فتح و نصرت کا دن

حرف راز - اوریا مقبول جان

29 فروری 2020

فتح و نصرت کا دن

آج کا دن محترم ہے۔ پوری امت کے لئے محترم۔ یہ دن میرے اللہ کی آیات (نشانیوں) میں سے ایک ہے۔ یہ دن اللہ کے اس اعلان کی تکمیل کا دن ہے کہ '' دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)۔ آج کے دن قطر کے شہر دوحہ میں طالبان اور امریکہ United States کے درمیان جو'' اتفاق نامہ'' دستخط ہوگا وہ ایک دستاویز نہیں، بلکہ ڈیڑھ ارب جیتی جاگتی، ہنستی بولتی اور عیش و عشرت میں گم،امت مسلمہ کے لئے ایک ایسی دستاویز ہے جو روزِ حشر ان کے سامنے اتمام حجّت کے طور پر پیش بھی کی جاسکتی ہے کہ دیکھو اگر میں ان نہتے چند ہزار لوگوں کو پوری دنیا پر فتح دے سکتا تھا تو تمہیں بھی غالب کر سکتا تھا۔

کسی کو یاد ہے 7 اکتوبر 2001ئ، رات نو بجے کا وہ وقت جب امریکہ United States نے کابل پر حملہ کیاتھا۔ یہ حملہ امریکہ United States نے اکیلے نہیں کیا تھا بلکہ دنیا پر آباد ہر طاغوت اس کے ساتھ تھا۔ ابتدائی لشکر میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا، سپین، اٹلی، یونان، بیلجیم، آسٹریا، البانیہ ڈنمارک، بلغاریہ، آئرلینڈ، فن لینڈ، ناروے، نیوزی لینڈ، پولینڈ، پرتگال، سنگاپور، رومانیہ، سویڈن، یوکرائن، کروشیا، چیک ریپبلک، آسٹونیا، آئس لینڈ، ہنگری، لٹویا، لگسمبرگ، سلواکیہ سلووینیا، مقدونیہ جیسے ملک شانہ بشانہ تھے۔ پاکستان Pakistan اور تاجکستان، رسد و کمک فراہم کرتے ہوئے ''حق ہمسائیگی'' ادا کر رہے تھے اور ایران Iran ان افغانیوں کے شانہ بشانہ تھا جو شمالی اتحاد کی صورت ان طاغوتی طاقتوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ طاغوت کا یہ قافلہ بڑھ رہا تھا۔ کابل ان کی زد میں تھا، پھر وہ ایک دن اس میں داخل بھی ہو گئے۔ انکی بظاہر فتح کو دیکھ کر، ترکی، آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات united arab emirates جیسے مسلمان ملک میں بھی لشکر ِطاغوت کا حصہ بنتے چلے گئے۔ یہ دن ہر مسلمان کیلئے آزمائش کے دن تھے، فیصلے کے دن تھے۔ مراکش کے ساحلوں سے لے کر برونائی کے محّلات تک پوری مسلم امہ اپنے بچوں کے ساتھ پرآسائش رہائشگاہوں اور محفوظ مسکنوں میں بیٹھی یہ تماشہ دیکھ رہی تھی۔ ان سب کے نزدیک افغانستان Afghanistan میں یہ چند سر پھرے مسلمان اب اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ ان ستاون اسلامی ملکوں کے حکمران، وزرائ، تبصرہ نگار، تجزیہ کار صرف ایک ہی راگ الاپ رہے تھے کہ ایک شخص ملا محمد عمر کی ''ہٹ دھرمی'' نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ وہ لوگ جو اسوقت اپنے اپنے ملکوں میں چین China اور آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے،ان عظیم انسانوں کے بارے میں ایسی گفتگو کرتے تھے جو صرف چند ہزار تھے مگر انہوں نے توکل کا راز پا لیا تھا اور انہیں صرف اللہ کی نصرت اور مدد پر ایمان و یقین تھا۔ آج ان چند ہزار کی فتح کا دن ہے اس لمحے،اس پوری امت کے خوف سے جنم لینے والی سرد مہری کے مقابلے میں ایک توانا آواز گونج رہی تھی۔ وہ آواز جو آج فتح یاب ہوئی ہے۔ ملا محمد عمر کی آواز۔سات اکتوبر 2001ء کے حملے سے ذرا پہلے انکی دو تقاریر ہیں،جو امت کی جدید تاریخ میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے ایمان کی یاد دلاتی ہیں۔ جب امریکہ United States کے منہ زور مذاکرات کاروں سے مذاکرات ناکام ہوئے تو ملا عمر نے امارات اسلامی کے ان چند ہزار سرفروشوں سے خطاب کیا۔ تقریر تو مجاہدین کے روبرو تھی، لیکن مخاطب عالمی طاغوت اور انکے ساتھی تھے۔ ملت اسلامیہ کے اس مرد مجاہد نے کہا '' امریکہ United States اور اس کے چند مزدور افغانیو! تمہاری طالبان مجاہدین کے بارے میں بڑی گھٹیا سوچ ہے۔ طالبان کی حکومت ظاہر شاہ کی حکومت کی طرح نہیں ہے، جس کا بادشاہ خود روم بھاگ گیا تھا اور اس کی فوج نے اپنے آپ کو دوسری حکومت کے حوالے کر دیا تھا۔ اگر ہم سے تمام سرکاری ادارے اور شہر چلے جائیں اور امریکہ United States اور ان کے دوست ان پر قبضہ بھی کرلیں تو یہ مجاہدین پہاڑوں اور جنگلوں میں چلے جائیں گے، پھر تم لوگوں کا کیا حشر ہوگا۔ اے امریکیو! اے افغانی امریکیو! اپنے آپ کو دھوکہ میں مت ڈالو! تمہارے اعمال کا نتیجہ بہت سخت ہوگا،یہاں قابض ہونے کے خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اے افغانیو! بہت لمبے عرصے بعد یہاں امن آیا ہے، ایک اسلامی نظام قائم ہوا ہے، افغانیوں کو خوشی اور سکون نصیب ہوا ہے۔ اس امن کو بدامنی میں تبدیل مت کرو۔اس اسلامی نظام کو کفر سے نہ بدلو۔ افغانیو! اگر تمہیں اسلامی قوانین کی پرواہ نہیں توپھر اسلام بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ تم امریکیوں کا ساتھ دیتے ہوئے جان دو گے تو مردار کہلاؤ گے۔ اے امریکیو! تم آجاؤ، میں بھی دیکھتا ہوں تم کس طرح آتے ہو اور جب تم آ جاؤ گے تو اپنا انجام بھی دیکھو گے''. اس تقریر کے بعد چند دن کی خاموشی رہی۔ ایک ایسا سکوت جو کسی بڑے طوفان کی آمد سے چند دن پہلے ہوتا ہے۔ اس کے بعد جارج بش کا اعلان جنگ ہے اور پھر کابل پر حملہ ہے۔ جس وقت امریکہ United States کے میزائل داغے جا رہے تھے تواپنی دوسری تقریر میں ملا محمد عمر کا ایک فقرہ آج تاریخ کی سب سے بڑی سچائی بن چکا ہے۔

''میں مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی میں ایسی کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جاؤں گا جو مسلمانوں کے لئے شرمندگی کا باعث ہو''۔

یہ فقرہ مسلمان امت کی چودہ سو سالہ تاریخ کے ان چند عظیم جملوں میں سے ایک ہے جس پر یہ امت رہتی دنیا تک فخر کرسکتی ہے اور آج کا دن اس جملے کی سربلندی کا دن ہے۔ عین اس حملے سے ذرا پہلے ملا عمر نے اپنے ہیڈکوارٹر میں ساتھیوں سے خطاب کیا تھا۔ یہ ان کا آزاد افغانستان Afghanistan میں آخری خطاب تھا۔ اس روشن فقرے کے علاوہ یہ خطاب بھی ایک مومن کی میدان جہاد میں آمد کی شاندار تصویر پیش کرتا ہے۔ فرمایا ''آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ صرف یہ ہے کہ اپنے عظیم رب پر توکل اور صبر و استقامت سے کام لیا جائے۔ بے غیرتی کا مظاہرہ کرنے سے ہم امریکی میزائلوں سے نہیں بچ سکتے۔ اگر کوئی ایمان کی حالت میں مرتا ہے تو اس سے بڑی بادشاہی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اے مسلمانو! اگر تم نے قربانی نہ دی اور اپنے دین کے لیے غیرت نہ دکھائی تو تمہارا حشر بھی ان قوموں کی طرح ہوگا جن کو اللہ نے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ذلیل کر دیا۔ ان کا ایمان اور عزت ان سے چھین لی گئی۔ آج یہ آگ اگر ہمارے یہاں لگی ہوئی ہے تو کل تمہارے گھر میں بھی لگ سکتی ہے۔ میں ذرا بھی ان لوگوں سے نہ ڈرتا ہوں، نہ مجھے ان کا خوف ہے۔ میں دین اسلام کے لئے سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں ان بے دین لوگوں سے معاہدہ کر لوں تو میری حکومت عزت اور دنیاوی مال و دولت سب کچھ برقرار رہے گا جیسے دوسرے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا ہے۔

اگر تم نے فرعون کی بات مان لی تو سمجھ لو تم نے مسلمانوں کا جنازہ نکال دیا۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کو ہمارا پیغام ہے کہ وہ افغانستان Afghanistan کے مسلمانوں کی مدد کریں اور ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں''۔ اس کے بعد ملا عمر نے سورہ الانفال کی یہ آیت پڑھی '' اللہ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے الگ کردیگا اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے گا اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دیگا ''۔ اور پھر دنیا بھر کے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا '' آپ کا ایمان آپ کو کیا کہتا ہے آرام سے بیٹھ کر نظارہ کرو یا کفار کے ساتھ مل جاؤ یا پھر مجاہدین کا ساتھ دو۔اے مسلمانو! اللہ نے آج ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ خبیث (ناپاک)، اور طیب (پاک) کو علیحدہ علیحدہ کرنا چاہتا ہے''۔یقینا ان اٹھارہ سالوں میں طیب اور خبیث کھل کر واضح ہو گئے اور آج طبیب لوگوں کے ساتھ اللہ کے وعدے کے اظہار کا دن ہے۔ یہ صرف امریکہ United States اور طالبان کے درمیان معاہدہ کا دن نہیں ہے بلکہ اللہ کے اس اعلان کا دن ہے کہ ''تم ہی کامیاب ہو گے اگر تم مومن ہو''۔ یقینا میرے رب کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے۔

 170