امریکی پیشگی انتباہ ، عمران کے انقلابی ساتھیوں کی آزمائش

برملا - نصرت جاوید

01 اگست 2018

Amrici paishgi intibah, Imran ke inqalabi sathiyon ki azmaish

عمران خان Imran Khan صاحب نے ابھی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کا حلف بھی نہیں اٹھایا ہے مگر امریکہ United States پاکستان Pakistan کو اپنے کھانے کے دانت دکھانا شروع ہوگیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے IMFکو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان Pakistan کے لئے کسی ایسے بیل آﺅٹ پیکیج کا بندوبست کرنے سے باز رہے جس کا اصل مقصد واشنگٹن کی نگاہ میں ہماری معاشی مشکلات کا مداوا نہیں بلکہ ”امریکی ڈالروں کو چین China کی مدد کے لئے استعمال کرنا ہے۔“”چین China کی مدد“ والی بات سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ ان دنوں پاکستان Pakistan کو درپیش معاشی مشکلات کا اصل سبب ہماری برآمدات سے جمع شدہ رقوم اور درآمدات پر کئے خرچ کے درمیان بے تحاشہ تفاوت ہے۔برآمدات کے ذریعے کمائی اور درآمدات کے درمیان خرچ میں ناقابل برداشت فرق کے علاوہ غیر ملکی قرضوں کی اقساط یا شرح سود کی ادائیگی بھی ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقریباًََ صفرکی سطح پر لانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ زرمبادلہ پر بڑھتے دباﺅ کے خوف ہی کے سبب ا نتخابات سے قبل امریکی ڈالر کی قیمت 130روپے کی تاریخی حد تک پہنچ کر بھی نہ رُکی۔ افواہ پھیل گئی کہ شاید خان صاحب کے وزیراعظم منتخب ہونے تک یہ قیمت 137سے 138پاکستانی روپوں تک پہنچ سکتی ہے۔ انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد خوف کا ماحول ختم ہوگیا۔ ڈالر کی قیمت بہت تیزی سے گرنے لگی۔ کئی لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے پائے گئے ہیں کہ وہ ڈالر لے کر بازار میں نکلیں تو کرنسی مرچنٹ 110پاکستانی روپے سے ایک پیسہ زیادہ دینے کو تیار نہیں ہورہے۔ مجھ ایسے سادہ لوح پاکستانیوں نے اسے عمران خان Imran Khan صاحب کی خوش بختی سمجھا۔ ان کی حکومت کے انتظار میں پھیلا Feel Good ماحول۔ عمران خان Imran Khan صاحب کے میڈیا میں موجود کئی خودساختہ ترجمانوں نے مگر یہ بات پھیلادی کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہماری برادر ملک سعودی عرب Saudi Arabia کے سفیر نے بنی گالہ جاکر خان صاحب سے جو ملاقات کی اس کے دوران پاکستان Pakistan کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے سعودی امداد کا ذکر بھی ہوا۔ اس ضمن میں ترجمانوں نے ڈیڑھ ارب ڈالر billion dollor کی وہ رقم بھی ہمیں یاد دلائی جو 2013میں نواز حکومت قائم ہوتے ہی پاکستان Pakistan کو سعودی عرب Saudi Arabia نے ”سلامی“ کی صورت پیش کی تھی۔ سعودی سفیر کی عمران خان Imran Khan صاحب سے ملاقات کے علاوہ اخبارات میں یہ خبریں بھی نمایاں طورپر شائع ہوئیں کہ چین China نے پاکستان Pakistan کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کی خاطر 2 ارب ڈالر billion dollor کی خطیر رقم مہیا کردی ہے۔ ان خبروں سے احساس ہوا کہ سعودی عرب Saudi Arabia اور چین China عمران حکومت کو معاشی اعتبار سے پریشان ہونے نہیں دیں گے۔ اسے سہارا فراہم کیا جائے گا۔ خان صاحب کے متوقع وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب نے مگر لگی لپٹی رکھے بغیر اعلان کردیا کہ پاکستان Pakistan کو اپنی معیشت رواں رکھنے کے لئے IMF سے ہر صورت رجوع کرنا ہوگا۔ ان کے بیان سے بات چلی کہ IMFسے غالباََ 8 سے 10ارب ڈالر billion dollor کے درمیان رقم کا تقاضہ ہوگا۔ IMFاگرچہ فقط رجوع کرنے ہی سے کسی ملک کی مدد

کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ چند شرائط عائد کرتا ہے۔ بسااوقات یہ شرائط معاشی میدان تک ہی محدود نہیں ہوتیں۔ کچھ ایسے اقدامات بھی اٹھانا ہوتے ہیں جو عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے والے امریکہ United States جیسے ممالک کی Strategic ترجیحات کے حصول کو آسان بنائیں۔پاکستان Pakistan کے بارے میں ان ممالک کی ترجیحات بیان کرنے کی شاید ضرورت نہیں۔ بس اتنا یاد رکھنا کافی ہے کہ افغانستان Afghanistan ہمارا ہمسایہ ہے اور وہاں امریکہ United States اور اس کے حلیف 17 برسوں سے طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کو صرف فوجی قوت کے بل بوتے پر جیتا نہیں جاسکتا۔ مذاکرات کے ذریعے طالبان کو ا قتدار میں حصہ دینا لازمی ہے۔ امریکہ United States طالبان سے مگر مذاکرات کے لئے راضی نہیں ہوتا۔ اس کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے تو چند ملاقاتیں ضرور کرلیتا ہے۔ حال ہی میں اس کی افغانستان Afghanistan کے حوالے سے لگائی مشیر ایلس ویلز نے دوحہ میں طالبان نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد بھی معالات بہتری کی جانب تیزی سے بڑھتے نظرنہیں آرہے۔امریکہ United States جیسی سپرطاقتیں اپنی مشکلات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کی عادی ہوتی ہیں۔ پاکستان Pakistan افغانستان Afghanistan کا ہمسایہ ہوتے ہوئے اس ضمن میں امریکی الزامات کی مسلسل زد میں رہا ہے۔ Do Moreکی

گردان 2008 سے جاری ہے۔ ہماری طرف سے Do More ہوتا نظر نہ آئے تو پاکستان Pakistan کی سرزمین پر ڈرون حملے بڑھادئیے جاتے ہیں۔ یہ حملے بھی افغانستان Afghanistan میں امریکہ United States کو درپیش مشکلات کو دور کرنے میں ٹھوس مدد نہیں کرپائے ہیں۔ پاکستان Pakistan کو لہذا معاشی اعتبار سے گھیرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ہمارے زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر امریکہ United States کو اب مناسب Space فراہم کرتے نظر آرہے ہیں۔بین الاقوامی منڈی میں بہت ہی قابل اعتبار جانا فنانشل ٹائمز یہ دعویٰ کررہا ہے کہ پاکستان Pakistan نے IMF سے 14 ارب ڈالر billion dollor کی درخواست کی ہے۔ IMFکے ترجمان نے واضح الفاظ میں اس خبر کی تردید کی ہے۔ اس تردید کے باوجود امریکی وزیرخارجہ تلملااُٹھا ہے۔امریکہ United States پاکستانیوںپر ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ ان کی معیشت پر اصل بوجھ چین China کے ساتھ چلائے CPECکی وجہ سے ناقابلِ برداشت ہورہا ہے۔بنیادی طورپر ہمارے مسائل خالصتاََ ان درآمدات کی وجہ سے بڑھے ہیں جو CPECکے تحت بنائے منصوبوں کو چالو کرنے کے لئے بھاری مشینری کی صورت پاکستان Pakistan میں لائی اور لگائی گئی ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لئے چینی بینکوں سے قرضے بھی لئے گئے ہیں۔ ان قرضوں کی اقساط ادا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمت ہے جو غیر ملکی کرنسی میں چین China کی مدد سے بنائے بجلی تیار کرنے والے کارخانوں سے خرید کر نیشنل گرڈ میں ڈالی جاتی ہے۔امریکہ United States نے بظاہر کھل کریہ بتادیا ہے کہ پاکستان Pakistan کو IMF سے کوئی Bailoutپیکیج لینے سے قبل ان تمام معاہدوں کی تفصیلات خلقِ خدا کے لئے کھولنا ہوں گی جو CPECکے تحت چلائے منصوبوں کے تحت ہوئے۔ یہ تفصیلات عیاں ہوئیں تو امریکہ United States یہ ثابت کرنے کو ایڑی چوٹی کا زور لگادے گاکہ وہ معاشی اعتبارسے Viableہی نہیں تھیں۔ CPECکے بقیہ منصوبوں پر لہذا کام روک دینا پڑے گا اور پاکستان Pakistan دوبارہ IMFکے رحم وکرم پر ہوگا۔”سب کچھ لٹاکے ....“IMFکے محتاج ہونے کی بنا پر عام پاکستانیوں کے دلوں میں چین China سے شکایات بھی جمع ہونا شروع ہوجائیں گی۔ معاشی حوالوں سے بے بس ہوئی حکومت اس ماحول میں چند ایسی شرائط ماننے کو بھی مجبور ہوسکتی ہے جو وسیع تر Strategic حوالوں سے ہمارے لئے ناقابل قبول گردانی جاتی رہی ہیں۔خان صاحب کی حکومت کے ساتھ سرمنڈاتے ہی.... والی صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ نہایت خلوص سے ہمیں دُعا مانگنا ہوگی کہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan اور ان کے انقلابی ساتھی اس صورت حال سے نکلنے کی راہ تلاش کر پائیں۔

٭٭٭٭٭

 200