لنگڑا مچھر

قلم کمان - حامد میر

26 مارچ 2020

لنگڑا مچھر

یہ ایک لنگڑے مچھر کی کارستانی ہے۔ یہ مچھر ہر دور میں کسی طاقتور حکمران کی ناک میں گھس جاتا ہے۔ ناک کے راستے حکمران کے دماغ میں پہنچتا ہے۔ حکمران غلط فیصلے کرنے لگتا ہے اور پھر نتیجہ صرف وہ حکمران نہیں بلکہ اُس کی پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ آج دنیا کے پُررونق ترین شہر ویران ہو رہے ہیں۔ کورونا وائرس نامی عالمی وبا کے خوف سے سب کچھ بند ہو رہا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری زندگی میں ایسا وقت آئے گا جب علماء کہیں گے کہ مسجدوں میں جاکر نماز ادا کرنے کی ضرورت نہیں، نماز گھروں پر ادا کرو۔ جب گرجا گھروں اور مندروں سمیت تمام عبادت گاہوں کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اربوں لوگ موت کے خوف سے اپنے آپ کو گھروں میں بند کر لیں گے لیکن خوف کے اس ماحول میں غور و فکر کریں تو ذہنوں کے کچھ دروازے کھل جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ کورونا وائرس نے اچانک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سائنسدان اور ماہرینِ طب پچھلے کئی سالوں سے خبردار کر رہے تھے کہ ایک عالمی وبا دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے۔ ان سائنسدانوں نے اس وبا کا توڑ کرنے کیلئے جو فنڈز مانگے وہ طاقتور حکمرانوں کیلئے مونگ پھلی کے چند دانوں کے برابر تھے لیکن اُن کے دماغ میں لنگڑا مچھر گھس چکا تھا لہٰذا یہ حکمران عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے بجائے دہشت گردی کے نام پر شروع کردہ جنگ پر کھربوں ڈالر خرچ کر تے رہے۔

میڈیا نے بار بار یاد دلایا کہ دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ کوئی عالمی وبا ہو سکتی ہے لیکن طاقتور حکمران ٹی وی چینلز اور اخبارات و جرائد کو ’’فیک نیوز‘‘ کے طعنے دے کر سوشل میڈیا کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور خبطِ عظمت میں مبتلا ہوکر غلط فیصلے کرتے گئے۔ آج ان غلط فیصلوں کا خمیازہ پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ آج صبح میں نے ایک امریکی جریدے ’’کلینیکل مائیکرو بائیالوجی ریویو‘‘ کے اکتوبر 2007ء کے شمارے میں شائع ہونے والا ایک تحقیقی مضمون پڑھا جس میں پانچ سائنسدانوں نے 13سال قبل دنیا کو کورونا وائرس کے بارے میں خبردار کیا۔ یہ جریدہ امریکن سوسائٹی فار مائیکرو بائیالوجی کے زیر اہتمام شائع ہوتا ہے۔ کچھ سال کے بعد ایک امریکن تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن نے 2012ء میں ایک رپورٹ شائع کی اور بتایا کہ مستقبل میں امریکا کیلئے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ ایک عالمی وبا بنے گی جو امریکی معاشرے کے پورے طرزِ زندگی کو بدل کر رکھ دے گی لہٰذا اس طرف توجہ کریں۔ براک اوباما کی حکومت میں ہوم لینڈ سیکورٹی ایڈوائزر لیزا مناکو نے اس معاملے پر توجہ دینا شروع کی لیکن 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ United States کے صدر بن گئے۔ امریکی سائنسدانوں نے ٹرمپ سے گزارش کی کہ آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سالانہ ایک سو ارب ڈالر billion dollor خرچ کر رہے ہیں، ہمیں ایک عالمی وبا کا توڑ تلاش کرنے کے لئے سالانہ صرف ایک ارب ڈالر billion dollor دیا جا رہا ہے ہمیں صرف ایک ارب ڈالر billion dollor مزید دے دیں تاکہ ہم صرف امریکہ United States کو نہیں پوری دنیا کو ایک نئی وبا سے محفوظ رکھ سکیں جو چین China میں جنم لے سکتی ہے۔ ٹرمپ اس درخواست کو مسترد کرتے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ وبا چین China میں جنم لے گی تو صرف چین China کو تباہ کرے گی لیکن جب وبا پھیل گئی تو امریکہ United States بھی بند ہونے لگا۔ اب ٹرمپ نے مزید فنڈز دے دیے ہیں لیکن بہت دیر ہو چکی۔

سائنسدان ابھی تک کورونا وائرس کا علاج دریافت نہیں کر پائے لہٰذا کوئی اس وبا کو ﷲ کا عذاب کہتا ہے کوئی آزمائش کہتا ہے۔ ایسی وبا پہلی دفعہ نہیں آئی۔ قرآن Quran مجید میں ایسی وبائوں کا ذکر ملتا ہے جن کے باعث سرکش اور بدکردار قومیں برباد ہو گئیں۔ قرآن Quran مجید کی سورۃ الاعراف میں طوفان اور ٹڈی دَل کے علاوہ مینڈکوں کی بھرمار اور خون کی بارش کو بھی اللہ کا عذاب قرار دیا گیا۔ 1981ء میں جنوبی یونان میں آسمان سے مینڈکوں کی بارش ہوئی تو سائنسدان حیران رہ گئے۔ سری لنکا میں مینڈکوں کے ساتھ آسمان سے مچھلیاں بھی گریں۔ 2001ء میں بھارتی Indian ریاست کیرالا میں خون کی بارش ہو گئی۔ 2015ء میں آسٹریلیا کے علاقے نیو سائوتھ ویلز میں آسمان سے مکڑیوں کی بارش ہو گئی۔ سائنسدانوں نے بہت غور کیا اور یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے دی کہ شائد طوفانی ہوائیں زمین اور سمندر کی مخلوق کو آسمانوں میں لے گئیں اور وہ مخلوق بارش کے ذریعہ واپس زمین پر آ گئی لیکن ان واقعات کے اشارے بہت پہلے قرآن Quran میں مل چکے تھے۔ قرآن Quran کریم خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ جس میں کئی معجزوں کا ذکر ہے جن کے سامنے سائنس بےبس ہے لیکن سائنس بار بار قرآن Quran کی سچائی کے ثبوت فراہم کرتی رہتی ہے۔ قرآن Quran حکیم کی سورۂ یونس میں کہا گیا کہ ہم فرعون کے بدن کو بچائے دیتے ہیں تاکہ تو آنے والی نسلوں کیلئے عبرت کی نشانی بنے۔ جب قرآن Quran نازل ہو رہا تھا تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے۔ تقریباً تین ہزار سال تک فرعون کی لاش ایک مقبرے میں پڑی رہی، 1898ء میں فرعون کی حنوط شدہ لاش کا سراغ ملا اور 1907ء میں ایلیٹ سمتھ نے اس کا سائنسی معائنہ کیا اور کہا کہ یہ وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں ڈوب گیا تھا۔ فرعون کی حنوط شدہ لاش 1860ء میں مصر سے چوری ہو گئی تھی اور کینیڈا کے ایک میوزیم میں پہنچی۔ کینیڈا سے امریکہ United States کے ایک میوزیم میں پہنچی اور وہاں سے 2003ء میں واپس مصر آئی۔ 2009ء میں اس ناچیز کو بھی مصر میں فرعون کی حنوط شدہ لاش دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ مصر کے ایک میوزیم میں پڑی یہ حنوط شدہ لاش قرآن Quran مجید میں کی گئی پیش گوئی اور اُس کی سچائی کا ثبوت ہے۔ قرآن Quran مجید کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا، حضرت یونس علیہ السلام چالیس دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے، اصحاب کہف اپنے کتے سمیت ایک غار میں تین سو نو سال تک سوئے رہے اور پھر بیدار ہو گئے۔ نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا لیکن آگ اُن کا کچھ بگاڑ نہ سکی۔ قرآن Quran مجید میں بیان کیے گئے ان قصوں کو کچھ غیر مسلم سائنسدان تسلیم نہیں کرتے لیکن وہ یہ نہیں بتا پاتے کہ یہ تمام واقعات ایک ایسے رسولﷺ کو کیسے پتا چلے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اور اُمّی تھے؟

اس ناچیز کو عرض یہ کرنا ہے کہ قرآن Quran مجید ﷲ کی نافرمان قوموں کی تباہی کے قصوں سے بھرا پڑا ہے۔ فرعون اور نمرود جیسے حکمران اپنے گھمنڈ اور غلط فیصلوں سے پوری قوم کی تباہی کا باعث بنتے رہے۔ نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا لیکن ﷲ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو بچا لیا اور آپ ﷲ کے حکم سے وطن چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔ نمرود کی ناک میں ایک لنگڑا مچھر گھس گیا اور دماغ تک پہنچ گیا جب یہ مچھر تنگ کرتا تھا تو نمرود حکم دیتا کہ میرے سر پر جوتے مارو۔ وہ تخت پر بیٹھ کر سر میں جوتے لگواتا تھا۔ جوتے بند ہو جاتے تو مچھر دوبارہ تنگ کرتا اور اپنے آپ کو خدا کہلوانے والا حکمران اپنے درباریوں سے کہتا کہ مجھے پھر جوتے مارو اور پھر یہ نمرود جوتے کھاتا ہوا جہنم واصل ہو گیا۔ لیکن لنگڑا مچھر ابھی تک زندہ ہے۔ یہ وقت کے کسی نہ کسی نمرود کی ناک کے راستے اُس کے دماغ میں گھس جاتا ہے اور اُس کا غرور خاک میں ملا دیتا ہے۔ میں کوئی عالم ہوں نہ سائنس دان ایک معمولی صحافی ہوں اور مجھے کہنے دیجئے کہ کورونا وائرس دور جدید کے نمرودوں کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے اور خمیازہ پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ اس وقت لنگڑا مچھر ایک سے زائد حکمرانوں کے دماغ میں گھسا ہوا ہے۔ بہت جلد آپ ان گھمنڈی حکمرانوں کو جوتے پڑتے دیکھیں گے۔ ﷲ ہم سب کو معاف فرمائے آمین!

 213