شکریہ بنگلہ دیش!

قلم کمان - حامد میر

27 جنوری 2020

شکریہ بنگلہ دیش!

مشکل وقت میں دوست اور دشمن کی اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔ کچھ لوگ آپ سے ہمیشہ دوستی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ جب کبھی آپ پر مشکل وقت آ جائے تو پیچھے سے وار کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو آپ ہمیشہ اپنا دشمن سمجھتے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں اکثر غلط فہمیوں کا شکار رہتے ہیں لیکن مشکل وقت میں وہ آپ کی مدد کو آتے ہیں۔ مشکل وقت میں مدد کو آنے والوں کا بلند آواز میں شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ آج میں بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے ایک ایسے وقت میں اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان Pakistan بھیجا جب بھارت India دنیا بھر میں پاکستان Pakistan کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور مودی حکومت کی کوشش ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) پاکستان Pakistan کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں دھکیل دے۔ بھارت India نے بہت کوشش کی کہ بنگلہ دیش اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان Pakistan نہ بھیجے۔ پاکستان Pakistan میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بنگلا دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نئی دہلی کے حکم پر اپنی ٹیم کو پاکستان Pakistan نہیں جانے دیں گی لیکن اُنہوں نے اپنی ٹیم کو تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان Pakistan بھیج دیا۔ پاکستان Pakistan نے یہ سیریز جیت لی اور بنگلہ دیشیوں نے اہلِ پاکستان Pakistan کے دل جیت لیے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں دوسرا ٹی ٹونٹی میچ ختم ہونے کے بعد جیو نیوز کے رپورٹر عدنان ملک تماشائیوں سے بات چیت کر رہے تھے تو ایک بچے نے بڑی معصومیت سے کہا کہ میں پاکستان Pakistan کے جیتنے پر خوش ہوں لیکن اگر بنگلہ دیش کی ٹیم جیت جاتی تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ یہ بچہ اُن بزرگوں سے زیادہ دانشمند نظر آیا جو آج بھی بنگلہ دیش کا ذکر دشمنوں کے طور پر کرتے ہیں۔ پاکستان Pakistan اور بنگلہ دیش میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آج بھی ماضی میں زندہ ہیں اور نفرتوں کی آگ میں جلنے جلانے کو ہی قومی غیرت سمجھتے ہیں لیکن نئی نسل اِن نفرتوں کو محبتوں میں بدلنا چاہتی ہے۔ پاکستان Pakistan میں کچھ لوگ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو دی جانیوالی سزائوں کی بہت مذمت کرتے ہیں لیکن کیا پاکستان Pakistan نے کبھی ایسے حالات پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی کہ بنگلا دیش میں پاکستان Pakistan کے حامیوں پر مقدمے چلانے کے بجائے پاکستان Pakistan سے دوستی کی ضرورت پر غور کیا جائے؟

بنگلہ دیش کے لوگ اتنے ہی بُرے ہیں کہ اُن سے دوستی کی بات آپ کی غیرت کو گوارا نہیں تو پھر آپ بنگلہ دیشیوں کو بار بار پاکستان Pakistan آ کر کرکٹ سیریز کھیلنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟ بنگلہ دیش کی حکومت کے لئے اپنی ٹیم کو پاکستان Pakistan بھیجنا آسان فیصلہ نہیں تھا۔ جس طرح پاکستان Pakistan میں بنگالیوں سے نفرت کو کچھ اپنی قومی غیرت کے لئے بڑا ضروری سمجھتے ہیں اسی طرح بنگلا دیش میں بھی پاکستان Pakistan سے نفرت کرنے والوں کمی نہیں۔ یہی وہ نفرتیں اور غلط فہمیاں تھیں جن کے بارے میں فیض احمد فیضؔ نے ڈھاکا سے واپسی پر کہا:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مدارتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

اچھا ہوا کہ 1971میں گرنے والے خون کے دھبوں کو دھونے کے لئے 25جنوری 2020کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کچھ پاکستانی نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میںبنگلہ دیش کے پرچم اٹھا کر لہرائے اور یہ پیغام دیا کہ کرکٹ میچ میں پاکستان Pakistan جیتے یابنگلہ دیش لیکن ہمارے لئے یہ جیت کسی ملک کی نہیں بلکہ دوستی اور امن کی جیت ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ پچھلے سال 2019میں مقبوضہ کشمیر جموں و کشمیر Kashmir کے علاقے پلوامہ Pulwama میں ایک ناراض کشمیری نوجوان کے فدائی حملے میں بھارت India کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے چالیس جوانوں کی ہلاکت کے بعد انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ نے پاکستان Pakistan کرکٹ ٹیم پر پابندی لگوانے کی بھرپور کوشش کی۔ انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو ایک کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز چلاتی ہے جس کے سربراہ ونود رائے نے کھلم کھلا یہ اعلان کیا کہ جس طرح جنوبی افریقہ Africa کی سابق نسل پرست حکومت کی پالیسیوں کیخلاف جنوبی افریقہ Africa کرکٹ ٹیم پر 1970سے 1991تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد رہی اسی طرح پاکستان Pakistan کی کرکٹ ٹیم پر پابندی لگوانے کیلئے کوشش کی جائے گی۔ بھارت India میں اس مطالبے نے بھی زور پکڑا کہ 2019کے ورلڈ کپ میں بھارت India کی ٹیم پاکستان Pakistan کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردے۔ بھارت India کی حکومت نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سربراہ ششانک منوہر کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جو انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں لیکن ششانک منوہر اس معاملے سے دور رہے اور پاکستان Pakistan پر پابندی کی سازش کا حصہ نہ بنے۔ 2009میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان Pakistan میں انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہو چکی تھی۔ 2015میں بڑی مشکل سے زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کو ایک روزہ میچوں کی سیریز کیلئے لاہور آنے پر آمادہ کیا گیا۔ اسٹیڈیم میں تو امن رہا لیکن اسٹیڈیم کے قریب ایک خودکش حملہ ہوگیا۔ 2018میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کراچی آئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ پھر 2019کے آخر میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان Pakistan میں ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئی۔

جس ٹیم پر 2009میں حملہ ہوا وہی ٹیم 2019میں پاکستان Pakistan آئی اور یوں دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان Pakistan واپسی ہوئی۔ 2020کے پہلے مہینے میںبنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان Pakistan آنا بہت اہم ہے۔ 25جنوری کو انگریزی اخبار ’’دی نیوز‘‘ میں مشرف زیدی نے اپنے کالم میں تجویز دی ہے کہ 1971کی تلخیوں کو فراموش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان Pakistan کی حکومت کی طرف سے بنگلا دیش کے عوام سے معافی مانگ لی جائے۔ ذرا سوچئے! کیا معافی مانگنے سے پاکستان Pakistan کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟ یہ معافی صرف بنگلہ دیش کے لوگوں کو نہیں بلکہ ان پاکستانیوں کو بھی مطمئن کریگی جو آج بھی 1971ءکے سانحے سے رنجیدہ ہیں۔ اس معافی سے اس سوچ کو شکست دی جا سکتی ہے جو وارکرائمز کے ٹربیونلز سے پھانسیوں کے فیصلے حاصل کرکے اپنے انتقام کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ میں جانتا ہوں بنگلا دیش سے معافی ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن قومیں مشکل فیصلے کرکے آگے بڑھتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان Pakistan آنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ بنگلہ دیش نے مشکل وقت میں پاکستان Pakistan کی مدد کی ہے اور مشکل وقت میں مدد کرنے والوں کا کھلے دل سے اور بلند آواز میں شکریہ ادا کرنا ہر سچے پاکستانی کا فرض ہے۔

 399