ن لیگ اپنی لیڈر شپ کی عدالت میں سرخرو ہو گی؟

14 جولائی 2018

noon league apni leader ship ki adalat mein surkhuru ho gi ?

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) تمام تر خطرات اور تحفظات کے باوجود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی صاحبزادی مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif وطن واپس آ چکے ہیں گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کی آمد پر ان سے یکجہتی کے اظہار کے لئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف Shehbaz Sharif کی قیادت میں نکلنے والی ریلی ایئرپورٹ تک تو نہ پہنچ سکی لیکن اس ریلی میں شریک ہزاروں شرکاء کے جذبات اور احساسات نے ظاہر کردیا ہے کہ ان کے دل اپنی لیڈر شپ کے لئے دھڑکتے ہیں۔

باوجود احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے بعد وہ نوازشریف کی طرف دیکھتے ہیں لہٰذا دیکھنا پڑے گا کہ نواز شریف Nawaz Sharif مریم نواز Maryam Nawaz کی پاکستان Pakistan آمد کے اثرات ملکی سیاست اور آنے والے انتخابات پر کیا ہوتے ہیں اور اقتدار کے بعد جیل میں جانے والے نوازشریف کی کوئی سیاسی حیثیت ملک میں قائم رہ سکے گی۔ جیل میں جانے کے اس عمل سے تو ان کی جماعت کہاں کھڑی نظر آتی ہے اور آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے نتائج کیا ہوں گے۔

نواز شریف Nawaz Sharif کی آمد ان کے استقبال کے حوالے سے دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن ان کی جانب سے وطن واپسی کے جرأت مندانہ اقدام کے براہ راست اثرات نگران حکومت پر ضرور نظر آئے اور نگران حکمران عملاً پریشان حکومت کا روپ دھارے نظر آئی۔ لاہور میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، کنٹینرز لگانے کے باوجود مسلم لیگ ن کے کارکن بڑی تعداد میں لوہاری گیٹ پہنچ گئے اور اس میں بڑا کردار مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف Shehbaz Sharif اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کا تھا جنہوں نے دو تین روز میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے اندر ایسی تحریک پیدا کر دی کہ وہ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے لوہاری چوک پہنچے۔

جب لاہور بھر میں یہ خبر پہنچی کہ خود مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف Shehbaz Sharif لوہاری چوک پہنچ چکے ہیں تو شہر بھر سے کارکنوں کا رخ لوہاری چوک کی جانب ہو گیا اور وکٹ گرانے کے ساتھ ہی فیصلہ برادر کی یہ ریلی ایک بڑی ریلی میں شامل ہو گئی اور مال روڈ پر پہنچتے ہی اس کا حجم بڑھتا چلا گیا اور اس طرح دونوں محاذوں پر مسلم لیگ ن سرخرو رہی نواز شریف Nawaz Sharif ان کی بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz کے عدالتی فیصلے کے سائے سرتسلیم خم کر کے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کردیا تو دوسری جانب ان کے استقبال اور ان سے یکجہتی کے اظہار کے لئے ریلی بھی کامیاب رہی۔

تاہم اس سارے عمل کے بعد ایک چیز جو مسلم لیگ ن کی جماعت میں تبدیلی نظر آئے گی وہ مسلم ملیگ کے صدر شہباز شریف Shehbaz Sharif کا طرز عمل ہو گا کیونکہ اب انہیں ایک جانب انتخابی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے تو دوسری جانب ان کے بھائی سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz جیل میں ہوں گے تو اس صورتحال میں انہیں اس بیانیہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا جو نواز شریف Nawaz Sharif کا بیانیہ ہے اور حالات و واقعات اور خصوصاً نگران حکومت کے طرز عمل نے انہیں اس سطح پر کھڑا کیا کہ اب وہ دفاعی انداز اختیار کرنے کی بجائے جارحانہ طرز عمل اختیار کریں گے۔

شہباز شریف Shehbaz Sharif انتخابی مہم کو اگر احتجاجی مہم بنانے میں کامیاب رہے تو اس کا یقیناً انہیں سیاسی فائدہ ہو گا اور خصوصاً وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کومتحرک فعال کر سکیں گے اور اس طرح ان کی گرپ جماعت پر مزید مضبوط ہو گی اور قومی سیاست میں بھی ان کا کردار نمایاں ہو گا جہاں تک نواز شریف Nawaz Sharif ان کی بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz کے فیصلے کا تعلق ہے تو انہیں ملنے والی اس قید کی سزا کے بعد خصوصاً ان کی جیل یاترا خود نگرانوں اور انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت پر بھی دباؤ آئے گا۔

نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی بیٹی کی گرفتاری کا اقدام اس حوالے سے حکومت اور ریاسی اداروں کیلئے یہ پیغام بھی ہے کہ ہم نے عدلیہ کے فیصلے کے سامنے سر تسلم خم کیا ہے گرفتاری دے دی ہے لہٰذا اب ملک کے اندر احتساب کا عمل ہو گا۔ پانامہ کے دیگر ملزمان جن کی تعداد تقریباً ساڑھے چار سو کے قریب ہے ان کے گرد بھی احتساب کا شکنجہ کیا جانا چاہیے احتساب کا یہ سلسلہ اور سزاؤں کے عمل اگر صرف نواز شریف Nawaz Sharif اور شریف خاندان تک محدود رہا تو صورتحال آنے والے حالات میں خطرناک ہو سکتی ہے اور حالات حکومتوں کے بس میں نہیں رہیں گے۔

گزشتہ روز میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی آمد اور گرفتاری کے حوالے سے اہم تھا وہاں پاکستان Pakistan کے دو صوبوں پختونخواہ میں بنوں اور بلوچستان Balochistan میں مستونگ کے مقامات پر دہشت گردی کے دو واقعات نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ دی ہے اور لگ رہا ہے کہ کچھ قوتوں کو پاکستان Pakistan کے اندر پر امن انتخابی عمل نہیں ہو پا رہا اور وہ دہشت گردی کے واقعات رونما کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں انہیں ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ 25 جولائی کو پرامن انتخابی عمل مکمل ہو اور ایک منتخب حکومت قائم ہو اور عوام اپنی فورسز کے پیچھے کھڑے ہو کر دہشت گردی کی خبریں سننے اور پر امن پاکستان Pakistan کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور اس کے لئے اصل ضرورت اتحاد یکجہتی کی ہے انتشار اور خلفشار کی نہیں جس کے لئے سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 56