عمران خان…کرنے کا پہلا کام (2)

حرف راز - اوریا مقبول جان

06 اگست 2018

Imran Khan … karne ka pehla kaam ( 2 )

بیوروکریسی کا قومی زبان اردو میں دفتری معاملات چلانا شاید اتنا مشکل مرحلہ نہیں ہے کیونکہ تاج برطانیہ کے زمانے میں ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ایک ورنیکلر برانچ ہوتی تھی جس میں ضلع کے تمام محکموں کا ریکارڈ اردو زبان میں موجود تھا اور آج بھی ملک بھر کا ریونیو ریکارڈ‘ زمین کی پیمائش سے لے کر مالیانہ و آبیانہ تک کے معاملات اردو ریکارڈ ہی کا حصہ ہیں۔ چونکہ انگریز نے برصغیر پر حکومت کرنا تھی اور اسے معلوم تھا کہ اگر اس کے افسران کا رابطہ عوام سے مستحکم نہ رہا ان کے اور عوام کے درمیان معاملات کے سمجھنے میں فرق آیا تو یہ عدم اعتماد اسی کی حکومت کو لے ڈوبے گا۔ اسی لیے انگریز نے برصغیر میں تمام قوانین کے نفاذ سے پہلے ان کے تراجم کروائے اور یہ ترجمے اردو کے پہلے ناول نگار توبتہ النصوح اور مرأۃ العروس Russia کے خالق ڈپٹی نذیر احمد نے کئے۔ Indian Penal Code کو تعزیرات ہند‘ Criminal Procedure Code کو ضابطہ فوجداری‘ Revenue Law کو قانونی معاملہ زمین‘ Civil Procedure Code کو ضابطہ دیوانی اور اسی طرح ملک کے تمام مروجہ قوانین کا اردو میں ترجمہ انتہائی قلیل عرصے میں کردیا گیا۔ تمام ہندوستان میں ڈپٹی کمشنر سے لے کر تحصیلدار تک ہر عدالت کے باہر اردو میں درخواست لکھنے کے ماہر بیٹھے ہوتے تھے جنہیں ’’عرائض نویس‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ اپنے تجربے کی وجہ سے لاتعداد وکلا سے بھی زیادہ قانون جانتے تھے۔ وکلا کی تعداد کم تھی اور انہی کی لکھی درخواستیں لوگ تحصیلداروں‘ اسٹیٹ کمشنروں‘ ڈپٹی کمشنروں اور دیگر عہدیداروں کی عدالتوں میں پیش کرتے۔ ہر آفیسر کی عدالت کے ساتھ اردو یا علاقائی زبان میں گواہی ریکارڈ کرنے‘ مثل ترتیب دینے‘ یہاں تک فیصلے کے ابتدائی صفحات اردو میں لکھنے کے لیے ایک ریڈر مقرر تھا۔ لوگ بنیادی عدالتوں میں بغیر کسی وکیل کے درخواست دیتے۔ عدالت کی کرسی پر براجمان مجسٹریٹ یا جج خود مقدمے کو آگے بڑھاتا اور فیصلہ کرتا۔ وکلا کا کام اپیل وغیرہ سے شروع ہوتا جہاں انگریزی کا راج تھا۔ لیکن لوگوں کے ننانوے فیصد مقدمات انہی عدالتوں میں تصفیہ پا جاتے۔ لوگوں پر مکمل طور پر انگریزی نافذ کرنے کا کام ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد شروع ہوا۔ اس کے بعد جتنے بھی قوانین بنائے گئے انہیں انگریزی میں اسمبلیوں کے سامنے پیش کیا گیا‘ ان کا ترجمہ نہیں کروایا گیا اور یوں آہستہ آہستہ نچلی عدالتوں سے بھی اردو رخصت ہو گئی۔ عرائض نویسوں نے بستر بوریا گول کرلیا۔ وکلا کی فوج ظفر موج نے ہر عدالت کو گھیر لیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اردو بولتے تھے لیکن انگریزی میں لکھتے تھے۔ یہی حال سول سروس Russia میں بھی ہوا۔ انگریز کی مجبوری تھی کہ اس کے اعلیٰ افسران انگریز تھے‘ اسے اعلیٰ سطح کے کام کاج کے لیے انگریزی چاہیے تھی لیکن اس نے نچلی سطح پر تمام کاروبار سلطنت اردو میں رکھا ہوا تھا۔ پاکستان Pakistan کے ’’کالے انگریز بیوروکریٹوں‘‘ نے اسسٹنٹ کمشنروں سے لے کر فیڈرل سیکرٹری تک سب کا سب انگریزی ہی کردیا۔ رہے نام اللہ کا۔ عمران خان Imran Khan صاحب! یہ بیوروکریٹس سب سے پہلا بہانہ یہ لگائیں گے کہ ہم تیار نہیں ہیں۔ ان میں اکثریت ان نااہل‘ نکمے اور ناکارہ افسران کی ہے جن کی وزارت یا محکمے میں ایک خاص محنتی اور کام کرنے والا شخص جو چھوٹی سطح کا ورکر ہوتا ہے اگر چھٹی چلا جائے تو پورا محکمہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہر سیکرٹری یا محکمے کے سربراہ نے کنسلٹنٹ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ انہیں رپورٹس بنا کر دیتے ہیں‘ سمریاں تیار کرتے ہیں جب یہ بڑی بڑی میٹنگوں کے لیے جاتے ہیں تو وہ ان کو پاور پوائنٹ پر خوبصورت پریزنٹیشن بنا کردیتے ہیں۔ کس قدر ظلم کی بات ہے کہ پاور پوائنٹ پر تمام سلائیڈیں انگریزی میں تیار کی گئی ہوتی ہیں اور یہ ’’انگریز نما‘‘ افسران وزیراعظم سے لے کر وزیراعلیٰ اور کابینہ کو سب کچھ اردو میں سمجھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ حکومت کا سارا کاروبار صبح سے لے کر شام تک اردو میں کرتے ہیں‘ اٹھتے بیٹھتے‘ ماتحتوں سے ملتے‘ افسران کو بتاتے‘ سائلوں سے گفتگو کرتے ہوئے صرف اور صرف اردو استعمال کرتے ہیں لیکن انہیں کاغذ پر اردو لکھتے ہوئے موت پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ بہانہ تراش ہیں۔ یہ ہزار بہانے تراشیں گے کہ ہم اس پر کمیٹی بنا دیتے ہیں۔ مقتدرہ کو ترجمے پر لگا دیتے ہیں‘ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن دیکھیں ایسا کرنے سے یہ ملک بیٹھ جائے گا‘ ہمیں دنیا بھر سے تعلقات رکھنا ہوتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایک فیصد سے بھی کم میٹنگیں یا گفتگو غیر ملکیوں سے ہوتی ہے اور وہ بھی صرف دو وزارتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ ایک وزارت خارجہ اور دوسری اکنامک آفیسرز ڈویژن۔ دونوں کے لیے افسران کی کافی تعداد موجود ہے اور دنیا کے تمام ممالک غیر ملکی معاہدوں یا وفود سے ملاقات کے لیے انگریزی بولنا سکھاتے ہیں اور انگریزی زبان سیکھنے سے کون روک رہا ہے بلکہ اسے عالمی زبان کی حیثیت سے سیکھنا لازمی قرار دیا جائے لیکن کاروبار سلطنت تو اس زبان میں نہ ہو۔ دنیا میں سب انگریزی سیکھتے ہیں لیکن اپنوں پر حکومت کے لیے نہیں۔ خان صاحب! سول سروس Russia کے ساتھ دوسرا مشکل کام آپ کو فوج ‘ایئر فورس اور بحریہ کی اعلیٰ سطحی انگریزی زبان کو بدلنا ہوگا۔ یہ آج تک ان کی انگریز سے وفاداری کی علامت ہے۔ ان لوگوں کا تو انگریزی بولنے کا جو از ہی نہیں بنتا۔ کیا یہ افسران اپنے ماتحت سپاہیوں کو فائر کرنے لڑنے‘ دوڑنے یا حملہ کرنے کا حکم انگریزی میں دیتے ہیں۔ کیا ایف 16 انگریزی میں حکم لیتا ہے۔ ٹینک انگریزی سے چلتا ہے‘ بندوق میں انگریزی بول کر گولی نہ ڈالی جائے تو چلنے سے انکار کردیتی ہے۔ کس قدر ظلم کی بات ہے کہ پوری دنیا میں‘ بلکہ پاکستان Pakistan بھر میں بھی ’’فوجی انگریزی‘‘ کا مذاق اڑایا جاتا ہے لیکن یہ پھر بھی انگریزی بولتے جاتے ہیں۔ سرول سروس Russia کے امتحان میں چھ سو نمبر لازمی مضامین کے ہوتے ہیں اور چھ سو نمبر اضافی مضامین کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔ لازمی مضامین میں 1- Essay, 2-Current Affairs, 3-Pakistan Affairs, 4-English, 5-Every Day Science شامل ہیں۔ کرنٹ آفیئرزاور پاکستان Pakistan آفیئرز پر پورے ملک میں ہر طرح کی کتاب اردو میں میسر ہے۔ مضمون نگاری اردو میں کروائی جائے اور انگریزی کی جگہ اردو کا امتحان لیا جائے جبکہ روزمرہ سائنس پر تمام معلومات کا ذخیرہ اردو میں موجود ہے۔ لازمی مضامین کا امتحان اردو میں کرنے کا فیصلہ فوری طور پر نافذالعمل کیا جائے۔ یہ لوگ ناروے‘ سویڈن‘ فرانس وغیرہ کی یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں اور چھ ماہ میں ان کی زبان سیکھ کر وہاں سے پی ایچ ڈی کرکے آتے ہیں۔ اردو سیکھنے میں انہیں چھ ماہ سے بہت کم عرصہ لگے گا۔ آپ کے ایک حکم نامے سے اس ملک میں پھیلی ہزاروں اکیڈمیاں جو سول سروس Russia کی ٹریننگ کرواتی ہیں‘ اپنا قبلہ بدل لیں گی۔ تمام کتب چند دنوں میں اردو زبان میں مارکیٹ میں آ جائیں گی۔ جہاں تک اضافی مضامین کا تعلق ہے اس میں انگریزی میں پرچہ کرنے کا اس وقت تک اختیار دے دیا جائے جب تک آپ کا باقی نصاب تعلیم (باقی صفحہ 13 پر ملاحظہ کریں) اردو میں نہ ہو جائے۔ تمام سول اور فوجی اداروں میں فوری طور پر طریقہ تعلیم Medium of instruction کو اردو میں بدل دیا جائے۔ سول سروس Russia اکیڈمی‘ نیپا‘ سٹاف کالج‘ کاکول اکیڈمی‘ رسالپور‘ آرمی سٹاف کالج‘ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سب میں تربیت کے لیے اردو کو نافذ کیا جائے۔ کس قدر ظلم‘ حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ ہم افسران کی تربیت انگریزی میں کرتے ہیں‘ کیا انہوں نے لندن‘ مانچسٹر‘ سڈنی‘ نیویارک‘ ٹورنٹو وغیرہ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا ہے۔ یہ انگریزی پڑھے ہوئے افسران تو پیرس‘ برلن‘ اوسلو‘ بیجنگ‘ ماسکو جیسے ہزاروں شہروں میں بھی بے کار کردیئے جائیں کہ یہ لوگوں کی زبان نہیں جانتے ہیں لیکن میرے ملک میں سب سے کارآمد لوگ ہیں۔ خان صاحب! اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو یاد رکھئے میں آپ سے صرف ایک سال بعد اخبار کے انہی صفحات میں سوال کروں گا کہ آپ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کون سی ہے اور اس وقت آپ کو یہ جواب دیتے ہوئے یقینا شرمندگی ہورہی ہوگی کہ مجھے بیوروکریسی چلنے نہیں دیتی۔ (جاری ہے)

 303