میڈیا مینجمنٹ یا سیاسی حکمت عملی

طلوع - ارشاد احمد عارف

17 جنوری 2020

میڈیا مینجمنٹ یا سیاسی حکمت عملی

کمال کی میڈیا مینجمنٹ ہے اور بے مثال سیاسی منصوبہ بندی‘ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد میڈیا کی توپوں کا رخ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب تھا۔ میاں نواز شریف‘ مریم نواز‘ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کی پست ہمتی اور موقع پرستی پر خوب لے دے ہو رہی تھی‘ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کی سب سے زیادہ مٹی گزشتہ آٹھ دس روز میں پلید ہوئی اور مسلم لیگ (ن) میں دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی۔ شاہد خاقان عباسی اور کئی دوسروں نے حسب روائت میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz کے احکامات سے سرتابی کے بجائے خواجہ آصف پر لعن طعن شروع کر دی کہ بڑے میاں صاحب کا پیغام پارلیمانی پارٹی تک پہچانے کا جرم سیالکوٹی خواجے سے سرزد ہوا‘ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مسلم لیگ میں بھی قیادت سے جواب طلبی ممکن ہے نہ کسی بڑے سے بڑے طرم خان کو حکم عدولی کا یارا‘ چنانچہ غیر مشروط حمائت کا پیغام پہچانے پر جس کا بس چلا اُس نے خواجہ آصف پر غصہ نکالا۔کسی نے خواجے کے گواہ سے پوچھا نہ براہ راست قیادت سے رابطے کی جسارت کی‘ نزلہ ریزد برعضو ضعیف۔ نظر یوں آ رہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کو اب کوئی حصوں بخروں میں تقسیم ہونے سے بچا نہیں سکتا کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور مریم نواز Maryam Nawaz کے سیاسی منظر سے ہٹنے کے بعد جماعت کو متحد رکھنا آسان ہے نہ کارکنوں کی مایوسی و بے یقینی کا درماں کرنے کے لئے کوئی طاقتور لیڈر ملک میں موجود۔

توقع یہ کی جا رہی تھی کہ اب پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل تیز ہو گا کہ مایوس و دل شکستہ اپوزیشن حکومت سے تعاون پر مجبور ہے مگر اچانک سیاسی منظر نامے پر اپوزیشن بالخصوص شریف خاندان کی اسٹیبلشمنٹ سے درپردہ مفاہمت‘ عمران خان Imran Khan اور مقتدر قوتوں میں مغائرت اور حکومتی اتحادیوں کی ناراضگی کی دھند چھا گئی ۔ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے قبل جنم لینے والی قیاس آرائیاں ایک بار پھر ٹاک شوز‘ کالموں اور تجزیوں کا مرکزی موضوع بن گئیں۔ اس منصوبہ بندی اور میڈیا مینجمنٹ کے تخلیق کار قابل داد ہیں۔ میڈیا میں بحث اب یہ ہو رہی ہے کہ کون کون سا اتحادی الگ ہوا تو حکومت برقرار نہیں رہے گی اور عمران خان Imran Khan کی جگہ کون وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan ہو گا۔؟ ماضی میں ایسا کئی بار ہوا‘ لوگوں نے یقین کر لیا کہ واقعی آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دے کر اپوزیشن ‘ بالخصوص شریف خاندان نے اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان Imran Khan سے فاصلہ رکھنے پر آمادہ کر لیا ہے اور اگر عدم اعتماد کی کوئی تحریک آئی تو اس کا حشر وہ نہیں ہو گا جو چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا ہوا‘ خواہش بُری نہیں‘ عوام ‘ کارکنوں قابل اعتماد ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا کے روبرو شرمندگی اٹھانے کے بعد تجربہ کار سیاستدانوں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس غیر مشروط حمایت پر عظیم سیاسی حکمت عملی کا لیبل لگائیںداخلی انتشار و مایوسی پر قابو پائیں اور ارکان اسمبلی کو تحریک انصاف کا رخ کرنے سے روکیں جو اب سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں کہ کسی شریف اور زرداری کے مفادات کا ایندھن بننے سے بہتر ہے کہ اپنے سیاسی اور خاندانی مفاد کو ترجیح دیں اور حکومتی جماعت میں شامل ہو کر ترقیاتی فنڈز و دیگر مراعات سمیٹیں۔

میری اطلاع کے مطابق عمران خان Imran Khan کو فی الحال اپوزیشن سے کوئی خطرہ ہے نہ اتحادیوں سے بے وفائی کا اندیشہ۔ اسٹیبلشمنٹ کی فکر و نظر میں تبدیلی کے آثار ہیں نہ کوئی شخص یا ادارہ بے وفائی‘ کج فہمی اور مفاد پرستی کے قطب میناروں کی کسی یقین دہانی ‘ وعدے اور دعوے پر اعتبار کرنے کو تیار۔ نواز شریف‘ مریم نواز‘ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے لئے یہی رعائت کافی ہے کہ وہ جیلوں کے بجائے گھروں میں بیٹھے اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں نے تمام تر بداعمالیوں‘ ہمالیہ جیسی غلطیوں‘ لوٹ مار‘ قانون شکنی کے باوجود اپنی مدت پوری کی۔ کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان Pakistan کے اندرونی اور بیرون دشمنوں کے علاوہ مختلف مافیاز کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ملک و معاشرے کو درست خطوط پر استوار کرنے کی خواہش مند حکومت کو ڈیڑھ سال میں چلتا کر دیا جائے‘ یہ دشمنوں کے اس بیانئے کی توثیق ہو گی کہ خلائی مخلوق یہاں کسی منتخب حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیتی‘ کٹھ پتلی کا تماشہ جاری رکھتی ہے۔ عمران خان Imran Khan کے لئے اصل چیلنج اپوزیشن ہے نہ اتحادی جماعتوں کی بے چینی کہ یہ بلیک میلنگ کے ذریعے مفادات سمیٹنے کی عادی ہیں اور ہر حکومت کو دبائے میں رکھنے کے فن میں طاق۔ اصل چیلنج گورننس ہے ‘پنجاب میں کمزور حکمرانی کے طفیل اپوزیشن کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے وہ طفیلی بیورو کریسی اور تاجر برادری کے ذریعے مصنوعی مہنگائی اور بدانتظامی کو فروغ دے رہی ہے اور وسیم اکرم پلس غریب عوام کو ریلیف دینے میں ناکام۔ ورنہ گراں فروشی کو روکنا اتنا مشکل نہیں جتنا بنا دیا گیا ہے اور گالی عمران خان Imran Khan کو پڑ رہی ہے۔ میڈیا کے معاملات کو بھی خان صاحب نے خود بگاڑا ہے اور سوچا تک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) محض کامیاب میڈیا مینجمنٹ کے طفیل میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو سول بالادستی کی علامت اور جمہوریت کا باوا آدم باور کراتی رہی جبکہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی پنجاب سپیڈکا چرچا اندرون و بیرون ملک ہوا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے مگر میڈیا کا معاشی بازو مروڑ کر اپنی کامیابی و کامرانی کا ڈھنڈورا پیٹنا چاہا جو تاریخی غلطی تھی اور ہے۔

عمران خان Imran Khan مطالعہ کے شوقین ہیں۔ایک دور میں انگریزی اخبارات کے لئے لکھتے بھی رہے‘ اردو میڈیم مگر وہ نہیں کہ انہوں نے سجاد حیدر یلدرم کا مضمون ’’مجھے میرے دوستوں سے بچائو‘‘ پڑھا ہو‘ اگر وزیر اعظم Prime Minister کا کوئی خوش ذوق اور مخلص دوست انہیں اپنے نادان دوستوں سے بچانے اور دانا دشمنوں سے میل ملاپ بڑھانے کی تدبیر کرے یا کم از کم یہ مضمون ہی پڑھا دے تو حکومت اور ملک دونوں کا بھلا ہو کہ اب تک وہ اپنا اور ملک کا نقصان فقط ان نادان دوستوں کے سبب کر چکے ہیں‘ تبدیلی کا نعرہ اور انہی گھسٹے پٹے افراد پر انحصار جو سولہ ماہ میں مخالفین کی کردار کشی اور بے مقصد نعرہ بازی کے سوا ڈھنگ کا کوئی کام نہیں کیا‘ کھلا تضاد ہے۔اپوزیشن کا کمال ہے کہ اپنے بیانئے کو دفن کرکے بھی اُس نے ایک ہفتے میں عوام اور میڈیا کو حکومت کے چل چلائو کی بحث میں الجھا دیا لوگ اب دن گنتے رہیں گے‘ حکومتی ترجمان وضاحتیں کریں گے اور تجزیہ کار من پسند موشگافیاں‘ ویسی ہی موشگافیاں جیسی مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے دوران ہوتی رہیں اور بالآخر دھرنا ناکام و نامراد اختتام پذیر ہو گیا۔ اگلے چند دنوں تک رونق لگی رہے گی پھر ہمیں پتہ چلے گا کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ کھیل ختم پیسہ ہضم۔

 203