دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے کمیٹی قائم، چیئرمین واپڈا سربراہ

09 جولائی 2018

دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے کمیٹی قائم، چیئرمین واپڈا سربراہ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نگران وزیرِاعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے بتایا کہ دیامربھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں پر کام رواں مالی سال کے دوران شروع ہو جائے گا۔

نگران وزیرِاعظم ناصر الملک سے واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ملاقات کی اور ملک میں پانی و پن بجلی کے شعبوں سے متعلق امور کے پر بریفنگ دی۔ وزیرِاعظم کو واپڈا کے منصوبوں بالخصوص دیامربھاشا اورمہمند ڈیموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیامربھاشا اور مہمند ڈیم کے منصوبوں پر کام رواں مالی سال کے دوران ہی شروع ہو جائے گا۔ دیامربھاشا ڈیم میں آٹھ اعشاریہ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی اور اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔

مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں ایک اعشاریہ دو ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور آٹھ سو میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرنے کی صلاحیت ہو گی۔

اسی طرح چودہ سو دس میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ، دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا منصوبہ داسو سٹیج ٹو، سات ہزار ایک سو میگاواٹ کا بونجی اور کثیر المقاصد کرم تنگی ڈیم کا دوسرا مرحلہ تعمیر کے لئے تیار منصوبوں میں شامل ہیں۔

چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ واپڈا نے اگست 2017ء کے بعد سے ڈیرہ بگٹی بلوچستان Balochistan میں 72 ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے اور دو ہزار چار سو ستاسی میگاواٹ پن بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لئے بڑے منصوبے مکمل کئے ہیں۔ مکمل منصوبوں میں کچھی کنال کا فیز ون، گولن گول، تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔

اسی طرح کرم تنگی ڈیم کا پہلا مرحلہ 2020ء میں مکمل ہو گا جبکہ دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ دو ہزار تئیس تک بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔ وزیرِاعظم نے پانی اور پن بجلی کے شعبوں میں منصوبوں پرعملدرآمد کے لئے واپڈا کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

 118