ایک نادر کتاب

نا تمام - ہارون الرشید

26 مارچ 2020

ایک نادر کتاب

اس کتاب کا ایک اور سبق یہ ہے کہ کسی حال میں صاحبِ ایمان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئیے۔ زندگی صبر، امید اور جدوجہدمیں ہے۔

بریگیڈئیر سلطان کی کتاب The ''Stolen" Victoryپڑ ھ چکا تو والٹیر کا وہی جملہ یاد آیا: Every word of a writer is action of generosity لکھنے والے کا ہر جملہ، ہر لفظ سخاوت کا عمل ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کتاب پر یہ قول صادق نہیں۔ لیکن بریگیڈئیر سلطان کی کتاب پہ یقینا۔ افسوس کہ یہ کتاب میں نے بہت تاخیر سے پڑھی۔ مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ ناچیز اسے اردو میں لکھے اور اس کا انگریزی ایڈیشن وہ خود رقم کریں۔

بریگیڈیر سلطان کی صاحبزادی نے یہ کتاب پروفیسر احمد رفیق اختر کے لیے ناچیز کو عنایت کی۔ ازراہِ کرم انہوں نے مجھے پہچانا اور کہا کہ ایک نسخہ مجھے بھی عنایت کریں گی۔ عاریتاً پروفیسر صاحب سے لے لی۔ رک رک کر ایک ایک پیرا گراف پہ غور کرتے ہوئے پڑھی۔ عجیب بات ہے کہ یہ کتاب برائے فروخت نہیں۔

1993ء میں جب کام کا آغاز کیا تو بریگیڈئیر صاحب نے کہا تھا: یہ دنیا کی بہترین کتاب ہونی چاہئیے۔ ان کا اندازِفکر ہمیشہ سے یہی تھا۔ ہر کام کو درجہ ء کمال تک پہنچانے کی پوری سعی۔آئی ایس پی آر کو متعلقہ اشاعتی ادارے پاکستان Pakistan پوسٹ فاؤنڈیشن سے اس کتاب کے حقوق حاصل کرنے چاہئییں۔ اردو میں اس کا ترجمہ کرانا چاہئیے اور فوراً۔پاکستانی فوج کے ہر فرزند کو ان اوراق کا مطالعہ کرنا چاہئیے۔ اس لیے نہیں کہ یہ شجاعت کی حیرت انگیز داستان ہے۔ اس لیے بھی کہ مشرقی پاکستان Pakistan کے بارے میں مغالطے دور کرتی اور حقائق روشن کر ڈالتی ہے۔ اس لیے بھی کہ جنگی اخلاقیات پر ایسی دستاویز شاذ ہوگی۔

بریگیڈئیر نے کتاب کا آغاز ان جنگی اصولوں سے کیا ہے،بدر کے موقع پر رسولِ رحمت ؐکے حکم سے سید نابلال ؓنے جن کا اعلان کیا تھا:

0کسی خاتون اور بچّے کو نقصان نہیں پہنچے گا 0کھیت میں کام کرتے کسی کسان، کسی بزرگ یا معذور آدمی کو بھی نہیں 0پھل دار درخت کاٹا نہیں جائے گا 0 ایک گھونٹ پانی اور خوراک کا ایک لقمہ بھی قیمت چکائے بغیر نہیں لیا جائے گا 0کوئی سوار جنگی قیدی کو پیدل نہیں چلائے گا 0ہتھیار ڈالنے والے حسنِ سلوک کے مستحق ہوں گے 0آخر میں پھر یاد دہانی کہ بچّے ہر حال میں محفوظ رکھے جائیں گے

عمر بھر بریگیڈئیر سلطان مرحوم نے ان سب اصولوں کی پاسداری کی۔ کئی سو چھوٹے بڑے معرکوں کی روداد میں ان واقعات کا ذکر ہے۔ توجہ سے پڑھی جائے توکتاب کا ایک ایک لفظ دل و دماغ پہ نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔

ملٹری کالج جہلم نے بریگیڈیر سلطان کو اپنی پون صدی کی تاریخ کا سب سے بہادر فرزند قرار دیا تھا۔ شاید وہ واحد زندہ سپاہی تھے، جن کے لیے نشانِ حیدر تجویز کیا گیا۔ 1965ء اور 1971 ء دونوں بار وہ تمغہ ء جرات کے مستحق ٹھہرے۔ ان کا اندازِ فکر مختلف تھا۔ دوسری بار تمغہ ملا تو جی ایچ کیو کے نام ایک خط میں انہوں نے لکھا ’’میں نے اپنی جنگ دھات کے اس ٹکڑے کے لیے نہیں لڑی تھی جو میری موت کے بعد دیوار پہ لٹکایا جائے گا۔‘‘

زندگی کے آخری برسوں میں، کبھی میں انہیں افسردہ دیکھتا۔ گہراغم تھاکہ اجازت دی جاتی تو وہ دشمن کو ڈھاکہ میں داخل نہ ہونے دیتے۔ درحقیقت یہ ذمہ داری انہیں سونپ دی گئی تھی۔ متعلقہ ڈویژن کے بریگیڈیر کی گرفتاری کے بعد وہ ایک پوری بریگیڈ کے انچار ج بنا دیے گئے تھے، شہر کا جسے دفاع کرنا تھا۔ تمام تیاریاں مکمل کر لیں تو اچانک ہتھیار ڈالنے کا حکم ملا۔ بے چین China ہو کر وہ جنرل نیازی سے ملنے گئے لیکن اس وقت ہتھیار ڈالنے کے لیے وہ پلٹن میدان پہنچ چکے تھے۔ مشہورِ عالم جریدے ٹائمز، کرسچین China سائنس مانیٹر، بی بی سی اور درجنوں اخبارات بریگیڈیر سلطان اور 31بلوچ رجمنٹ کی خیرہ کن شجاعت اور جنگی مہارت کی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ خود بھارتی Indian اخبارات نے انہیں غیر معمولی خراجِ تحسین پیش کیا۔ جس کسی نے 1971ء میں ہونے والی جنگ کی تاریخ لکھی اور جو کوئی لکھے گا، وہ اس جگمگاتے باب کو دہرائے گا۔ بھارتی Indian جنرلوں نے قیدی کرنل کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔بھارت India کے اندر قیدیوں کے کیمپ میں میجر وکرم نے ساتھیوں سمیت انہیں قطار میں کھڑا کر دیا تھا کہ گولیوں سے اڑا دیے جائیں کہ ایک حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔’’جنیوا کنونشن کی تم خلاف ورزی کر رہے ہو۔ تمہاری رائفلیں ہم چھین لیں گے اور تم پہلے مقتول ہو گے۔‘‘انہوں نے کہا۔ بدتمیز وکرم پسپاہو گیا۔ بعد میں ایک بھارتی Indian جنرل پاکستانی سپوت سے ملنے آیا اور خفیف لوٹا۔

بریگیڈئیر کے اعزازات بے شمار ہیں۔ ایک رجمنٹ اور کچّے مورچے، مقابلے میں ایک پورا بریگیڈ تھا۔ پکّے مورچے اور فضائی تحفظ، جو 31بلوچ رجمنٹ کو حاصل نہ تھا۔ 9دسمبر1971 ء کو بھارتی Indian کمانڈر ایچ ایس کلرنے جب انہیں لکھا:آپ کی تعداد بہت کم ہے۔ چاروں طرف سے آپ گھر چکے ہیں، ہتھیار ڈال دیجیے۔ جواب میں بریگیڈئیر نے لکھا ’’ہم جنگ کے انتظار میں ہیں۔ امید ہے، اگلی بار اپنے ہاتھ میں آپ اس قلم کی بجائے سٹین گن پکڑے دکھائی دیں گے۔ رقعہ گولی میں لپیٹ کر بھیجا گیا۔

1965ء کی جنگ میں، مقبوضہ کشمیر میں لگ بھگ ایک سو چھاپہ مار کارروائیاں ان کے دستے نے کیں۔ سینکڑوں کلومیٹر اندر تک گئے اور ہر بار محفوظ لوٹے۔ ایک معرکے میں ایک پوری بھارتی Indian پلٹن کا وجود ہی مٹا دیا۔ بریگیڈیئر کی زندگی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان کے ہاں تھکاوٹ اور پسپائی کا تصور ہی نہیں۔ 1965ء میں اپنی سب سے بڑی فتح اس حال میں انہوں نے حاصل کی کہ ان کے اکثر سپاہی شدید سردی کے سبب بیمار اور درماندہ تھے۔

عمر بھر بریگیڈیئر نے جنگی فنون میں عرق ریزی کی یا انگریزی کے ادبِ عالیہ میں۔ ان نادر و نایاب لوگوں میں سے ایک، خوف جن کی کھال میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ جن کا ایک ایک لمحہ اپنے مقصدِ حیات کے لیے وقف ہوتاہے۔

ایسی عظیم کتاب ایک آدھ کالم میں کیسے نمٹ سکتی ہے۔ کئی بار لکھنا ہوگا اور وہ واقعات بھی،جو کتاب کا حصہ نہیں۔ مثلاًجنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے انہیں سبکدوش کیوں کیا۔ مثلاً اپنے گھر میں مدعو کر کے جب یہ کہا کہ کیا تلافی ممکن ہے تو بریگیڈئیر نے جواب دیا:جنرل صاحب، جنگ لڑنے کے سوا میں نے کچھ سیکھا ہی نہیں۔

یہ کتاب اس بھید کو آشکار کرتی ہے کہ مسلم تاریخ نے طارق بن زیاد، محمد بن قاسم اور صلاح الدین جیسے جنرل کیسے جنے۔جذبہ ء شہادت کی عظمت کا بھید ان پر کھلتا ہے، جو قلب و دماغ سے موت کا خوف نوچ پھینکتے ہیں۔ قربان ہونے پہ تل جاتے ہیں۔ خوف پہ آدمی جب قابو پا لیتا ہے تو دوسروں جیسا نہیں رہتا۔ شہید کے لیے دائمی حیات ہے۔

اس کتاب کا ایک اور سبق یہ ہے کہ کسی حال میں صاحبِ ایمان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئیے۔ زندگی صبر، امید اور جدوجہدمیں ہے۔

 1240