دو قیدی خوا تین

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

24 جولائی 2018

do kaidi khawateen

بھارتی Indian اور بنگلہ دیشی میڈیا کے ساتھ ساتھ وطن ِعزیزکے وہ صحافی حضرات اور ا ینکرز‘ جو مکتی باہنی کیلئے ہمدردیاں اور پاکستان Pakistan کے خلاف نفرت پھیلانے پر انعام کے حقدار پاتے ہیں اور جنہیں حسینہ واجد ایوارڈ دینے کیلئے خصوصی طور پر شاہانہ انداز کی سہولتیں مہیا کرتے ہوئے ڈھاکہ بلایا جاتا ہے‘ گزشتہ دنوں ایک ساتھ اور ہم زبان ہو کر اڈیالہ جیل میں کرپشن کے جرم میں بند ایک سزا یاب اور نا اہل وزیراعظم اور اس کی بیٹی کیلئے ایسے چیخ پکار رہے ہیں کہ جیسے درد سے کراہ رہے ہوں‘ لیکن ان کی زبانیں اور قلم ایک دوسری قیدی عورت ‘جو اسی کی طرح سابق وزیر اعظم Prime Minister رہی ہے‘ پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مسلسل خاموش چلی آ رہی ہے۔

پہلی خاتون کا تعلق پاکستان Pakistan سے‘ جبکہ دوسری کا بنگلہ دیش سے ہے۔ پاکستان Pakistan میں جس خاتون کو قید کی سزا سنائی گئی‘ اس پر الزام ہے کہ اس نے ملک کی سب سے بڑی عدالت‘ سپریم کورٹ میں جعلی اور بوگس دستاویزات پیش کرتے ہوئے‘جرم کاا رتکاب کیا ہے۔اور دوسری عورت‘ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم Prime Minister بیگم خالدہ ضیا ہیں ‘ پر بھی اپنے ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن کے الزامات ہیں‘ جس پر اسے سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش نے قید کی سزا سنا رکھی ہے اور ڈھاکہ کی ایک جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی ہے ‘جس پر بھارتی Indian میڈیا خوشی سے جھوم رہا ہے۔

جب سے میاں نواز شریف Nawaz Sharif اڈیالہ جیل پہنچے ہیں‘ ساری جیل انتظامیہ اور آئی جی جیل خانہ جات سمیت نگران وزیر داخلہ پنجاب‘ ان کے ایک اشارۂ ابرو کے منتظر کھڑے دکھائی دیتے ہیں‘ جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ جو سہولتیں ہم' آئوٹ آف دی وے ‘جا کر دے رہے ہیں ‘اگر ان کے بارے میں قوم کو بتا دیا جائے ‘تو نواز شریف Nawaz Sharif اور نون لیگی ورکر کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہیں گے۔ عالمی میڈیا اور چند بین الاقوامی طاقتوں کو مریم صفدر اور نواز شریف Nawaz Sharif کا جیل جانا‘ بہت برا لگا ہے۔ شاید اس لئے کہ قرضوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ایک مقروض ملک کی عدالتوں نے انہیں سزا سنائی ہے‘ لیکن یہ سب‘ جنہیں آج بہت درد اٹھ رہا ہے‘ اس وقت کہاں تھے۔ جب بیگم خالدہ ضیا کو بنگلہ دیش کی عدالت نے سزا سنائی تھی؟ خالدہ ضیا بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم Prime Minister رہی ہیں اور ان کے شوہر جنرل ضیا الرحمان‘ بنگلہ دیش آرمی کے چیف بھی رہے ہیں‘ انہیں جب حسینہ واجد اور نریندر مودی narendra modi کے حکم پر سزائے قید دی گئی‘ تو یہ نام نہاد جمہوریت پسند کیوں خاموش رہے؟کیا ترکی کے صدر نے کبھی بیگم خالدہ ضیا کی قید پر حسینہ واجد کو خط لکھا ہے؟ کیا کبھی کسی سربراہ نے پاکستان Pakistan کی طرح بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خالدہ ضیا کو جیل میں اے کلاس دی جائے؟ اسے کسی ریسٹ ہائوس میں قید رکھا جائے؟ اس کیلئے بھی ایک ایمبو لینس ‘دو ڈاکٹر اور دو نرسیں ‘ خدمت پر مامور رکھی جائیں۔ اس کیلئے بھی ڈھاکہ میڈیکل کالج کے سینئر پروفیسر وں کو دن میں دو مرتبہ انہیں چیک کرنے کیلئے الرٹ رکھا جائے۔

آج کل شیخ مجیب الرحمان‘ چونکہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی بیٹی مریم صفدر کے آئیڈیل بن چکے ہیں ‘ لہٰذا وہ اسے بھی اپنی طرح کا پاکستان Pakistan کا سب سے بڑا حامی ثابت کرنے کی کوششوں میں دن رات ایک کئے جا رہے ہیں‘ لیکن میاں صاحب بھول گئے کہ شیخ مجیب کی بیٹی نے ہی سابقہ وزیر اعظم Prime Minister بنگلہ دیش بیگم خالدہ ضیا پر بے پناہ تشدد کرواتے ہوئے ‘اسے کئی دن تک قید تنہائی میں رکھا‘ جس سے وہ سخت بیمار ہو گئیں‘ لیکن انہیں کسی ڈاکٹر تو بہت دور کی بات ہے‘ ایک معمولی سی نرس کی خدمات بھی نہ دی گئیں۔بیگم خالدہ ضیا کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ہندوستان کی غلامی کی بجائے پاکستان Pakistan سے دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے دونوں ملکوں کو پھر سے قریب لانے کا پروگرام بنا رہی تھیں‘جس سے واجپائی سمیت میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے نریندر مودی narendra modi جیسے سب بھارتی Indian دوست سیخ پا ہو گئے اور پھر اس بوڑھی خاتون کو پاکستان Pakistan سے دوستی کی اس طرح سزا دی گئی کہ آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے ‘لیکن اسے کوئی اے کلاس نہیں دی جا رہی ۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد Islamabad کی احتساب عدالت نے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو دس سال قید کی سزا دی ہے اور 13 جولائی سے وہ اور مریم صفدر اڈیالہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور بھارت India کی برکھا دت سمیت ہندوستان کے سیا سی رہنمائوں نے اس سزا کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا‘لیکن پاکستان Pakistan کے عدالتی نظام کو ہدف تنقید بنانے والے نا جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان کی جیل میں بھی ایک سابق وزیر اعظم Prime Minister عرصہ دراز سے قید ہے‘ جسے لوگ خالدہ ضیاء کے نام سے جانتے ہیں ۔ انہیں کسی کو قتل کرنے کے الزام پر نہیں‘ بلکہ ان پر بھی میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی طرح کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات چلاتے ہوئے انہیں قید کی سزا ئیں سنائی گئی ‘ لیکن انہیں جیل میں کسی قسم کی سہولت مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔

حسینہ واجد کے دل میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے لیے‘ تو درد جاگ گیا‘ لیکن انہیں سب سے پہلے سوچنا چاہئے کہ ان کے ساتھی‘ بیگم خالدہ ضیا کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر رہی ہے؟ مریم صفدر سے تو گزشتہ دنوں‘ جس نے جب چاہا‘ ملاقات کی ہے‘ انہیں موبائل اور انٹر نیٹ کی سہولیات تک میسر ہیں‘ لیکن خالدہ ضیاء کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کا ‘اگر انہیں رتی برابر پتہ چل جائے‘ تو وہ چکرا کر رہ جائیں ۔بیگم خالدہ ضیاء سے جیل میں ملاقات کیلئے ‘اگر کوئی جا نا چاہتا ہے‘ تو اسے کئی کئی دن چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ تھک کر بیٹھ جاتا ہے‘ جبکہ مریم صفدر شاہانہ ٹھاٹھ باٹ سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں یا اس سے ملحقہ خوبصورت اور سجے سجائے ڈرائنگ روم میں مسلم لیگ نواز کے اسلام آباد Islamabad اور راولپنڈی سمیت دوسرے علا قوں کے مرکزی لیڈروں کو فون پر پہلے سے طے کیے گئے وقت کے مطابق دن اور رات کی قید کے بغیر ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ دوسری طرف بیگم خالدہ ضیاء سے ملاقات کرنے کیلئے بنگلہ دیش کی حسینہ واجد نے ایک لاگ بک تیار کر رکھی ہے‘ جس کے مطا بق اگر کوئی مرد یا خاتون خالدہ ضیاء سے ملاقات کرنا چاہتا ہے‘ تو اسے سب سے پہلے اپنا شناختی کارڈ اور ساتھ ہی ایک درخواست دیتے ہوئے اس میں بتانا پڑے گا کہ وہ کس مقصد کیلئے خالدہ ضیاء سے ملاقات چاہتا ہے۔ یہ درخواست اسے بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے تسلیم شدہ مرکزی عہدیداروں سے ان الفاظ کے ساتھ تصدیق کروانی ہو تی ہے کہ'' ہم سفارش کرتے ہیں کہ اس شخص یا عورت کوبیگم خالدہ ضیا سے ڈھاکہ جیل میں ملاقات کی اجا زت دی جائے‘‘۔ اس کے بعد ایک اور مر حلہ طے کرنے کیلئے بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ کو یہ درخواست بھجوادی جاتی ہے‘ جو اسے ملاقات کی اجا زت دینے کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے۔اور وہ بھی صرف پانچ منٹ کیلئے دو افسران کی موجود گی میں ۔

آج پاکستان Pakistan کے میر جعفر نما صحافی اور دانشور اور ہمیشہ سے پاکستان Pakistan مخالف بھارتی Indian میڈیا‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم صفدر کو سزا دینے کے فیصلوں کے خلاف‘ تو چیخ رہا ہے‘ لیکن بھارت India کی عدالتوں نے لالو پرشاد یادیو اور بیگم خالدہ ضیا کو کرپشن پر سزائیں سنائی ہیں‘ ان کے بارے میں وہ ایک لفظ نہیں بولتے۔

 179