیلی مضمون کشمیر پر شائع کیا۔ نیویارک ٹائمز کو امریکیوں کی بائیبل کہاجاتاہے۔ اس میں جو کچھ چھپتاہے ‘رائے عامہ بغیر تحقیق کے من وعن قبول کرلیتی ہے۔ نیشنل جیوگرافی نے بھی ایک طویل مضمون میںپیلٹ گن کے ناروا استعمال کے باعث بینائی کھونے والے نوجوانوں کی دل دھلا دینے والی کہانی بیان کی۔الجزیزہ نے بھی کئی ایک پہلوؤں پر دستاویزی فلمیں دکھائیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل سیکرٹریٹ نے 49صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی جس میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے تمام پہلوکو اجاگر کیاگیا۔ عالمی سطح پر بتدریج کشمیر یوں کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔ جمود ٹوٹ رہاہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور ادارے کشمیر پر بات کررہے ہیں۔ کشمیریوں کی کہانی ان کی زبانی بھی سنائی دی جا رہی ہے۔ بہت سارے صحافی اور لکھاری بھی عالمی اخبارات میں لکھ رہے ہیں کہ کس طرح ان کی آواز کو دبایا جارہاہے۔ منی شنکر آئر نے چند دن قبل اپنے ایک مضمون میں لکھاکہ مذاکرات نہ کرنے سے اگر مسائل حل ہوسکتے تو بی جے پی BJP کے گزشتہ ساڑھے چارسالہ دور حکومت میں حل ہوچکے ہوتے۔ امید ہے کہ یہ دباؤ دہلی کو کشمیریوں کے مطالبات پر توجہ دینے پر مجبور کرے گا۔

 100