مقبوضہ کشمیر: بھارتی Indian محاصرے کے سو روز

کل اور آج - عمار چوہدری

16 نومبر 2019

Kashmir pe  100 roz

تین روز قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی Indian محاصرے کو ایک سو دن مکمل ہو گئے۔ ان سو دنوں میں سات لاکھ سے زائد بھارتی Indian فوج نے کشمیر میں ہر طرح کا جبر اور ہر ہتھکنڈا آزما کر دیکھ لیا۔ اس سے قبل بھی کرفیو کی شکل میں کشمیریوں کی آزمائش کی جاتی رہی ہے‘ لیکن یہ تاریخ کا طویل ترین کرفیو ہے‘ جس میں پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہ تھی۔ ان سو دنوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے جس کے باعث بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو گئے۔ کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں اور دفاتر اور نجی ادارے بند ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ جس کے پاس جو راشن پانی تھا وہ اسی میں گزارہ کرتا رہا۔ جو جہاں تھا وہیں قید ہو گیا۔ کچھ لوگ جو اپنے رشتے داروں سے ملنے ان کے گھر گئے ہوئے تھے‘ وہ ان سو دنوں کے دوران وہیں محدود ہو کر رہ گئے۔ کمیونیکیشن کے ذرائع بھی کاٹ دئیے گئے ہیں حتیٰ کہ وادی میں انٹرنیٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بھارت India کو یہ خوف لاحق ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کہیں مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا آگاہ نہ ہو جائے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ چل جائے تو ماضی کی طرح ایسی ایسی المناک کہانیاں سامنے آ جائیں‘ جن کو سن کر دل دہل جائے اور کلیجہ منہ کو آنے لگے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں گزشتہ ایک سو چار روز سے بھوکے پیاسے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے نہتے کشمیریوں کے عزم و ہمت کی مثال بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں حق خودارادیت حاصل نہیں ہوجاتا، پاکستان Pakistan اپنے کشمیری بھائیوں کی قانونی، اخلاقی اور سفارتی معاونت جاری رکھے گا؛ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ چونکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اس لئے اس انسانی بے بسی اور حقوق کی پامالی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز بھی قابض بھارتی Indian فوج کی فائرنگ سے دو کشمیری شہید ہو گئے اور اڑتالیس گھنٹے میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد چار ہو گئی۔ اس سے قبل بانڈی پورہ میں غاصب فوجیوں کے ہاتھوں دو کشمیری شہید ہوئے تھے۔ یوں دیکھا جائے تو ہٹلر مودی کے درندہ صفت فوجیوں نے مقبوضہ وادی میں دہشتگردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جنت نظیر وادی میں نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔ مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث کشمیریوں کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔ اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی تالے پڑے ہیں؛ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سخت ترین مظالم کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جتنا ظلم بڑھ رہا ہے اتنا ہی جذبہ حریت پروان چڑھ رہا ہے۔

بھارت India اگر جارحیت کرے تو پاکستان Pakistan کے پاس اس کا بھرپور جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پاکستان Pakistan کبھی بھی جنگ میں پہل نہیں کرے گا‘ لیکن اپنے عوام اور فوجی جوانوں کی جانوں کو بھارت India کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پاکستان Pakistan مسلسل تحمل کا مظاہرہ کرتا آیا ہے؛ تاہم جب جواب دینے کی ضرورت پڑی تو پاکستان Pakistan کی جانب سے بھرپور کارروائی کی گئی۔ بھارت India میں مٹھی بھر اقلیت جنگی جنون کو بھڑکا رہی ہے‘ حالانکہ کسی ملک کی معیشت بھی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی Indian فوجی موجود ہیں‘ لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی وطن کے لئے مرنے اور کٹنے کا جذبہ نہیں پایا جاتا۔ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے الیکشن جنگی جنون کے بل پر جیتا تھا اور اب خطے کا امن بھی دائو پر لگا دیا ہے۔ انہیں کب علم ہو گا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کو جتنا دبائیں گے وہ اتنی ہی قوت سے ردعمل دیں گے۔ کوئی بھی انسان اپنے سامنے اپنے بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتے برداشت نہیں کر سکتا۔ کشمیری بھی نہیں کریں گے۔

اس وقت فلسطین کی طرح کشمیر بھی بیرونی جارحیت کے نرغے میں ہے۔ دیکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر دنیا میں سب سے بڑا فوجی علاقہ بن چکا ہے؛ تاہم بھارت India اپنی ظالمانہ حرکات سے کشمیریوں کی آزادی کیلئے آواز کو ہمیشہ دبا نہیں سکتا۔ آر ایس ایس RSS کے پیروکار اور بھارتی Indian حکومت‘ دونوں کشمیریوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کر رہے ہیں۔ ایک لاکھ 80 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی خدشات کا باعث ہے۔ غیرقانونی حراست، خواتین سے زیادتی اور پیلٹ گنز کے بے گناہ لوگوں کیخلاف ہتھیاروں کے طور پر استعمال سے کشمیریوں کے انسانی حقوق کو روندا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اور پوری دنیا کے حقوق کے علمبردار ممالک کشمیریوں کی نسل کشی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ بھارت India کی ایسی مذموم کارروائیاں علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرے کا باعث ہوںگی۔

مودی کے آنے کے بعد کشمیر کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوا ہے۔ بھارت India کو اپنی عددی حیثیت پر ناز ہے۔ وہ سمجھتا ہے‘ وہ پاکستان Pakistan سے دو تین گنا زیادہ فوج رکھتا ہے؛ چنانچہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسے پاک فوج Pakistan Army کا اندازہ ہی نہیں۔ اس سال فروری میں اس کے دو طیارے گرا کر پاکستانی فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جنگیں ہتھیاروں سے زیادہ جذبوں سے لڑی جاتی ہیں‘ وگرنہ امریکہ United States اور روس Russia کبھی افغانستان Afghanistan میں شکست نہ کھاتے۔ کون سا ایسا بم‘ ہتھیار اور جنگی طیارہ تھا جسے امریکہ United States نے افغانستان Afghanistan میں آزما نہیں لیا۔ ایک عشرے تک بے گناہ عوام کو ہلاک کرنے کے بعد آج امریکہ United States مذاکرات کی بات کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ اگلے دس برس بھی یہ جنگ مکمل طور پر نہیں جیت سکتا۔ جنگیں مسئلوں کا آخری حل ہوتی ہیں‘ اس کے بعد بھی اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے۔

بھارت India سمجھتا ہے کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کو کبھی نہ کبھی دبا لے گا۔ ان کے حقوق معطل کرکے انہیں اپنی شرائط پر جھکانے پر مجبور کر دے گا؛ تاہم یہ بھارت India کی بھول ہے۔ وہ مسلمان کے جذبہ حریت کی روح کو نہیں سمجھتا۔ بھارتی Indian فوج کی اپنی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارتی Indian فوجی کشمیر میں ڈیوٹی کرنے کے دوران نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ کئی فوجی خودکشی بھی کر چکے ہیں۔ بھارتی Indian فوجیوں کی اپنی حالت انتہائی پتلی ہے۔ نہ انہیں اچھی خوراک میسر ہے نہ ہی ان کا اسلحہ کسی قابل ہے۔ زنگ لگی بندوقوں کے ساتھ فوجیوں کو سخت ترین ڈیوٹی کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ ان دگرگوں حالات کے ساتھ بھارت India نہ ہی کشمیریوں کو دبا سکتا ہے اور نہ ہی پوری دنیا کی آنکھوں میں زیادہ دیر تک دھول جھونک سکتا ہے۔ بھارت India نے نہ صرف عالمی قوانین بلکہ شملہ معاہدے کی روح کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ پاکستان Pakistan کی بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ اس مسئلے پر بھارت India کی جانب سے روکنے کی کوشش کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غور کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت India کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ اگر کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ علاقائی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام بین الاقوامی فورمز نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت India کے غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اتفاق رائے سے ایک بیان میں اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے کہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے کامیاب دورہ امریکہ United States کی وجہ سے پوری دنیا میں کشمیر کا ایشو پہلی مرتبہ کھل کر اجاگر ہوا‘ جس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی۔ کشمیر کا مسئلہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ لاکھوں انسانی جانیں دائو پر لگی ہیں۔ پاکستان Pakistan اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کو بھی اس مسئلے کے حل کے لئے آگے آنا ہو گا۔ ورنہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان تلخی بڑھے گی اور اگر ان دو ممالک کے درمیان جنگ چھڑی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

 83