کالے بکروں کی جوابی کارروائی

روزن دیوار سے - عطاءالحق قاسمی

29 فروری 2020

کالے بکروں کی جوابی کارروائی

اللّٰہ خیر، ان دنوں میرے بہت سے مرحوم دوست ایک ایک کرکے خواب میں آنا شروع ہو گئے ہیں، میں نے کئی مرتبہ ان سے گزارش بھی کی کہ آپ کیوں زحمت کرتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو آرام کیلئے اپنے پاس بلایا ہے، آپ آرام فرمائیں۔ اس پر ایک دوست نے کہا کہ پھر تم ہمارے پاس آ جاؤ، تم سے ملنے کو بہت جی چاہتا ہے، لاحول ولاقوۃ۔ یہ کیا اندازِ محبت ہے، دراصل مجھے ان دوستوں کے خواب میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں، میں تو انہیں زحمت سے بچانے یا اس لئے منع کرتا ہوں کہ ان کا خواب میں آنا مجھے بہت مہنگا پڑتا ہے۔ میں جب کبھی خوابوں کی تعبیر بتانے والے ایک بزرگوار (انہیں بزرگوار صرف ان کی عمر کے حوالے سے کہہ رہا ہوں) کو اس طرح کا کوئی خواب سناتا، وہ مجھے کالے بکرے کی قربانی کرنے کو کہتے اور پھر اس کی سِری رات دو بجے کسی قبرستان میں بذاتِ خود جاکر دفن کرنے کی ہدایت کرتے۔ کالا بکرا تو جیسے تیسے قربان کر دیتا مگر رات کو دو بجے قبرستان جا کر اس کی سِری دفنانا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ اس سے وہاں دفن مرحومین کے آرام اور میرے حواس میں خلل پڑتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ ان بزرگوار سے عرض کی کہ اگر آپ میرے BEHALFپر یہ خدمت انجام فرما دیں تو بندہ ممنون ہو گا مگر انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ ایک سائل کی فرمائش پر میں نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا مگر اس کے بعد میرے اپنے مرحوم دوست میرے خواب میں آنا شروع ہو گئے تھے، میں نے بزرگوار سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کالے بکرے کی جگہ کسی سفید بکرے کی قربانی نہیں دی جا سکتی کہ بلا ٹالنے کیلئے ہر دفعہ بیچارے کالوں کی ہی شامت آتی ہے۔ بولے، صدیوں سے کالے ہی قربانی دیتے چلے آرہے ہیں، ان سے یہ اعزاز چھیننا نہیں چاہئے۔ اللّٰہ جانے مجھے کیا سوجھی کہ میں نے کہا چلیں یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ کالا دھن، کالا جادو، کالا قانون، کالا پانی، کالی زبان، کالا دل اور منہ کالا کرنا وغیرہ سب نحوست اور شر کی علامتیں ہیں، انہیں صرف کالوں کیلئے کیونکر مخصوص کر دیا گیا ہے کیا گورے نحوست اور شر کی علامت نہیں بن سکتے؟ فرمایا ’’اگر آپ انہیں شر کی علامت قرار دینے کا رسک لینا چاہتے ہیں تو شوق سے لیں، مجھ عاجز کو اس خار زار میں نہ گھسیٹیں‘‘ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’’چھوڑیں ان باتوں کو، آپ اپنا کوئی تازہ خواب سنائیں!‘‘۔

اور تازہ خواب کی فرمائش انہوں نے کچھ اس طرح کی جیسے کسی شاعر سے تازہ کلام کی فرمائش کی جاتی ہے۔ میں نے گلا صاف کرتے ہوئے ’’عرض کیا ہے‘‘ کے انداز میں انہیں بتایا کہ یہ تازہ خواب تو نہیں، کافی پرانا خواب ہے اور وہ یوں کہ ایک مرحوم دوست خواب میں آئے تھے اور وفورِ محبت میں بار بار جلدی ملنے کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے، میں نے انہیں موضوع سے ہٹانے کیلئے جان بوجھ کر ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی وہاں کیسے گزر رہی ہے، بولے کچھ نہ پوچھو، مزے ہی مزے ہیں، صبح سویرے آنکھ کھلتی ہے تو میں دودھ اورشہد کی نہر کے کنارے سیر کیلئے نکل جاتا ہوں، سیر کے بعد دودھ کی نہر میں سے ایک ڈونگا دودھ کا نکالتا ہوں اور شہد کی نہر میں سے شہد کے دو چمچ لے کر اسے توس پر لگاتا ہوں اور ناشتہ کرتا ہوں۔ پھر حوریں میرے اردگرد جمع ہو جاتی ہیں، کوئی پاؤں دابتی ہے، کوئی پیلاں ڈالتی ہے، بس مزے ہی مزے ہیں۔ آپ آجاؤ، کیا پڑا ہے دنیا کے جھنجھٹ میں!‘‘ بزرگوار نے یہ خواب سنا تو بولے ’’سبحان اللہ! یہ تو بہت مبارک خواب ہے۔ آپ جانے کی تیاری کریں!‘‘ مجھے اس جواب کی امید نہ تھی، میں نے انہیں مخاطب کیا اور کہا ’’آپ نے یہ شعر سنا ہوا ہے؟‘‘ پوچھنے لگے ’’کون سا؟‘‘ اس پر میں نے انہیں یہ شعر سنایا ؎

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین China نہ پایا تو کدھر جائیں گے

بولے ’’ہاں سنا ہوا ہے، مگر جہاں آپ کا دوست ہے، وہاں تو چین China ہی چین China ہے‘‘ میں نے عرض کی کہ وہ تو جنت میں ہے جبکہ میں اپنے اعمال سے واقف ہوں چنانچہ میں موجودہ جہنم میں مزید کچھ وقت گزار کر وہاں جاؤں گا تاکہ اس ماحول میں رہنے کی تھوڑی بہت پریکٹس ہو جائے۔ آپ دیکھیں نا، یہاں ہر شعبے میں گند ہی گند ہے، اور یوں سینہ آرزوؤں اور خواہشوں کا مدفن بنا ہوا ہے چنانچہ تھوڑا سا جہنم کے ماحول کا عادی ہو لوں اس کے بعد ہم میں سے تو اکثر نے وہیں جانا ہے‘‘۔میرا یہ جملہ انہیں کچھ اچھا نہ لگا۔ بولے ’’آپ یہ گمان صرف اپنے تک محدود رکھیں تو بہتر ہے… اور ہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جس عذاب سے ہم لوگ آج کل دوچار ہیں، جہنم کے عذاب کے مقابلے میں تو اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں، ذرا سوچیں جہنم میں آپ کو ناشتے میں پیپ کا ایک گلاس اور… ‘‘ مجھے ابکائی سی محسوس ہوئی اور میں نے انہیں ناشتے کا ’’مینو‘‘ مکمل کرنے سے روکتے ہوئے کہا ’’بزرگوار! کوئی اور بات کرو‘‘ کہنے لگے ’’اور بات تو پھر یہی ہے کہ آپ کالے بکروں کی قربانی دیتے رہیں‘‘۔ میرا جی چاہا کہ ان سے پوچھوں کہ کیا کالے بکروں کے آڑھتی سے آپ نے کوئی کمیشن طے کیا ہوا ہے لیکن میں نے پینترا بدلتے ہوئے کہا ’’بزرگو، آپ کی عمر کتنی ہے؟‘‘ بولے ’’الحمدللّٰہ، اسّی کراس کر چکا ہوں‘‘ میں نے کہا ’’میں آپ کو بتانا نہیں چاہتا تھا، آج مجبوراً بتا رہا ہوں کہ آپ کے بھی کئی مرحوم دوست میرے خواب میں آ چکے ہیں، وہ آپ کوبیحد یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حاجی صاحب کے بغیر شام کی محفلیں سُونی سُونی سی لگتی ہیں‘‘ بزرگوار یہ سن کر کانپنے لگے اور کچھ کہے سنے اور دعا سلام لئے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔

معتبر ذرائع سے پتا چلا ہے کہ یہ بزرگوار بھی اب باقاعدگی سے کالے بکروں کی قربانی دے رہے ہیں۔ میں تو خیر پہلے ہی اس کام میں لگا ہوا ہوں، مجھے نہیں علم کہ ان بزرگوار کا مسئلہ حل ہوا کہ نہیں، البتہ میرا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اللّٰہ کا شکر ہے کہ اب میرے مرحوم دوستوں نے خواب میں آنا بند کر دیا ہے البتہ اب کالے بکرے خواب میں آتے ہیں اور مجھے گندی گالیاں دیتے ہیں۔

 166