افغانستان Afghanistan میں امن آرہا ہے؟

جر گہ - سلیم صافی

29 فروری 2020

افغانستان میں امن آرہا ہے؟

قطر کے دارالحکومت دوحا میں آج تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ گزشتہ سال فروری میں شروع ہونیوالے امریکہ United States طالبان مذاکرات آج 29فروری کو دونوں کی ڈیل پر منتج ہو رہے ہیں۔ انیس سال کی خونریزی، تباہی، ہزاروں افغانوں کی قربانی، لاکھوں کے دربدر ہونے، ارب ہا ڈالروں کے خرچے، امریکہ United States اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لاکھوں بموں کے استعمال اور طالبان کی طرف سے سینکڑوں خودکش دھماکوں کے بعد آج امریکہ United States اور طالبان ڈیل پر متفق ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی رہائی کے بدلے میں طالبان اور افغان حکومت کی قید سے رہائی پانے والے آسٹریلیا کے پروفیسر ٹموٹی ویکس اور جلال الدین حقانی مرحوم کے صاحبزادے انس حقانی آج دوحا میں ہونیوالی اس تاریخی تقریب میں دوستوں کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ڈیل تاریخی رہے گی کیونکہ اس کے نتیجے میں امریکہ United States اور طالبان کی براہِ راست جنگ ختم ہو جائے گی اور صرف افغانستان Afghanistan نہیں بلکہ افغانستان Afghanistan سے جڑے بہت سے ممالک پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میں اسے ڈیل کا نام اس لئے بھی دے رہا ہوں کہ اس کے ذریعے دونوں فریق ماضی کے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ امریکی ماضی میں افغانستان Afghanistan سے نکلنے کو تیار نہیں تھے اور اس ڈیل کے نتیجے میں بتدریج ان کی افواج نکلیں گی جبکہ طالبان القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلق کو ہمیشہ

کیلئے ختم کرنے اور اپنی سرزمین کو کسی بیرونی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی گارنٹی دینے پر تیار ہوگئے جس کیلئے وہ ماضی میں تیار نہ تھے۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد امریکی طالبان کو مکمل ختم کرنے کے متمنی تھے اور ان کو کسی بھی شکل میں سیاسی نظام کا حصہ بنانے پر آمادہ نہ تھے، اب وہ طالبان کے وجود کو تسلیم کرکے انہیں افغانستان Afghanistan کے سیاسی نظام کا حصہ بنانے پر آمادہ ہوگئے۔ اسی طرح طالبان ماضی میں احمد شاہ مسعود، گلبدین حکمت یار، حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی جیسے دیگر افغانوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے لیکن اب ان کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ نظام بنانے پر تیار ہو گئے جس کا اظہار طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں کیا۔ اسی طرح ماضی میں طالبان اپنی امارت اسلامی کی بحالی پر اصرار کرتے تھے اور افغان آئین کے مطابق کسی سیاسی نظام کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں تھے، وہ اسلامی نظام پر بدستور اصرار کر رہے ہیں لیکن اب وہ دیگر افغان دھڑوں کے ساتھ نئے سیاسی نظام کی تشکیل کیلئے مذاکرات پر تیار ہو گئے۔ یوں تبدیلی دونوں طرف آئی ہے اور اس تبدیلی تک پہنچنے کے لئے جن لوگوں نے بنیادی کردار ادا کیا ان میں امریکہ United States کی طرف سے زلمے خلیل زاد، پاکستان Pakistan کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر، ملا امیر خان متقی اور انس حقانی جیسے لوگوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی طرح پس پردہ طالبان کے نائب امیر اور جلال الدین حقانی کے صاحبزادے سراج الدین حقانی اور سابق افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے دست راست عمر زاخیلوال کا کردار بھی بنیادی اہمیت کا حامل رہا۔ طالبان پر اثر و رسوخ رکھنے والی بعض پاکستانی دینی شخصیات نے بھی اہم کردار ادا کیا اور ان سب کی کوششوں کے ثمر کے طور پر آج قطر میں تاریخی ڈیل ہونے جا رہی ہے لیکن مکرر عرض ہے کہ یہ ڈیل افغانستان Afghanistan میں امن کی ضمانت نہیں۔ ایسا نہیں ہوگا کہ یکدم افغانستان Afghanistan سے تمام غیر ملکی افواج نکل جائیں گی بلکہ ان کا انخلا مرحلہ وار اور انٹرا افغان یا بین الافغان مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔ اسی طرح طالبان بھی کل سے سیاسی نظام کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ بین الافغان مذاکرات کے دوران وہ اپنی امارت اسلامی کی بحالی یا پھر کم از کم اپنی ترجیحات کے مطابق سیاسی نظام کی تشکیل پر اصرار کریں گے۔ اسی طرح قطر ڈیل تک پہنچنے کے عمل میں پاکستان Pakistan نے تو ڈٹ کر تعاون کیا لیکن افغانستان Afghanistan کے دیگر پڑوسی یا پھر چین، ایران، بھارت India یا روس Russia جیسی طاقتیں بھی اس پراسیس کو سبوتاژ نہیں کر رہی تھیں۔ بھارت India امریکہ United States کے ڈر سے ایسا نہیں کر سکتا تھا جبکہ ایران، چین China اور روس Russia بھی افغانستان Afghanistan سے نیٹو افواج کا انخلا چاہتے تھے، اس لئے وہ بھی سہولت کار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر ڈیل پر دستخطوں کے دوران ان سب ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے لیکن اب بین الافغان مفاہمت کے سلسلے میں علاقائی طاقتیں اپنی اپنی پراکسیز کو نئے نظام میں سمونے اور اپنی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کریں گی۔ یوں امریکہ United States اور طالبان کی ڈیل کا مرحلہ جتنا آسان تھا، بین الافغان مفاہمت کا عمل اتنا مشکل ہوگا۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ امریکہ United States اور طالبان کے مذاکرات میں بنیادی طور پر دو فریق یعنی امریکہ United States اور طالبان تھے اور دونوں کے اہداف اور خدشات بھی واضح تھے لیکن پھر بھی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ایک سال کا وقت لگا جبکہ بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں دو نہیں کئی فریق ہونگے۔ مذاکرات صرف افغان حکومت سے نہیں بلکہ اس میں حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ، رشید دوستم، گلبدین حکمت یار، استاد محقق، افغان سول سوسائٹی اور خواتین کے نمائندے بھی ہوں گے۔ اب حامد کرزئی جیسے لوگ اگر طالبان کے معاملے میں مفاہمانہ رویہ رکھتے ہیں تو امراللہ صالح جیسے لوگ انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں۔بین الافغان مذاکرات کے سلسلے میں تمام طالبان کو بھی ایک صفحے پر لانا ہوگا اور دوسری طرف کابل میں بیٹھی ہوئی سیاسی قوتوں کو پہلے آپس میں طالبان سے متعلق ایک صفحے پر لانا ہوگا اور پھر دونوں کے درمیان مشترکہ بنیادوں پر نظام تشکیل دینا ہوگا لیکن قریب کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ افغانوں نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کسی بات پر متفق نہیں ہوں گے۔ امن کی اصل کنجی بین الافغان مفاہمت ہے نہ کہ امریکہ United States طالبان ڈیل۔ اگر اسّی کی دہائی میں خلق اور پرچم کے رہنمائوں کے برہان الدین ربانی اور حکمت یار جیسے قائدین کے ساتھ بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوتے تو سوویت یونین کو مداخلت کا موقع نہ ملتا۔ پھر اگر مجاہدین آپس میں نہ لڑتے تو طالبان کا ظہور نہیں ہو سکتا تھا، پھر اگر طالبان اور مجاہدین کے بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوتے اور ان کے درمیان جنگیں نہ ہوتیں تو امریکہ United States اور نیٹو کو مداخلت کا موقع نہ ملتا۔ اسی طرح اگر اب بین الافغان مذاکرات کامیاب ہوئے اور افغان غیروں کے معاملے میں جو لچک دکھاتے ہیں، وہ انہوں نے ایک دوسرے کیلئے دکھا دی تو افغانستان Afghanistan میں امن قائم ہو سکتا ہے لیکن اگر بین الافغان مفاہمت کا عمل کامیاب نہ ہوا تو نہ صرف بیرونی مداخلتوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ خاکم بدہن خانہ جنگی کی صورت میں ایسی تباہی آسکتی ہے کہ ہم ماضی کی تباہیوں کو بھول جائیں۔ اسلئے اب کابل میں بیٹھے ہوئی افغان قیادت اور طالبان کو ایک دوسرے کیلئے اس سے زیادہ لچک دکھانا ہوگی جو انہوں نے امریکہ United States اور دیگر بیرونی طاقتوں کیلئے دکھائی اور پاکستانی قیادت کو بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کیلئے اس سے بھی زیادہ محنت کرنا ہوگی جو اس نے امریکہ United States اور طالبان کی ڈیل کے سلسلے میں کی ہے۔

 167