ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ٹو!

اعمال نامہ - ارشاد بھٹی

05 دسمبر 2019

ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ٹو!

لو جی! اگلی ٹی ٹی فلم ریلیز ہو گئی، چوہدری شوگر مل تحقیقات کے دوران شہباز شریف Shehbaz Sharif خاندان کی مبینہ جعلی کمپنیوں کے زیر سایہ چلتا منی لانڈرنگ Money laundering نیٹ ورک پکڑا گیا،

چند اہم کردار گرفتار، کچھ مفرور، نیب کے مطابق اس مبینہ منی لانڈرنگ Money laundering نیٹ ورک کا سربراہ سلمان شہباز، مبینہ طور پر 6جعلی فرنٹ کمپنیاں، جن میں گڈ نیچر ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، نثار ٹریڈنگ کمپنی، یونٹیاس اسٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ، وقار ٹریڈنگ کمپنی، مقصود اینڈ کو اور مشتاق اینڈ کو شامل، یہ سب فرنٹ کمپنیاں سلمان شہباز کی، مبینہ منی لانڈرنگ Money laundering کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ صرف ایک کمپنی گڈنیچر ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں 7ارب آئے، گئے،

ان کمپنیوں سے جڑے 5افراد گرفتار ہو چکے، ان میں ایک نثار گل، یہ سلمان شہباز کا کلاس فیلو، اس کا کہنا جو سلمان شہباز نے کہا، وہ کیا، اسے 2009ء میں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے انہیں اپنا ڈائریکٹر پولیٹکل افیئر مقرر کیا،

اس کی تقرری کا نوٹیفکیشن نیب کے پاس بلکہ وہ بینک اکاؤنٹ اوپننگ فارم بھی نیب کے پاس، جس میں نثار گل نے خود کو وزیراعلیٰ کا ڈائریکٹر پولیٹکل افیئرز لکھ کر اپنا پتا وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور لکھا،

نثار گل نے سلمان شہباز کے ہمراہ 4غیر ملکی دورے بھی کیے، دونوں 21مارچ 2016ء کو متحدہ عرب امارات united arab emirates گئے، 23مارچ 2017ء کو سلمان شہباز، نثار گل دوبارہ یو اے ای گئے، 15مئی 2018ء کو دونوں قطر گئے،

26ستمبر 2018ء کو دونوں سعودی عرب Saudi Arabia گئے، یہاں سوال یہ، سلمان شہباز کا کلاس فیلو شہباز شریف Shehbaz Sharif کا ڈائریکٹر کیوں، سوال یہ بھی، شہباز شریف Shehbaz Sharif کا سیاسی مشیر سلمان شہباز کے ہمراہ بیرونِ ملک دورے کیوں کرتا رہا، سوال یہ بھی، شہباز شریف Shehbaz Sharif کا اپنے ڈائریکٹر سے کاروباری تعلق کیوں، سوال یہ بھی، ڈائریکٹر کے اکاؤنٹ سے مبینہ رقم شہباز شریف Shehbaz Sharif کے ذاتی اکاؤنٹ میں کیوں آتی رہی۔

آگے سنیے، مبینہ منی لانڈرنگ Money laundering کا دوسرا کردار علی احمد خان، یہ بھی سلمان شہباز کا کلاس فیلو، اسے بھی شہباز شریف Shehbaz Sharif نے سی ایم ہاؤس میں نوکری دی، عہدہ تھا، ڈائریکٹر پالیسی اینڈ اسٹرٹیجی، یہ نوکری کے ساتھ ساتھ یونٹیاس اور گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنیوں کا مالک، اصل میں دونوں کمپنیاں سلمان شہباز کی، نیب کے مطابق علی احمد کا کام کالے دھن کو سفید کرنا، پیسے شریف گروپ تک پہنچانا، یہ مفرور، منی لانڈرنگ Money laundering ، ٹی ٹی فلموں کا تیسرا کردار طاہر نقوی، یہ لاہور کے ایک مشہور جم کا ٹرینر، سلمان شہباز کو ورزش کراتا، سلمان شہباز سے دوستی ہوئی، اس نے جم چھوڑا، وقار ٹریڈنگ کمپنی بنائی اور شہباز گروپ کے ساتھ کاروبار کرنے لگا، لیکن اصل میں کمپنی، کاروبار، سب کچھ مبینہ طور پر سلمان شہباز کے،

یہ صرف فرنٹ مین، آگے سنیے، شریف خاندان کے دو پرانے، بااعتماد ملازمین مسرور انور، شعیب قمر جو نیب حراست میں، ان کے ابتدائی بیانات حیران کن، یہ بتا چکے کہ مبینہ طور پر تمام کک بیکس، کمیشن 96ایچ ماڈل ٹاؤن میں اکٹھی کی جاتیں (یہ گھر شہباز شریف Shehbaz Sharif نے اپنا کیمپ آفس بھی ڈکلیئر کر رکھا تھا) یہاں رقمیں بوریوں میں بھری جاتیں، طاہر نقوی مبینہ طور پر ان رقموں کو شریف گرو پ کے ہیڈ آفس 55کے ماڈل ٹاؤن پہنچاتا، رقم زیادہ ہوتی تو مبینہ طور پر شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ذاتی لینڈ کروزر میں ایلیٹ فورس کی سیکورٹی میں لیجائی جاتی، پیسے کم ہوتے تو طاہر نقوی اپنی گاڑی میں لے جاتا، 55کے ماڈل ٹاؤن میں قاسم قیوم کے بھیجے ہوئے کیش بوائے رقم گنتے،

رقم گن کر شریف خاندان کے دہائیو ں پرانے، بااعتماد ملازم فضل داد عباسی کے حوالے کی جاتی، فنانس منیجر توقیر ڈار ان پیسوں کی انٹری کرتا، یہ پیسے لاکروں میں رکھے جاتے، پھر وقفے وقفے سے پیسے نکال کر شریف خاندان کے مختلف اکاؤنٹس میں جمع کروائے جاتے، بینک کھاتوں میں یہ پیسے مختلف کاروباروں کی ریکوری ہوتے، پیسے جمع کروانے کی ڈیوٹی شعیب قمر اور مسرور انور کی ہوتی جبکہ پیسوں کی حفاظت پنجاب ایلیٹ پولیس کے کمانڈو اختر، صدیق اور عابد کرتے۔

مختلف بینکوں میں پیسے جمع کروانے کے بعد پھر پیسے نکلوائے جاتے اور مبینہ طور پر لاہور ڈیوٹی فری شاپ کے قریب ایک منی چینجر کے ذریعے جعلی ناموں سے پیسے باہر بھجوائے جاتے، جہاں سے بذریعہ ٹی ٹی مختلف جعلی لوگوں، جعلی کمپنیوں، فرنٹ مینوں کے نام پر پیسے واپس آتے، 2008ء سے 2018ء تک مبینہ طور پر یہی کچھ ہوتا رہا، یہ چند لائنیں، چند سطریں، اک ٹریلر، نمونہ، بہت کچھ نہیں لکھا،

جیسے شریفوں کا چیف فنانشل افسر محمد عثمان کون، اس کا اصل کام کیا، شہباز شریف Shehbaz Sharif کے ذاتی استعمال کیلئے رقم 96ایچ ماڈل ٹاؤن کون لے جاتا، وہاں اردلی ثناء اللہ اور خانساماں شوکت رقمیں کیسے وصول کرتے، شعیب قمر کی ہی یہ ڈیوٹی کیوں کہ وہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کے ذاتی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائے، شہباز شریف Shehbaz Sharif خاندان کا گھریلو خرچہ کیسے چلتا، شہباز شریف Shehbaz Sharif نے مبینہ طور پر ان ٹی ٹی پیسوں سے اہلیہ سمیت کس کس کو کیا کیا تحفے دیے، حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں کس کس نے پیسے جمع کرائے،

انہوں نے کتنے پلاٹ خریدے، یہ اور بہت کچھ میں نے تو نہیں لکھا، لیکن یہ سب کچھ دوست ارشد شریف ثبوتوں کے ساتھ اپنے ٹی وی پروگرام میں بتا چکا، بلکہ اتنا کچھ بتانے کے بعد بھی ارشد شریف کا اختتامی جملہ تھا، یہ مبینہ منی لانڈرنگ Money laundering ، ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ٹو، اگلے پارٹ کا انتظار فرمائیں۔

جب سے یہ ٹی ٹی فلم نظر سے گزری، تب سے سوچ رہا ہوں قوم نے جسے بھی تخت پر بٹھایا، اس نے رج کر لوٹا، خادم اعلیٰ کو ہی لے لیں، یہ مبینہ کارنامے ایک طرف (ابھی کل ہی نیب ان کی 23جائیدادیں منجمد کر چکا) جبکہ دوسری طرف شہباز شریف Shehbaz Sharif فرمائی جا رہے، ایک دھیلا کرپشن ثابت ہو جائے تو الٹا لٹکا دیں، استاد حسن نثار یاد آ جائیں، دامن بھی صاف، خزانہ بھی صاف، اللہ اللہ خیر صلّا۔

 270