پیوستہ رہ شجر سے؟

زیر بحث - عارف نظامی

22 فروری 2020

 پیوستہ رہ شجر سے؟

اپوزیشن جماعتیں عجیب مخمصے کا شکار ہیں ،حکومت کو گرانے کو دل بہت کرتا ہے لیکن بوجوہ ہمت نہیں پڑتی ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ماہ مارچ میں تحریک چلانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہیں ۔مولانا فضل الرحمن تو پہلے ہی کمربستہ ہیں لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق اور اپوزیشن جماعتوں کے آپس کے تعلقات کار اس نوعیت کے ہیں کہ فی الحال ا ن کا ایک سٹیج پر اکٹھے ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے حالیہ دورہ لاہور میں دل کی باتیں کہہ دیں۔وہ فرماتے ہیں کہ اگر بس چلے تو ابھی حکومت گرادوں لیکن میں جمہوری اور قانونی طریقے سے حکومت کو چلتا کروں گا،اس لیے ہم کسی غیر آئینی‘ غیر جمہوری سازش میں شریک نہیں ہونگے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو متنبہ کیا کہ وہ اب بھی میدان میں نہ نکلیں تو وہ عوام کی نظروں میں گر جائیں گی، انہیں مریم نواز Maryam Nawaz کی خاموشی کا بھی گلہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شہبازشریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بطور پارٹی صدر اور اپوزیشن لیڈر وطن واپس آ کر اپنا کردار ادا کریں ۔

بلاول نے بڑا اچھا سوال کیا کہ ان سے یہ کیوں پوچھا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول ہیں کہ نہیں ،میرے لیے معیار یہ ہے کہ عوام کے لیے قابل قبول ہوں یا نہیں ۔انہوں نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جاؤں تب اعتراض نہ جاؤں تب اعتراض ۔ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کو کھل کر اپنی مجبوریاں بیان کرنی چاہئیں کیونکہ اپوزیشن کے مجموعی طور پر نیم دروں نیم بروں روئیے سے عوام کی نظروں میں وہ مذاق بنتی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto تو پھر بھی بنیادی معاملات پر آواز اٹھا رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف Shehbaz Sharif بھائی جان کے علاج معالجے کے لیے کافی عرصے سے لندن بیٹھے ہیں ۔وہ لندن کی بانڈ سٹریٹ سے نئے نئے سوٹ اور ہیٹ پہن کر وقتاً فوقتاً پریس کانفرنسز کر کے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں اور یہاںمریم نواز Maryam Nawaz ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام نکلوا کر لندن پدھارنے کے لیے سامان باندھے بیٹھی ہیں ۔اب کئی ماہ سے انہوں نے اپنے منہ پر زپ لگائی ہوئی ہے وہ تنقیدی تو کیا کوئی رسمی بیان بھی نہیں دیتیں۔ جی ہاں !یہ وہی مریم نواز Maryam Nawaz ہیں جنہوں نے اپنی ریلیوں اور میڈیا ٹاکس کے ذریعے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا ۔وہ اسٹیبلشمنٹ اور خان صاحب کی کڑی ناقد تھیں جس سے حکومت بوکھلا کر ان پر پابندی لگانے پر مجبور ہو گئی تھی لیکن اب حال یہ ہے کہ باپ بیٹی اور برادر خورد کی کیفیت ہر چند ہے کہ نہیں ہے کے مترادف ہے۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif لندن میںبیٹھ کر وقتاً فوقتاً ’’عمران خان Imran Khan نیازی ‘‘کی ناقص حکمت عملی اور عوام کو درپیش مسائل پر بات کرتے رہتے ہیں لیکن بعض بنیادی اور کلیدی معاملات پر لب کشائی کرنے سے قطعاً گریزاں ہیں ۔میڈیا والے جب مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں سے پوچھتے ہیں کہ شہبازشریف کب واپس آئیں گے تو وہ آئیں بائیں شائیں کر کے محض یہ کہتے ہیں کہ جلد آ جائیںگے ۔ان بیچاروں کی مجبوری یہ ہے کہ انہیںخود پتہ نہیں کہ موصوف کب آئیں گے ۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شریف فیملی اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے اور وہ جو شیر تھے اب شیر قالین بن چکے ہیں ۔شہبازشریف کی مدافعت میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنی ’’پرواسٹیبلشمنٹ‘‘ لائن کبھی نہیں چھپائی ۔جب میاں نوازشریف جی ٹی روڈ پر ’مجھے کیوں نکالا ‘ کا نعرہ مستانہ بلند کر رہے تھے اور ان کی صاحبزادی الفاظ کی گولہ باری کر رہی تھیں ، شہبازشریف اس وقت بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات کے انتظار میں ہیں اقتدار کا ہما کب ان کے سر پر بیٹھے گا۔ سروسز ایکٹ کے حوالے سے بل کی منظوری کے لیے دونوں پارٹیوں نے غیر مشروط حمایت کی لیکن پیپلزپارٹی کا یہ گلہ جائزہے کہ مسلم لیگ (ن) اس ضمن میں نمبر ٹانکنے کے لیے اتنی کوشاں تھی کہ اس نے باقی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے یا اس حوالے سے نام نہاد رہبر کمیٹی کا اجلاس بلانے کا بھی تکلف نہیں کیا ۔ویسے تو پیپلزپارٹی بھی اس حوالے سے سجدہ سہو کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی لیکن اس نے اس مجوزہ ایکٹ میں کچھ ترامیم بھی تجویز کی تھیں جو بعدازاں واپس لے لی گئیں۔

دیکھا جائے تو تمام تر شور و غوغا کے باوجود عوامی تاثر یہی ہے کہ اپوزیشن کی یہ دونوں بڑی جماعتیں اپنی جملہ مجبوریوں کی بنا پر ’’اچھا بچہ ‘‘ بنی ہوئی ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ اگر آصف زرداری جیل کے بجائے ہسپتال بیٹھے ہیں اور سیاسی معاملات پر قطعاً لب کشائی نہیں کر رہے یا نوازشریف بھی جیل کے بجائے بغرض علاج ملک سے باہر ہیں ،یہ کسی باقاعدہ ڈیل یا انڈر سٹینڈنگ کا ہی نتیجہ ہے۔ وہ لاکھ کہیں کہ ہمیں تو عدالتوں سے ریلیف ملا لیکن اگر آج سروے کیا جائے تو اس میں حصہ لینے والے نوے فیصد افراد یہی کہیں گے یہ سب کچھ کسی سودے بازی کا ہی نتیجہ ہے ۔اپوزیشن کے اکثر رہنما یہ بھی فرماتے ہیں کہ حکومت اتنی نالائق اور نااہل ہے کہ یہ اپنے ہی بوجھ سے گر جائے گی ۔غالباً اپوزیشن کو یہ ادراک ہے کہ جلد یا بدیر سیاسی حالات کے علاوہ اقتصادی صورتحال اور گورننس کے معاملات بھی اتنے خراب ہو جائیں گے کہ خان صاحب کے مربی ان کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ لیں گے جس کا ایک ٹریلر حال ہی میں چودھری برادران کا علم بغاوت بلند کرنا تھا ۔ادھر ایم کیو ایم، بلوچستان Balochistan نیشنل پارٹی (مینگل) اور حتیٰ کہ بلوچستان Balochistan کی حکمران جماعت کی ناراضگی کی صورت میں دیکھا جا چکا ہے ۔بات خاصی آ گے بڑھانے کے بعد چودھری پرویز الٰہی بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے لیکن چودھری شجاعت حسین نے عمرہ کے بعد وطن واپسی سے پہلے جدہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان Imran Khan اپنی صفوں میں منافقوں کو ڈھونڈ کر انہیں نزدیک نہ آنے دیں۔ چاپلوسوں اور چغل خوروں سے دور رہیں ۔ چودھری شجاعت حسین جو اپنے مخصوص انداز میں سب کچھ کہہ جاتے ہیں انکشاف کیا کہ انہوں نے نوازشریف کوبھی یہی مشورے دیئے تھے جوانہوں نے نہیں مانے۔

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کے اس بیان سے واضح ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اب بھی اعتماد کا فقدان ہے اور حالیہ ’’صلح ‘‘ محض سیز فائر ہے۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif ان ہاؤس تبدیلی کی بات کرتے رہتے ہیں لیکن کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگر ایسی تبدیلی آئی بھی تو اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔دونوں اپوزیشن سیاسی جماعتیں فضل الرحمن کو منانے کے لیے بظاہر کوشاں ہیں۔حال ہی میں سابق سپیکر ایاز صادق کی مولانا سے ملاقات بھی ہوئی ہے لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک طرف جبکہ مولانا کی طرف واضح فرق موجود ہے ۔ دونوں سیاسی جماعتیں کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گی ،زیادہ سے زیادہ اس بات پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے کہ اکٹھے یا الگ جلسے اور ریلیاں کریں اور یہی ورد کرتے رہیں کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

 131