ایک دھچکا اور

طلوع - ارشاد احمد عارف

15 نومبر 2019

ایک دھچکا اور

مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنا کی ناکامی نوشتہ دیوار تھی، جسے ذہانت، چالاکی اور موقع شناسی کی شہرت رکھنے والے جمعیت علماء اسلام کے لیڈر پڑھ سکے نہ ان کے خوش فہم ہمنوا، عمران خان Imran Khan اور فوج سے ازلی بغض رکھنے والے دانشوروں، تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہا، قوم کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے علاوہ مولانا کے پیروکاروں کو ندامت سے دوچار کیا۔ مولانا کے اہداف میں سے ایک بہرحال حاصل ہوا، مسئلہ کشمیر Kashmir Issue سے عالمی برادری، قوم اور مقامی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ہٹانے میں کافی حد تک کامیاب رہے، مجھے مولانا کی حب الوطنی پر شک نہیں مگر بسا اوقات انسان اخلاص کے ساتھ استعمال ہوتا اور کبھی سمجھ نہیں پاتا۔

مولانا کے سوا سیاسی اور ریاستی معاملات کی معمولی شدبد رکھنے والے ہر شخص کو علم تھا کہ وزیر اعظم Prime Minister کسی ہجوم کی دارالحکومت پر چڑھائی اور جذباتی تقریروں سے مرعوب ہو کر استعفیٰ دیں گے نہ کوئی ریاستی ادارہ انہیں مجبور کر سکتا ہے، پاکستان Pakistan تیونس، لبنان اور رومانیہ کبھی تھا نہ انشاء اللہ ہو گا، شام جیسے ملک میں امریکہ United States کی پشت پناہی کے باوجود بشارالاسد کو احتجاجی تحریک سے ہٹانا ممکن نہیں تو نیوکلیئر پاکستان Pakistan میں سہل کیونکر ‘اسٹیبلشمنٹ اور حکومت یا زیادہ درست الفاظ میں عمران خان Imran Khan اور فوج کے مابین شکر رنجی کی کہانی جن نابغوں نے گھڑی اور مولانا کو قائل کر لیا ان کی گوشمالی مولانا اور حکومت دونوں کریں تا کہ آئندہ وہ کسی دوسرے سیاسی یا مذہبی گروہ کو گمراہ نہ کر سکیں۔ یہ اس قدر کمزور بلکہ لغو کہانی تھی جس پر کوئی احمق ہی اعتبار کر سکتا تھا۔ مگر مولانا جیسے زیرک سیاستدان نے کیااور خطا کھائی‘ مولانا نے تیرھویں روز کچھ منوائے بغیر یکطرفہ طور پر دھرنا ختم کر کے یہ ثابت کیا کہ عمران خان Imran Khan تو کیا وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے برابر ذہانت‘خود اعتمادی‘ استقامت اور اثرورسوخ کے حامل بھی نہیں۔ عمران خان Imran Khan نے 126روز دھرنا جاری رکھا اور اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمشن منوا کر دم لیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری پہلی بار زرداری حکومت سے انتخابی اصلاحات کا تحریری معاہدہ لے کر واپس آئے‘ دوسری دفعہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر درج کرانے میں کامیاب رہے‘ جو آج تک شریف خاندان کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہے‘ جبکہ مولانا دینی مدارس کے طلبہ‘ اساتذہ اور مذہبی کارکنوں کا‘ بڑا ہجوم لے کر آئے‘ پوری اپوزیشن کی زبانی اور اخلاقی تائید و حمائت حاصل تھی اور میڈیا کا ایک حصہ کمک کے لئے موجود‘ اس کے باوجود بے نیل و مرام واپس لوٹے۔ دور اندیشی‘پرجوش عوامی تائید و حمایت اور اخلاقی جواز سے محروم تحریکوں اور اجتماع کا یہی حشر ہوتا ہے‘ مولانا اور ان کے ساتھی قومی‘ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کا ادراک کر سکے نہ ایسی احتجاجی تحریکوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے عناصر کے موڈ کا درست اندازہ اور نہ کامرانی اور ناکامی کے امکانات کا حساب کتاب‘ کشمیر کے ایشو کی حساسیت کو انہوں نے نظر انداز کیا اور اس اسٹیبلشمنٹ سے غیر معمولی امیدیں وابستہ کر لیں جسے بظاہر سیاسی معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کا نعرہ لگا کر وہ میدان میں کودے‘اور پاکستانی ریاست کے اہم اداروں سے دشمنوں کی طرح نفرت کرنے والے افرادنے ان کی بلائیں لیں۔

آزادی مارچ ابھی راستے میں تھا کہ لیاقت پور کے قریب تیز گام میں آتشزدگی کا سانحہ رونما ہوا‘ بدقسمتی سے اس میں تبلیغی جماعت کے درجنوں ارکان لقمہ اجل بنے‘ مولانا چاہتے تو اس سانحہ کو باعزت واپسی کا موزوں موقع تصور کرتے‘ اسلام آباد Islamabad پہنچ کر ایک پرجوش جذباتی تقریر فرماتے اور کارکنوں کو واپسی کا حکم دے کر خود ان خاندانوں سے تعزیت کرنے پہنچ جاتے ‘جن کے پیارے المناک حادثے کا شکار ہوئے۔ عمران خان Imran Khan نے سانحہ اے پی ایس کو غنیمت جانا اور دھرنا ختم کر دیا۔ مولانا مگر ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے اور عمران خان Imran Khan کے خلاف جذبات سے مغلوب ‘ ایک غلطی بلکہ سنگین غلطی یہ کی کہ پہلے ہی روز مجمع دیکھ کر بے قابو ہو گئے اور وزیر اعظم Prime Minister کو دو دن کے اندر استعفیٰ کا الٹی میٹم دیدیا۔ یہ اپنے آپ کو بند گلی میں داخل کرنے کے مترادف فیصلہ تھا۔ الٹی میٹم دینے کے بعد وہ انتظار کرتے رہے کہ مذاکراتی ٹیم عمران خان Imran Khan کا استعفیٰ نہ سہی کوئی دوسری پیشکش لئے کنٹینر یا ان کی اسلام آباد Islamabad میں قیام گاہ کا رخ کرے گی۔ مگر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے عقلمندی کا ثبوت دیا جب تک الٹی میٹم کی مدت ختم نہ ہوئی مذاکرات کے لئے نہ پہنچی۔ الٹی میٹم کی مدت گزر جانے کے بعد مولانا کی کمزوری واضح ہو گئی اور سب کو پتہ چل گیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں‘ اگر مولانا کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے تو اتوار کی شب کر گزرتے‘ مزید انتظار نہ کرتے‘ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کمک ملنے کا امکان مفقود تھا۔ دونوں جماعتیں اگر مولانا سے متفق اور فیصلہ کن احتجاج پر تیار ہوتیں تو کراچی‘ سکھر میں پیپلز پارٹی اور لاہور میں مسلم لیگ(ن) کی طرف سے مولانا کا استقبال مایوس کن نہ ہوتا۔ دونوں اتحادیوں کے برعکس حکومت کے اتحادی چودھری برادران نے انہیں اخلاقی سہارا دیا فیس سیونگ کی کوشش کی مگر مولانا خاطر میں نہ لائے اور بہترین مواقع گنوا دیا ورنہ انتخابی کمشن کی تجویز بُری نہ تھی۔

سڑکیں بند کرنے کا اعلان محض کارکنوں کی اشک شوئی ہے۔ ریاست کے جن اداروں نے اسلام آبادمیں ان کی دال نہیں گلنے دی وہ ایسی شاہراہوں کو بند کیوں اور کیسے کرنے دیں گے جو معاشی شاہرگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شاہراہ قراقرم ‘ شاہراہ طورخم اور شاہراہ چمن ۔آزادی مارچ اور دھرنا میں اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سبق پوشیدہ ہے۔ سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے سبق نہ سیکھنے کے باعث اپوزیشن کو ایک دھچکا اور لگامزید خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ندامت اور رسوائی کا لفظ میں جان بوجھ کر استعمال نہیں کرتا‘اپوزیشن بالخصوص مولانا فضل الرحمن کو یہ حقیقت اب تسلیم کرنی چاہیے کہ قومی ادارے ایک صفحے پر ہیں وہ موجودہ حکومت اور عمران خان Imran Khan کو اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں قومی خدمت اور ملکی ترقی کے لئے آزمانے کا بھر پورموقع دینا چاہتے ہیں آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی مسلم لیگ کی حکومتیں اگر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود اپنی مدت مکمل کرنے میں کامیاب رہیں تو تحریک انصاف کی حکومت کیوں نہیں جس کا اب تک مالی کرپشن کا کوئی بڑا سکینڈل سامنے آیا نہ خارجہ امور میں کوئی بلنڈر ہوا اور نہ سیاسی حوالے سے اس نے کمزوری دکھائی‘ آزادی مارچ کو جس دانشمندی‘ جمہوری انداز اور حکمت سے موجودہ حکومت نے ڈیل کیا‘ کہیں رختہ ڈالا‘ نہ گرفتاریوں اور لاٹھی گولی کا سہارا لیا‘ یہ پاکستانی تاریخ میں غالباً دوسرا واقعہ ہے پہلا واقعہ جونیجو دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور پھر خزاں کے موسم سے موسوم احتجاجی تحریک کے موقع پر رونما ہوا تھا۔ اسلام آباد Islamabad پر قبضے کے علمبردار ہجوم کو فری ہینڈ دینے اور پھر ناروا مطالبات کو مسترد کر کے مذاکرات سے انکار کا حوصلہ ایک ایسی حکومت دکھا سکتی ہے جو پرعزم و پراعتماد ہو اور مخالفین سے سیاسی و جمہوری انداز میں نمٹنے کی اہلیت و صلاحیت سے بہرہ ور۔ دھرنے کی ناکامی سے حکومت کی کمزوری کا تاثر تحلیل ہوا جبکہ اپوزیشن کی ناچاکی ‘ نااہلی نارسائی اور عوام میں عدم مقبولیت نمایاں رہی۔ تحریک انصاف اور حکومت کے لئے سبق یہ ہے کہ ایک تو وہ اپنے کارکنوں اور عوام کے مسائل و مشکلات پر توجہ دے اور دوسرے وہ بسم اللہ کے گبند میں بند اس خوش فہمی کا شکار نہ رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے سبب وہ محفوظ ہے اور اسے کوئی چیلنج درپیش نہیں۔

اگر اس نے مہنگائی بے روزگاری‘ بدامنی پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے اور مختلف مافیاز کی جلد ازجلد سرکوبی میں کمزوری دکھائی تو اپوزیشن کا اگلہ حملہ زیادہ سنگین اور خطرناک ہو گا جس کا مقابلہ صرف عوامی تائید و حمائت سے ہو پائے گا کوئی دوسرا کمک فراہم نہیں کرے گا۔

 222