دنیا بدل گئی

طلوع - ارشاد احمد عارف

26 مارچ 2020

دنیا بدل گئی

حکومت اور قومی اداروں پر تنقید بہت ہو چکی‘ کمزوریاں اجاگر ہوئیں اور لاک ڈائون میں تاخیر کی ذمہ داری وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے قبول کی‘نقطہ نظر اب بھی ان کا یہی ہے کہ لاک ڈائون سے غریب عوام بالخصوص دیہاڑی دار مزدوروں‘ رکشے‘ ریڑھی ‘ چھابڑی والوں کی مشکلات بڑھیں گی اور کرونا کے مقابلے میں مکمل لاک ڈائون شائد زیادہ نقصان دہ ہو‘ توقع یہ تھی کہ پارلیمانی کانفرنس میں اپوزیشن وزیر اعظم Prime Minister کے اس بیانیے کے مدمقابل قابل عمل تجاویز پیش کرے گی مگر لفاظی کے سوا میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif ‘ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور دیگر لیڈروں کے پلّے کچھ نہیں۔عمران خان Imran Khan نے غریب عوام کو ریلیف دینے کے لئے جامع معاشی پیکیج دے کر ویسے ہی اپوزیشن کے بیانیے کو کند کر دیا‘ جو مسلسل یہ دہائی دے رہی تھی کہ عمران خان Imran Khan کو غریب عوام کا احساس ہے نہ کرونا اور لاک ڈائون سے جنم لینے والی مشکلات کا ادراک۔ امریکہ United States ‘ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان Pakistan میں کرونا وائرس کے مریضوں اور جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد کئی گنا کم ہے اور اس کا حوالہ دے کر عمران خان Imran Khan نے گزشتہ روز اپنی بریفنگ میں سینئر اینکرز کا منہ بند کیا‘بریفنگ میںموجود بعض اینکرز کے حساس موضوع سے ہٹ کر سوالات اور کج بحثی سے ناظرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وزیر اعظم Prime Minister پوری تیاری کر کے میڈیا کے سامنے آئے جبکہ سینئر اینکرز نے وزیر اعظم Prime Minister سے کچھ اگلوانے کے بجائے انہیں اپنے مشوروں سے نوازنے ‘نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو عقل کل ثابت کرنے پرزور بیان صرف کیا۔ یوں لاک ڈائون کی بحث میں ڈیڑھ دو گھنٹے ضائع ہو گئے۔رہی اپوزیشن تو اس کے ذہنی دیوالیہ پن کی قلعی پارلیمانی کانفرنس میں غیر ذمہ دارانہ رویّے سے کھل گئی‘ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے اپنی پریس کانفرنس میں پٹرول کی قیمت میں ستر روپے کمی کا مطالبہ کیا جبکہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے دور حکمرانی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت اٹھائیس ڈالر فی بیرل ہوئی عوام کو اتنا ریلیف کبھی نہ ملا جتنا عمران خان Imran Khan نے دیا‘ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto سود کی شرح صفر مقرر کرنے پر بضد ہیں یہ مشورہ 2008ء سے 2013ء کے دوران اباّ جان کو کیوں نہ دیا؟ اِک معمّہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

کرونا وائرس بظاہر بیماری ہے ‘ایک لاعلاج مرض مگر اس نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انسان کی سوچ‘ انداز گفتگو‘ کھانے پینے‘ اٹھنے بیٹھنے‘ملنے جلنے‘ رہنے‘ سہنے اور پہننے اوڑھنے کے معمولات میں نمایاں فرق کا مشاہدہ ہر ذی شعورکر رہا ہے‘ ترجیحات بدل چکی ہیں اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہے۔ایسی زندگی جس میں ماں باپ پیارے ننھے منّے بچوں کا منہ چوم سکیں نہ میاں بیوی کو ایک بستر پر مل بیٹھنے کی اجازت اور نہ اہل خانہ کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کھانا پینا مناسب‘ موت ایسی کہ کوئی قریبی عزیز رشتے دار غسل دے سکے نہ کفن پہنانے کے قابل اور اپنے ہاتھ سے قبر میں اتارنے کی سخت ممانعت‘ یہ صرف مرض نہیں‘اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ دنیا جہاں کی نعمتوں سے آراستہ محل نماگھروں میں خوفزدہ انسان‘ ویران دفاتر‘ اجاڑ سڑکیں اور سنسان گلیاں۔ آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اگر ہم اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے توبہ و استغفار اورعبادت‘ سخاوت اور رحمدلی کو شعار نہ کریں ‘بدستور انکار کمینگی و سنگدلی کی دیرینہ عادت میں مبتلا رہیں تو بدنصیبی کے سوا کیا ہے؟‘ مصیبت کی ایسی گھڑی میں انسان کا پتھر دل موم ہوتا اور ذکر خداوندی کے علاوہ خدمت خلق کی ترغیب ملتی ہے۔ توبہ صرف یہ نہیں کہ ہم حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی پر معافی مانگیں اور آئندہ نماز روزے‘ حج‘ زکوٰۃ کی پابندی کا عہد کریں بلکہ جھوٹ‘ مکر‘ فریب‘ بدعہدی‘بددیانتی‘ملاوٹ ‘ ذخیرہ اندوزی‘ گراں فروشی‘ جعلی ادویات کی تیاری و فروخت ‘ دوسروں کی حق تلفی سے مکمل احتراز اور اللہ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا عہد اور تلافی مافات حقیقی توبہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو صرف اعتراف جرم اور نیک چلنی کی یقین دہانی کے ساتھ معاف فرما دیتا ہے لیکن حقوق العباد کی معافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حق تلفی کا ازالہ نہ ہو‘اپنے ہی بھائی بندوں کو ملاوٹ‘ گراں فروشی‘ذخیرہ اندوزی سے نقصان پہچانے والا شخص آخر کس کس سے معافی کا طلب گار ہو گا ؟اور کس طرح حق تلفی کا ازالہ کر سکتا ہے ؟یہ ہم سب کو سوچنا چاہیے۔

جب کسی وبا کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خالق و مالک اپنے بندوں کی مکروہ حرکتوں اور مردم بیزار اعمال سے رنجیدہ ہے اور بھولے بھٹکے انسان کو یہ احساس دلانے پر مائل کہ وہ اپنی اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی جان پر ظلم کرنے سے باز آئے‘ قوانین فطرت کی پاسداری کرے اور کرۂ ارضی کو انسان نما وحشی درندوں کی آماجگاہ نہ بننے دے‘ جو آہستہ آہستہ بن رہی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور مذہب کے مابین مقابلے نہیں‘ یہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بتوں کی پوجا چھوڑ کر معبود حقیقی کے سامنے سر جھکانے کا وقت ہے ۔وہی معبود حقیقی جس نے تدبیر‘ دعا اور توکل کا راستہ دکھا کر انسان کو آزمایا کہ دیکھیں وہ کس راستے پر چلتا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈائون کا کڑوا گھونٹ بھر لیا مگر ذخیرہ اندوزی‘ ناجائز منافع خوری اور گراں فروشی کے خاتمے کی مہم سست روی کا شکار ہے ۔یہ سست روی بڑے خطرے کو جنم دے رہی ہے کہ کہیں یہ عوام دشمن مافیا غریب عوام کو بھوکوں مرنے پر مجبور نہ کر دے‘ تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی بھی حلقہ انتخاب میں ضرورت مندوں کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے دیرینہ مشاغل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔عمران خان Imran Khan اور دیگر قائدین انہیں بھی حق نمائندگی ادا کرنے کی ترغیب دیں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ ضرورت مندوں کو اشیائے خورو نوش گھروں تک پہنچانے کے لئے رضا کاروں کی بھرتی میں مزید تاخیر نقصان دہ ہے کہ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگے ہیں اور بھوک کچی بستیوں میں ناچنے لگی ہے۔ کرونا کے مریض مسلسل یہ دہائی دے رہے ہیں کہ وہ مخصوص مراکز میں بدسلوکی کا شکار ہیں اور جو لوگ گھروں میںسیلف آئسولیشن کے ذریعے اپنا علاج کرنے کے قابل ہیں انہیں بھی پولیس اہلکار زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر ان مراکز میں لے جاتے ہیں جہاں مناسب سہولتوں کا فقدان اور مرض بڑھنے کا خطرہ ہے۔ جو سہولت صوبائی وزیر سعید غنی کو حاصل ہے وہ ان لوگوں کو دینے میں کیا حرج ہے جن کے ٹیسٹ پازیٹو آئے مگر بظاہر تندرست ہیں اور اپنے گھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ۔ عمران خان Imran Khan اور وزراء اعلیٰ کے علاوہ دیگر حکام اس شکائت کا ازالہ کریں کہ قرنطینہ مراکز اور ہسپتال عوام کے لئے باعث سہولت رہیں عقوبت کدے اور اذیت خانے ثابت نہ ہوں۔

 214