سی آئی اے کی فیکٹ بُک

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

09 جولائی 2018

سی آئی اے کی فیکٹ بُک

امریکی کانگریس کی جانب سے 25 فروری2016ء کو بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi کو یاد داشت بھیجتے ہوئے ‘ اُن سے کہا گیا تھا کہ بھارت India میں مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں عیسائی‘ سکھ اور مسلمان ہر وقت ظلم و تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں اور یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور اس کیلئے خصوصی طور پر تین ہندو انتہا پسند تنظیموں آر ایس ایس‘ بجرنگ دل‘ وشوا ہندو پریشد کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔ امریکی کانگریس اور سینیٹ کے34 اراکین نے نریندر مودی narendra modi کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں انہیںیاد دلایا کہ انہوں نے2014 ء کے انتخابات میں اقتدار ملنے کی صورت میں ' بی جے پی BJP کا سیکولر بھارت‘ کا جو نعرہ لگایا تھا‘ آج دو سال بعد سب کچھ اس کے الٹ کیا جا رہا ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ بھارت India میں مذہبی انتہا پسندی اور ہندوازم نے ہر جگہ اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں‘ جس سے تمام اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں ۔ امریکہ United States کے 34 کانگریس اور سینیٹ اراکین‘ اس خط کے ذریعے آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجرنگ دل‘ وشوا ہندو پریشد ا ور راشٹریہ سیوک سنگھ جیسی بدنام زمانہ مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کے نام لکھے گئے‘ اس خط کو تیسرے دن 28 فروری کو امریکی کانگریس کی ہیومن رائٹس کمیشن کے TOM LANTOSنے میڈیا کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ سب کچھ سنی سنائی یا کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں‘ بلکہ قابل ِاعتبار ذرائع سے ملنے والی ویڈیوز ‘جن کی فرانزک رپورٹس بھی چیک کی گئی ہیں اور جس نے ثابت کر دیا ہے کہ نریندر مودی narendra modi حکومت کے دو سال کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں سینکڑوں مسلم ‘ عیسائی‘ سکھ بچوں‘ عورتوں اور مردوں کو بہیمانہ طریقے سے ہلاک کیا گیا ہے ‘لیکن نریندر مودی narendra modi کی انتہا پسند بھارتی Indian حکومت اس خط پر کوئی ایکشن لینے کی بجائے اُن کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ‘کیونکہ مودی خود آر ایس ایس RSS کی پیداوار ہے۔

اب مودی حکومت کو چار سال ہونے کو ہیں اور اس نے بھارت India میں اگلے انتخابات کی تیاریاں اس طرح شروع کر دی ہیں کہ جن ہندو انتہا پسند تنظیموں کے خلاف ثبوت مہیا کرتے ہوئے امریکی کانگریس نے بھارت India کو یاد داشت بھیجی‘ انہی ہندو تنظیموں کو نریندر مودی narendra modi کی جانب سے کروڑوں روپے مہیا کرتے ہوئے یہ فرائض سونپ دیئے گئے ہیں کہ وہ آنے والے انتخابات میں اُن کی کامیابی اور پراپیگنڈہ مہم کیلئے میڈیا کو ہر طریقے سے اپنے ساتھ ملائیں اور اس سلسلے میں میڈیا کے ایک گروپ سے کی جانے ڈیل کی ویڈیو سامنے آنے سے بھارت India میں اس پر شور بھی مچا ہوا ہے۔

cobrapost.com کو کلک کیجئے ‘تو آپ کو ایک نہیں‘ بلکہ ٹائمز آف انڈیا‘ جیسے معتبر اخبار والوں کی لین دین کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آ جائے گئیں۔ اس خریدو فروخت میں بھارت India کے مشہور چینل :DAINIK JAGRAN....KHABAR, SAB GROUP....DAILY NEWS, UNI, 9X TASHAN, SAMA CHAR PLUS, HNN 24X7, SWATANTRA BHARAT SCOPWHOOP جیسے میڈیا گروپس خود کو بیچتے اور سودے کرتے ہوئے صاف دکھائی دیں گے۔ان کے علاوہRediff.com پر کئی اور تفصیلی رپورٹس اور ویڈیوز بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔حیران کن طور پرصرف کرناٹک کے انتخابات کیلئے ''SANGATHAN''نے 742 کروڑ کا بجٹ صرف کیا ۔ ویڈیو میں یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ 2014ء کے انتخابات میں بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی نے8 ہزار کروٹ روپے کا بجٹ صرف کیا اور اب2019 ء کے انتخابات کیلئے نہ جانے کس قدر رقم خرچ کی جائے گی‘ جس کیلئے ابھی سے ہندو انتہا پسند تنظیموں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ درجنوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے میڈیا گروپس ان تنظیموں کی بجائے مودی کے سیکرٹریٹ سائوتھ بلاک سے رابطے کر رہے ہیں کہ انہیں بھی اس فنڈ میں سے حصہ دیا جائے اور نئی دہلی سمیت بھارت India کی ان ریا ستوں میں جہاں بی جے پی BJP کی حکومت ہے مال اکٹھا کرنے کی چھینا جھپٹی کی اک عجب سی دوڑ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔

نریندر مودی narendra modi کی حکومت ابھی مذکورہ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے میڈیا کو قابو کرنے کے کھیل میں مصروف تھی کہ اس پر بجلی اس وقت گر ی‘ جب امریکی سی آئی اے نے اپنی ورلڈ فیکٹ بُک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بھارت India کی بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کو دہشت گرد مذہبی تنظیم تسلیم کر کے ‘اس کے خلاف کارروائی کا مطا لبہ کر دیا۔جیسے ہی سی آئی اے کی رپورٹ سامنے آئی ‘بھارت India کا انتہا پسند میڈیا ‘امریکہ United States اور سی آئی اے کے خلاف لٹھ لے کر کھڑا ہو گیا اور ان دنوں بھارتی Indian چینل دیکھتے ہوئے‘ ان کے چیخ وپکار سے ‘ان کے چہرے نیلے پیلے ہوتے دکھائی دیتے رہے۔ شاید اسی لئے کہ سی آئی اے نے صرف بھارت India کو نہیں‘بلکہ دنیا بھر کو وہ آئینہ دکھا یا کہ جس کو دیکھتے ہوئے پورا یورپ اور امریکہ United States شرماتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان Pakistan کو بھی دہشت گردی کا شکار ملک قرار دینے کیلئے FATF کا اجلاس جلد ہونے جا رہا ہے ۔کیا اس کانفرنس کے شرکاء کے سامنے جب پاکستان Pakistan کا نام لیا جائے‘ تو یورپی ممالک یا امریکہ United States کا کوئی ایک رکن ِکانگریس ‘ امریکہ United States کی جانب سے مذکورہ خط کو مندو بین کے سامنے لانا پسند کرے گا‘ تاکہ سب کو پتہ چلے کہ بجرنگ دل‘ وشوا ہندو پریشد اور راشٹریہ سیوک سنگھ ہندوستان کی وہ انتہا پسند تنظیمیں ہیں ‘جنہوں نے بھارت India کی تمام اقلیتوں کو کانٹوں پر لٹا رکھا ہے۔اور جو امریکی سی آئی اے نے اپنی فیکٹ بُک میں بھارت India کی دو عسکری انتہا پسند تنظیموں کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ شائع کی ہے‘FATF میں اس کا پیش کیا جانا لازمی امر ہونا چاہیے۔

امریکی سی آئی اے کی جاری مذکورہ ورلڈ فیکٹ بُک نے بھارت India بھر میں اس لئے بھی آگ لگا دی کہ اس میں بھارت India کے ایک ایک حصے کی مکمل تفصیل سے مذہبی انتہا پسندی کی پر تشدد کارروائیوں ‘ عیسائی اور مسلمانوں کے گھروں کو جلانے اور انہیں قتل کرنے کے نقشے تک اس رپورٹ میں شامل کئے ہیں۔اس رپورٹ میں جموں کشمیر اور آزاد کشمیر کو پاکستان Pakistan کا با قاعدہ حصہ دکھایا گیا ہے‘ جس پر بھارت India کی کئی انتہا پسند تنظیموں نے مظاہرے شروع کئے ہوئے ہیں کہ اس رپورٹ سے ثابت ہو رہا ہے کہ سی آئی اے بھارت India کے خلاف کام کر تی ہے۔ سی آئی اے کی اس رپورٹ کے مطا بق بھارت India کی بہت سی علا قائی اور انتہا پسند ہندو تنظیموں ہیں ‘لیکن اس رپورٹ میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کو وادی ٔکشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم قرار دیاگیا ہے‘ جس پر بھارت India کی ہندو تنظیمیں سخت احتجاج کر رہی ہیں کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کو سی آئی اے نے دہشت گردی اور عسکری تنظیم کا نام کیوں نہیں دیا۔ یہاں سی آئی اے کی فیکٹ بک کا ایک پیراگراف ملاحظہ کریں:''RSS leader Mohan Bhagwat and VHP.s Pravin Togadia among those who lead ''Numerous religious or militant/ Chauvinistic Organisations''

مذکورہ جملے ثابت کرتے ہیں کہ وشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس RSS نہ جانے کتنی انتہا پسند تنظیموں کی آبیاری کر تے ہوئے بھارت India کی اقلیتوں اور دلتوں کو ہر وقت آگ میں جھونکتے رہتے ہیں۔وشوا ہندو پریشد بھارت India بھر میں یہ مہم چلا رہی ہے کہ کسی بھی مسلمان کو اپنے اپنے علا قوں میں کسی قسم کی جائیداد خریدنے کی اجا زت نہ دی جائے اور اگر کسی مسلمان کے بارے پتہ چلے کہ وہ چپکے سے کوئی بھی جائیداد خرید رہا ہے‘ تو اسے سختی سے روکتے ہوئے ہر قسم کے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے روک دیا جائے۔

 204