الیس منکم رجل رشید؟

نا تمام - ہارون الرشید

21 نومبر 2019

الیس منکم رجل رشید؟

لگ بھگ چار ہزار برس ہوتے ہیں ، اپنی بگڑی ہوئی امّت سے پیغمبرؐنے پوچھا تھا ’’ الیس منکم رجل رشید‘‘ کیا تم میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا آدمی نہیں ؟ کیا اس قوم میں کوئی ایک بھی ہوشمند لیڈر نہیں ؟

چیف جسٹس جناب سعید کھوسہ کا یہ مزاج نہیں مگر وزیرِ اعظم کو انہیں جتلانا پڑا ۔ یہ کہ عدلیہ نہیں حکومت قصور وار ہے۔ ایک کے بعد دوسری حکومت۔ انہیں جتلانا پڑا کہ طعنہ زنی وزیر اعظم Prime Minister کے شایان شان نہیں۔ یاد دلانا پڑا کہ نئی مثالی عدالتوں کے ذریعے قتل کے مقدمات تین ماہ میں فیصل ہونے لگے۔ جیسا کہ چیف جسٹس نے کہا طاقتوروں کی پشت پناہی کے وہ مرتکب نہیں ۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ خاندانوں اور خوشامدیوں تک محدود سیاسی پارٹیاں، عدلیہ نہیں۔ سینکڑوں برس طاقت کے بت کی پوجا کرنے والے جاگیردار، بے وردی اور باوردی اشرافیہ نیک نام منصف نے یاد دلایا کہ آنجناب نے چند دن قبل خود ہی اجازت مرحمت کی تھی ۔خود ان کے خطاب میں واضح اعتراف تھا۔فرمایاکہ انہیں رحم آگیا تھا۔

عدل میں رحم ہوتاہے ، تعصب نہ انتقام کی آرزو ۔ انصاف وہی ہے جو خالص ہو، پوری طرح خالص ۔کھانے پینے کی کسی چیز کو جس طرح آلودہ پانی کا ایک قطرہ بھی ناپاک کر دیتاہے ۔ انصاف کے عمل میں ایک ذرا سی ملاوٹ بھی نہ ہونی چاہئیے ، ناپاک ہو جاتاہے۔

احتساب وزیرِ اعظم کا نہیں ، عدالتوں کاکام ہے ۔ بار بار چیخ چیخ کر وہ اور ان کے رفقا کہتے ہیں کہ عدالتیں آزاد ہیں اور نیب بھی ۔ آزاد ہیں تو وزیرِ اعظم کے اس موقف کا مطلب کیا ہے کہ کسی خطاکار کو وہ معاف نہیں کریں گے ۔ خطا اور عدمِ خطا کا تعین اگر انہی کو کرنا ہے تو کہاں کی نیب اور کون سی عدالت۔ جسٹس جاوید اقبال نے خود یہ ارشاد کیا ہے کہ اب وہ حکمران جماعت کا احتساب بھی کریں گے ۔ اخبار نویسوں سے جج صاحب یہ کہتے رہے :ایک وفاقی وزیرکے خلاف شواہد موجود ہیں مگر مصلحت کے تحت وہ کارروائی نہیں کر رہے ۔ اس لیے کہ حکومت متزلزل نہ ہو جائے ۔

یہی اندازِ تجارت ہے تو کل کا تاجر

برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ کابینہ کی اکثریت سزا دینے کے حق میں تھی ۔ترجمان فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں کہ 80، 85فیصد وزرا معافی کی طرف مائل تھے ۔ فواد چوھدری سے پوچھا گیا کہ کس نے سچ کہا ؟ جواب یہ تھا ’’ ظاہرہے کہ وزیرِ اعظم کو وہ نادرست نہیں کہہ سکتے ۔ پھر سوال کرنے والے سے کہا کہ وہ کیوں ان کی وزارت کے پیچھے پڑا ہے ۔ محترمہ مشیرِ اطلاعات بولیں کہ آقا (Boss) ہی ہمیشہ درست ہوتاہے ۔

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto ، نواز شریف، شہباز شریف Shehbaz Sharif اور مولانا فضل الرحمٰن کا خان صاحب نے مذاق اڑایا ۔ بلاول کی تو نقل بھی اتاری ۔ کیا یہ ان کے منصب کو زیبا ہے ۔ قرینہ ہمیشہ سے یہ ہے کہ وزیرِ اعظم تو کیا، وزرائے اعلیٰ بھی حریف کا نام نہیں لیاکرتے ۔ یہ حکمت کا تقاضا ہے اور شائستگی کا بھی۔

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے تمسخر سے حاصل کیا ہوا؟ نتیجہ آشکار ہے ۔ پوری طرح واضح ہے ۔اب جو نوشتہ ء دیوار بھی نہ پڑھ سکے ، اس دانا کو کیا کہیے۔پوری شان و شوکت کے ساتھ چوہدری پرویز الٰہی تختِ لاہور پر براجمان تھے ۔ وزارتِ عظمیٰ کے خواب سے سرشار جب شاعر شعیب بن عزیز نے کہا تھا۔

بینر پہ لکھے حرفِ خوشامد پہ جو خوش ہے

دیوار پہ لکھی ہوئی تحریر بھی دیکھے

وزیرِ اعظم کا خطاب تضادات کا شاہکار ہے ۔ تین ہفتے قبل اسلام آباد Islamabad میں یکجا ہونے والے مدارس کے طلبہ کے بارے میں ، ایک طرف تو یہ کہا ’’ وہ ہمارے بچّے ہیں ۔‘‘دوسری طرف مجمعے کو سرکس قرار دیا ۔ جانور ہوتے ہیں سرکس میں جانور، آدمی نہیں ۔ اپنے موقف کے مطابق اگر وہ یہ کہتے کہ بھولے بھالے سادہ لوح نوجوانوں کو استعمال کیا گیا تو یہ قابلِ فہم ہوتا۔ یہ الگ کہ کچّے ذہنوں کو وہ خود بھی اسی بے دردی سے استعمال کرتے ہیں ۔اپنے فین کلب کو ، الزام کے لیے ، دشنام کے لیے !

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

غلط ہی سہی لیکن سرکس نہیں ، یہ ایک احتجاجی مظاہرہ تھا ۔ سوچ سمجھ کر انہی کی حکومت نے ان لوگوں کو دارالحکومت آنے کی اجازت دی ۔ پھر یہ :ایں گناہ ہیست کہ شہرِ شما نیزمی کنند۔ کیا وہ خود اس کے مرتکب نہ ہوئے تھے ؟اور آج بھی کس فخر و غرور سے ان دنوں کا ذکر کرتے ہیں ۔دراں حالیکہ سرجھکائے ایک دن اسی پارلیمان میں داخل ہوئے تھے ، ڈاکوئوں اور ٹھگوں کا مجمع جسے کہا کرتے ۔

2014ء کا دھرنا کون بھول سکتاہے ؟ نرمی ان سے برتی گئی اور اس نرمی کا پورافائدہ انہوں نے اٹھایا۔ کسی کو معاف نہ کیا، رتّی برابر رعایت بھی کسی کو دی نہیں ۔ شاہد آفریدی اور سراج الحق تک کو معاف نہ کیا۔ شاہد آفریدی ان کے مدّاح تھے ۔ قصور صرف یہ کہ دھرنے کی حمایت کا اعلان نہ کیا؛حالانکہ وہ مجبور تھے اور کوئی بھی ان کی مجبوری کو سمجھ سکتا تھا ۔ سراج الحق وہ تھے، جنہوں نے ضمانت دی تھی کہ عمران خان Imran Khan اور طاہر القادری کا قافلہ زیرو پوائنٹ سے آگے نہیں جائے گا۔ قانون کو روندتے ہوئے، وہ پارلیما ن کے مقابل پہنچے ۔سینیٹر سراج الحق نے مصلحت کو شعار کیا اور کیے رکھا ۔ یہی نہیں مصالحت کی کوشش بھی کی ۔ اس کے باوجوداپنے حلیف کو انہوں نے وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا طعنہ دیا، مذاق اڑایا۔ عدالتِ عظمیٰ کی عمارت کا احترام ملحوظ نہ رکھا۔ ٹیلی ویژن اور ایوانِ وزیرِ اعظم پہ یلغار کی ۔ اپنے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں ۔ دو آدمی جان سے گئے ۔مرنے والوں کو سب بھول گئے اور اس طرح بھولے کہ گویا وہ تھے ہی نہیں۔اس سے پہلے آٹھ آدمی ملتان میں پی ٹی آئی PTI کی جلسہ گاہ میں مارے گئے ۔ بجا کہ جان بوجھ کر نہیں مگر سنگ دلی سے بے احتیاطی ۔

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخیٔ لب خنجر نہ رنگِ نوک سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ صرف خدمت شاہاں کہ خوں بہا دیتے

نہ دیں کی نذر کہ بیعانۂ جزا دیتے

نہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتا

کسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتا

پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

کسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

اللہ کے نام پر یہ ملک وجود میں آیا ہے ۔اللہ سے مسلمانانِ برصغیر کے اس پیمان پر کہ وہ اس کے سچے دین پر چلیں گے ۔ اس دین کی برکت سے اس خطہ ء ارض کو بھر دیں گے ۔ جب سے وجود میں آیا ہے ، ایک دن قرار کا اس نے دیکھا نہیں ۔ ایک آدھ برس ، پھر حکمران ہمیشہ اپوزیشن کے درپے رہے اوراپوزیشن حکومت کے ۔وہ انہیں پامال کرنے پر تلی رہتی ۔ یہ انہیں اکھاڑ پھینکنے پر ۔1970ء کے بعد ایک بھی الیکشن ایسا نہیں ، جو منصفانہ قرار پا سکے ۔ ایک آتا ہے ، ایک جاتا ہے ۔ کوئی چیز مستقل اگر ہے توشورش، ہنگامہ اور فساد ۔

جی نہیں ، پنپنے کا یہ قرینہ نہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ آزادی کے تقاضوں کا ہمیں ادراک ہی نہیں ۔ادراک کی کوشش اور کاوش بھی نہیں ۔ احساس ہی نہیں ۔ اقتدار اور انتقام کے جنون میں مبتلا جتھے ،چنانچہ فساد فی الارض۔کب تک ، اللہ کے بندوکب تک؟

لگ بھگ چار ہزار برس ہوتے ہیں ، اپنی بگڑی ہوئی امّت سے پیغمبرؐنے پوچھا تھا ’’ الیس منکم رجل رشید‘‘ کیا تم میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا آدمی نہیں ؟ کیا اس قوم میں کوئی ایک بھی ہوشمند لیڈر نہیں ؟

 484