خوف سے مفلوج ہوا میرا ذہن

برملا - نصرت جاوید

12 جون 2018

خوف سے مفلوج ہوا میرا ذہن

اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں معروضی تجزیے کی گنجائش موجود نہیں رہتی۔ عدالتی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے ویسے بھی توہینِ عدالت کے قانون سے خوف آتا ہے۔ صحافت کے شعبے میں داخل ہوتے ہی اس شعبے کے استادوں نے بارہا یہ بات سمجھائی تھی کہ عدالتی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

چند مقدمات مگر ایسے ہوتے ہیں جن کا تذکرہ ملکی سیاست کے بارے میں لکھتے ہوئے ضروری ہوجاتا ہے۔ اپریل 2016ءمیں پانامہ دستاویزات کے منکشف ہونے کے بعد چند عدالتی معاملات کا ذکر ضروری ہوگیا۔ پاکستان Pakistan کے تیسری بارمنتخب ہوئے وزیراعظم اوران کے بچوں کے مالی معاملات کے بارے میں سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ بات فقط ان تک محدود نہ رہی۔ آئین کا آرٹیکل 62-F بھی ہماری سیاست کا اہم ترین موضوع بن گیا۔ اس آرٹیکل کے تحت کسی منتخب عہدے کے لئے تاحیات نااہلی کے بعد بھی لیکن نواز شریف Nawaz Sharif ہماری سیاست کا اہم ترین کردار ہیں۔ ساری سیاست بلکہ ان کے خلاف یا حمایت میں تقسیم ہوئی نظر آرہی ہے۔

نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کی سیاسی جماعت سے میرا صحافیانہ رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے بارے میں لکھتے ہوئے فقط اپنے تجربے اور مشاہدے پر انحصار کرتا رہا ہوں۔ ان دو کی بنیاد پر گزشتہ چند دنوں سے جبلی طورپر مجھے یہ خدشہ لاحق ہونا شروع ہوگیا کہ شاید کسی نہ کسی مرحلے پر نواز شریف Nawaz Sharif اپنے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں چلائے مقدمات کا کسی نہ کسی انداز میں بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

پیر کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھنے سے پہلے میڈیا پر نگاہ ڈالی تو خبر آئی کہ گزشتہ کئی مہینوں سے نواز شریف Nawaz Sharif کا دفاع کرنے والے ایک سینئر ترین وکیل خواجہ حارث نے مزید پیروی سے معذرت کرلی ہے۔ نظر بظاہر وہ اس بات پر شاکی نظر آئے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ہر صورت آئندہ ایک ماہ کے اندر نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف قائم ہوئے تین مقدمات میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا ہے۔ خواجہ صاحب کا خیال ہے کہ مقدمے کی سماعت کو سرعت سے مکمل کرنے کے لئے انہیں اور عدالت کو تقریباََ 24/7 کام کرنا ہوگا۔ ہفتے اور اتوار کی عمومی چھٹیاں بھی ان کے کام نہیں آئیں گی۔ وہ یہ پریشر برداشت نہیں کرسکتے۔ لہذا مقدمے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

خواجہ حارث کے فیصلے کے برسرعام آنے کے بعد تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری صاحب ٹی وی چینلوں کو یہ بتاتے نظر آئے کہ چونکہ نواز شریف Nawaz Sharif کو مذکورہ مقدمات کی روشنی میں سزا ملنا یقینی نظر آرہا تھا، اس لئے ان کے وکیل ”جوتے ہاتھ میں لے کر“ بھاگ گئے ہیں۔

میرے لئے اہم ترین سوال مگر یہ ہے کہ خواجہ حارث کی مذکورہ مقدمات سے دست برداری کے بعد نواز شریف Nawaz Sharif صاحب کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔ یہ کالم لکھنے تک مجھے اس سوال کا واضح جواب نہیں ملا تھا۔ نظر بظاہر وہ پیر کے روز اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے لئے لندن جانا چاہ رہے تھے۔ وہاں پہنچنے کے بعد شاید وہ عدالت سے یہ استدعا بھی کرتے کہ انہیں عید کی چھٹیا ں ختم ہونے تک بیگم صاحبہ کے پاس رہنے کی اجازت دی جائے۔ مجھے خبر نہیں کہ عدالت اس ضمن میں کیا رویہ اختیار کرے گی۔ میں اعتماد کے ساتھ یہ طے بھی نہیں کرسکتا کہ عدالت میں حاضری سے استثناءکی اجازت نہ ملنے کے بعد نواز شریف Nawaz Sharif صاحب کا رویہ کیا ہوگا۔

اہم ترین سوال فی الوقت یہ بھی ہے کہ خواجہ حارث کی جانب سے وکالت واپس لینے کے بعد نگران حکومت یا عدالت انہیں لندن جانے والی پرواز لینے دے گی یا نہیں۔ یہ بات اگرچہ طے شدہ نظر آرہی ہے کہ اگر انہیں لندن جانے سے روکا گیا تو نواز شریف Nawaz Sharif خواجہ حارث کی جگہ کوئی نیا وکیل ہائر کرنے سے انکار کردیں گے۔ ان کی خواہش ہوگی کہ ان کے خلاف مقدمات اب یک طرفہ چلیں۔ اس صورت میں آئند ایک ماہ کے اندر نہ صرف مقدمے کافیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا بلکہ ان کو سزا ملنے اور جیل بھیجے جانے کے امکانات بھی مضبوط تر ہوجائیں گے۔

ٹھوس حقائق اپنے تئیں کچھ بھی رہے ہوں، خواجہ حارث کی نواز شریف Nawaz Sharif کے دفاع سے دست برادری کے بعد ملکی سیاست میں ایک نیاسوال اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس سوال سے وابستہ معاملات آئندہ انتخابات پر گہرا اثر ڈالیں گے۔ نوازشریف اگر لندن چلے جانے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں سے کسی بھی بنیاد پر واپس نہ آئے تو ان کے مخالفین کو انتخابی مہم کے دوران ”بھگوڑا“ کی صدائیں لگانا بہت آسان ہوجائے گا۔ نون کے لاحقے والی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے امیدوار شاید ان صداﺅں سے بہت خفت محسوس کریں۔ ان کے مخالفین کو تقریباََ واک اوور مل جائے گا۔

نواز شریف Nawaz Sharif کو اگر لندن نہ جانے دیا گیا تو ان کے ووٹ بینک میں ہمدردی کے جذبات توانا تر ہوجائیں گے۔ پاکستان Pakistan میں رہتے ہوئے ہی نواز شریف Nawaz Sharif بغیر کسی وکیل کے احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوتے رہے تو یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں انہیں سنائی سزا اس ہمدردی میں مزید شدت پیدا کرے گی۔ اندھی نفرت اور عقیدت کی بنیادپر ہمارے معاشرے میں ہوئی تقسیم شدید تر ہوجائے گی۔ اس تقسیم کے نتیجے میں عدالتی غیر جانب داری پر سوالات بھی اٹھیں گے۔ اداروں کی تکریم برقرار نہیں رہے گی۔ اس تکریم پر اٹھائے سوالات ملکی سیاست میں پہلے سے موجود انتشار وخلفشار کو خطرناک حد تک ابتری کی صورت بھی دے سکتے ہیں۔

جمہوری عمل بنیادی طورپر معاملات کو Showdown کی طرف دھکیلنے سے روکنے کا نام ہے۔ ہمارے ہاں 2014ءسے لیکن شوڈاﺅن ہی تمام سیاست دانوں کا حتمی ہدف رہا ہے۔ تخت یا تختہ والی کش مکش اگر صرف سیاسی جماعتوں تک محدود رہے تو سیاست کے مجھ ایسے طالب علم ہرگز پریشان نہیں ہوتے۔ ریاست کے غیر سیاسی ستون مگر کسی نہ کسی وجہ سے اس کش مکش کا حصہ بنے نظر آئیں تو Showdown کی صورتوں سے خوف آتا ہے۔ خوف سے مفلوج ہوا میرا ذہن فی الوقت اس موضوع پر مزید لکھنے کے قابل نہیں ہے۔

 230