خوئے غلامی

نا تمام - ہارون الرشید

13 دسمبر 2019

خوئے غلامی

اخلاق کی دولت سے معاشرے بہرہ ور ہو ں تو یہی نجات ورنہ آزادی بھی گرفتاری، بنجر زمینوں اور پتھروں پر ابر رحمت سے بھی کچھ حاصل نہیں۔

جمہوریت اور سیاست سے زیادہ اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے ، وکالت میں ، صحافت میں ، سیاست میں اور ہر کہیں ، ہر کہیں ۔

لاہور کے وکلا کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرنا چاہئیے ۔ سول جج مداوانہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مستقل طور پر ایک دوسرے سے انہیں واسطہ رہتا ہے ۔ اس لیے بھی کہ نچلی سطح کی عدالتیں بہت کمزور ہیں ۔ اتنی کمزور کہ دھڑلے سے ان کے اہلکار رشوت لیتے ہیں اور وہ روک نہیں سکتے۔ اسلام آباد Islamabad کے ایک آئی جی نے بتایا کہ کسی بھی مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے پولیس انہیں پانچ ہزار روپے رشوت دیتی ہے ۔ یہ احمقامہ مفروضہ انصاف کی راہ میں حائل ہوگاکہ بار اور بنچ گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔

اوّل تو یہ پورا نظام ہی فرسودہ ہے ، گلا سڑا۔قطعاً کوئی امید جس سے نہیں ہو سکتی۔ اصلاحات کی جرأت حکمران جماعت میں نہیں اور اصلاحات کا یہ وقت بھی نہیں۔ رہے وکیل تو حصولِ انصاف میں وہ مددگار نہیں بلکہ رکاوٹ ہیں ۔ حل کا نہیں ، وہ مسئلے کا حصہ ہیں ۔ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ۔ الّا یہ کہ آپریشن ہو ‘ بھرپور آپریشن۔

وکلا کے دوبڑے لیڈر ہیں ۔ ایک خان صاحب اور دوسرے عاصمہ جہانگیر ۔ عاصمہ جہانگیر اب اس دنیا میں نہیں لیکن اب بھی ان کا ٹولہ حامد علی خان کو اکثر ہرا دیتا ہے ۔ حامد علی خان کا حال یہ ہے کہ کھلے عام فریب کاری کی انہوں نے کوشش کی۔ اپنے موکل سے اجازت لیے بغیر چیف جسٹس افتخار چوہدری سے کہہ دیا کہ عمران خان Imran Khan ان سے معافی کے خواستگار ہیں ۔ عمران خان Imran Khan حیرت زدہ رہ گئے اور اعلانیہ تردید کرنا پڑی ۔ حامد خان کی دانائی کے خان صاحب بہت قائل تھے ۔ دانائی کیا، بنیادی دیانت سے بھی یہ آدمی محروم نکلا۔ وفاداری کا وہ قائل ہی نہیں ۔ تیس اکتوبر 2011ء سے پہلے ٹی وی مباحثوں میں شرکت کرتا تو اپنی پارٹی کی نمائندگی کرنے سے انکار کر دیتا ۔ فرمائش ہوتی کہ سپریم کورٹ کے سابق صدر کی حیثیت کا حوالہ دیا جائے ۔

عاصمہ جہانگیر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لئے کام کرتیں اور کھلے عام ۔ ایک حاضر سروس Russia برطانوی جج سے انہوں نے کہا تھا : ہماری اوّلین ترجیح یہ ہے کہ مذہب کو ملک سے نکال پھینکا جائے ۔سبکدوشی کے بعد ان جج صاحب نے منصب کے مہ و سال کی ڈائری شائع کرنے کا ارادہ کیا تو خیر خواہوں نے مشورہ دوسرا دیا ۔ انہوں نے کہا : عام شہریوں نہیں بلکہ یہ دوستوں کے استفادے کی چیز ہے ، خاص لوگوں کے کام کی ۔

عمران خان Imran Khan ان لوگوں میں سے ایک تھے ، جنہیں اس ڈائری کی نقل بھیجی گئی ۔ انہوں نے پڑھا تو حیرت زدہ رہ گئے ۔مجھ سے ذکر کیا ۔اتفاق سے سپریم کورٹ بار کا الیکشن برپا تھا ۔ عاصمہ جہانگیر امیدوار تھیں اور احمد اویس ۔ ٹی وی مباحثوں میں ، جہاں ایک ساتھ وہ شریک ہوئے ، اپنے جارحانہ انداز سے عاصمہ جہانگیر نے انہیں پسپا کر دیا ۔ اس لیے کہ وہ دھیمے آدمی ہیں ۔ شائستگی سے بات کرتے ہیں ۔ ٹی وی مباحثوں میں شائستہ آدمی کی گنجائش کم ہے اور وکلا تو ایسے لیڈر کو قبول کرتے ہی نہیں ۔ کالم میں برطانوی جج کی ڈائری کا حوالہ دیا تو عاصمہ جہانگیر نے بین الاقوامی مراسم کی ماہرنسیم زہرہ سے شکایت کی ۔ عمران خان Imran Khan سمیت بہت سے لوگوں کو کوسنے کا کوئی موقعہ عاصمہ جہانگیر ہاتھ سے جانے نہ دیتیں ۔ اس کے باوجود ان کا مطالبہ یہ رہتا کہ کوئی ان پر تنقید نہ کرے ۔ مالدار اور بارسوخ تھیں ۔ بھارت India اور امریکہ United States ان پہ مہربان ۔ کوئی اخبار نویس مزاحم ہوتا تو محترمہ کا قبیلہ اس پر ٹوٹ پڑتا۔ عباس اطہر مرحوم نامور اخبار نویس تھے ، ایک لیجنڈ۔ ذرا سا اعتراض کیا تو نجم سیٹھی کے فرائیڈے ٹائمز نے ان کی کردار کشی کی ۔ عباس اطہر رنجیدہ تھے ۔ بزدل وہ نہیں تھے مضبوط مجید نظامی کے اخبار میں لکھا کرتے ۔ اس کے باوجود خاموشی میں مصلحت سمجھی ۔

نسیم زہرہ نے عمران خان Imran Khan سے بات کی تو انہوں نے ہاتھ جھٹکے اور کہا :بات سچی ہے ۔ اتفاقاً اس کے علم میں آگئی ۔ اب اسے روکے کون ۔ قیامِ پاکستان Pakistan کی عاصمہ جہانگیر برملا مخالفت کرتیں ۔ پاکستان Pakistan کو اسرائیل سے تشبیہہ دیتیںاورفرماتیںکہ مذہب کی بنیاد پر کوئی ریاست قائم نہیں کی جا سکتی۔اسرائیل پہ زیادہ اعتراض نہ کرتیں ۔ ہندوتواپر بھی نہیں ۔ کشمیری مسلمانوں کے قتلِ عام پر کبھی ملال نہ ہوا ۔ انہیں اور نہ ان کے قبیلے کو ۔ اسی قبیلے کے ایک سرخیل آئی اے رحمٰن نے ڈان میں لکھا :مسلمان اوّل روز سے علم دشمن ہیں ۔

اس کے باوجود عاصمہ جہانگیر جیت جاتیں۔ اب بھی جیت جاتی ہیں ۔ وکلا کی اکثریت کو ملک کے بنیادی نظریے اور مفادات سے دلچسپی ہے اور نہ قیامِ انصاف سے۔ اس لئے کہ نیم خواندہ ہیں ورنہ ہمارے ہی بھائی اور بیٹے۔ وکلا کی ایک بڑی تعداد ان پرائیویٹ کالجوں سے ،جن میں ڈگری کی تصدیق بھی ضروری نہیں ۔تھرڈ ڈویژن والے با آسانی جن میں داخلہ پاتے ہیں ۔ نئی نسل میں اکثریت ایسی ہے ، قانون نہیں ،جو حربے سیکھتی ہے ۔ انہی میں سے بعض جج بھی ہو جاتے ہیں ۔سفارش اور رسوخ کے بل پر ۔ انہی میں سے لیڈر بھی چن لیے جاتے ہیں ۔وکلا انجمنوں کی انتخابی مہمات میں لیڈر لوگ انہیں ملحوظ رکھتے ہیں بلکہ انہی کو زیادہ ۔ اس لیے کہ وہی موثر ہیں ۔ کسی لیڈر کی کامیابی کے ضامن وہی ہوتے ہیں ۔ کنفیوشس نے کہا سچائی کسی معاشرے میں اس لئے پسپا نہیں ہوتی کہ اکثر بہت بدکردار ہوتے ہیں بلکہ اس لئے کہ بھلے لوگ مزاحمت ترک کر دیتے ہیں:

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے تیرا

زندگی موت ہے کھو دیتی ہے ذوق خراش

تیس برس ہوتے ہیں ، وکلا کی ایک افطار پارٹی میں جانا ہوا ۔ افطار سے نصف گھنٹہ پہلے ان میں سے چند ایک کھا پی رہے تھے ۔ چند ایک ہی لیکن مگر باقیوں کو اعتراض نہ تھا ۔ انہیں دیکھ کر وہ مسکراتے ۔ ان میں سے ایک نون لیگ کے لیڈر تھے ۔ انہیں سول جج بنانے کی پیشکش ہوئی مگر وہ ہائی کورٹ کا جج بننے پہ اصرار کرتے رہے ۔

ان کے ایک جاننے والے سے کہا : نیم خواندہ سے ہیں ۔ کبھی کوئی مقدمہ ان صاحب نے جیتا ہوگا ؟ جواب ملا : ایک بھی نہیں ۔ پوچھا کہ ایک وقت میں انہیں تین چار کلو مچھلی کھاتے دیکھا ہے ۔کیسے گزربسر ہوتی ہے ۔کہا : مقدمات لڑنا نہیں ، ضمانتیں کرانا ان کا پیشہ ہے ۔زمیندار ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وکیلوں کے لیڈر ۔ایک وسیع دفتر، تین چار ان کے نائبین بھی تھے ۔ خواتین بھی ان میں شامل تھیں ۔ معلوم نہیں ، یہ لوگ کرتے کیا تھے ۔ ضمانتیں کراتے ہوں گے ؟

بینک وکلا کو قرض نہیں دیتے ۔ اخبار نویسوں کو بھی نہیں ۔ کوئی ہوشمند آدمی کرائے پر انہیں مکان نہیں دیتا ۔ اخبار نویسوں اور پولیس والوں کو بھی نہیں ۔ پورا معاشرہ ہی اخلاقی افلاس کا شکار ہے مگر کچھ پیشوں میں ماحول اور بھی زیادہ خراب ۔ پولیس میں ، وکالت میں ، صحافت میں اور ان سے بھی زیادہ شاید ایف بی آر اور سیاسی جماعتوں میں ۔جہاں آقا ہیں اور غلام ہیں دیوتا ہیں اور بندے‘ معاشرے کے بدترین لوگ مگر تمام توقعات انہی سے وابستہ۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں اور خدا سے ناامیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

غلام معاشروں کا یہی مزاج ہوتاہے ۔ برائی گوارا کرنا ۔ اغماض اور نظریں چرانا ۔ اقبالؔ نے کہا تھا

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردان حُر کی آنکھ ہے بینا

غلامی کے اثرات ابھی گہرے ہیں ۔جبر پہ رونے والے اور ذرا سی آزادی میں وحشی ‘ میڈیا کا حال بھی یہی ہے ۔

جمہوریت اور سیاست سے زیادہ ملک کو ایک اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے ، وکالت میں ، صحافت میں ، سیاست میں اور ہر کہیں ، ہر کہیں ۔

اخلاق کی دولت سے معاشرے بہرہ ور ہو ں تو یہی نجات ورنہ آزادی بھی گرفتاری، بنجر زمینوں اور پتھروں پر ابر رحمت سے بھی کچھ حاصل نہیں۔

 863