پھر نہ کہنا تبدیلی نہیں آئی!

اعمال نامہ - ارشاد بھٹی

14 نومبر 2019

پھر نہ کہنا تبدیلی نہیں آئی!

پُرانی تے اصلی تحریک انصاف کا جاگنا تھا یا دو نہیں ایک پاکستان Pakistan والوں کے ضمیروں کا جاگنا، کسی کو این آر او نہیں دوں گا، نو ڈیل، ڈھیل، مک مکا کے بیانیے کو زندہ رکھنے کی آرزو تھی یا سیاسی طور پر لَت (ٹانگ) اوپر رکھنے کی خواہش، سلمان شہباز کے اپنے والدکی تصویر اور ’گیم چینجر‘ والے ٹویٹ نے صورتحال خراب کی یا قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی اُس تقریر نے ماحول بگاڑا جس میں وہ حکومت پر کچھ یوں گرجے، برسے ’’جو کچھ ہمیں پتا وہ تمہیں پتا نہیں، تم پر عنقریب چھت گرنے والی، ہم جب چاہیں گے انتخابات ہوجائیں گے‘‘۔ ٹونٹی ٹونٹی کھیلتے اس میڈیا کا خوف تھا جو ہلکی ڈھولکی پر یوں باریک بے عزتی فرما رہا تھا کہ ’’عمران خان Imran Khan آپ نے تو جیل سے اے سی اتروانا تھا، آپ کہاں ای سی ایل سے نام نکلوانے چل پڑے‘‘ یا پھراپنے ووٹرز، سپورٹرز کی ناراضی کا ڈر تھا، وہ ووٹرز، سپورٹرز جو یہ یقین کئے بیٹھے کہ کپتان چوروں، ڈاکوؤں، گاڈ فادروں کیخلاف ڈٹا ہوا، کسی کو این آر او نہیں دے رہا، کوئی ایک وجہ تھی یا یہ سب وجوہات، دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال بدلی اور ایسی بدلی کہ نواز شریف Nawaz Sharif جارہے، جہاز تیار کھڑا، ٹکٹیں بک ہو گئیں، نواز شریف Nawaz Sharif کو سفر کرنے کیلئے اسٹرائیڈ دیدیئے گئے اور پھر ای سی ایل معاملہ نیب، وزارت داخلہ میں لٹکنا، پھر ای سی ایل ذیلی کمیٹی میں پھنسنا اور پھر سیکورٹی بانڈ، گارنٹی، جو کچھ ہوا، ہو رہا، وہ آپ کے سامنے، میرا یہ ماننا یہ وقتی delay، بالآخر نواز شریف Nawaz Sharif نے لندن چلے ہی جانا کیونکہ یہ بااختیار، طاقتور کا ملک۔

ویسے حالات کتنی جلدی بدل جاتے ہیں، کل پرویز مشرف پر غداری کیس، وہ راولپنڈی اسپتال میں لیٹے ہوئے، ان کا نام ای سی ایل پر، باتیں ہورہی تھیں کہ پرویز مشرف کی طبیعت خراب، انہیں علاج کیلئے باہر جانا، تب لیگی شعلہ بیانیاں عروج پر، مریم نواز Maryam Nawaz نے یوں طعنہ مارا ’’ہم وہ نہیں کہ کمر درد کا بہانہ بنا کر عدالت آتے ہوئے گاڑی اسپتال کی طرف موڑ لیں‘‘۔ سعد رفیق بولے ’’پرویز مشرف بھگوڑا، ڈرامے کر رہا، اگر اس کی بات مان لی جائے کہ انجیو گرافی کیلئے باہر جانا تو بتائیں پاکستان Pakistan کی جیلوں میں جتنے لوگ دل کے مریض، کیا ان سب کو باہر بھجوا دیا جائے، یہ پرویز مشرف انوکھا لاڈلا نہیں‘‘، پرویز رشید نے کہا ’’پاکستان Pakistan کے قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ ملزم علاج کیلئے باہر چلا جائے، کیا یہاں اسپتال اور ڈاکٹر نہیں ہیں‘‘، احسن اقبال نے فرمایا ’’جنرل مشرف کی ٹیم اور ان کے وکلا ملک میں بحران پیدا کرنا چاہ رہے، یہ سازشی، پاکستان Pakistan اس طرح کی سازشوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر پرویز مشرف عدالتوں کا سامنا کئے بنا ملک سے چلے گئے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا‘‘، خواجہ آصف کہنے لگے ’’پرویز مشرف چھپا بیٹھا، ترلے، منتیں کررہا مینوں باہر جان دیو‘‘ پھر وہ دن بھی آیا کہ جب ان سب جانبازوں کے ہوتے ہوئے انہی کی حکومت نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا اور وہ علاج کے بہانے دبئی جا پہنچے، جہاں چند دن بعد وہ ایک تقریب میں ’میں شکر ونڈاں رے‘ پر ڈانس کرتے پائے گئے، ہاں آج کل وہ واقعی بیمار، چلنا پھرنا مشکل، اللہ انہیں بھی صحت دے۔

یہ تو وہ لیگی تھے جو کل ملزم پرویز مشرف کے باہر جاکر علاج کرانے کی مخالفتیں اور آج مجرم نواز شریف Nawaz Sharif کے باہر جا کر علاج کرانے کی حمایتیں فرمارہے، اب ملاحظہ ہو، حکومتی ظاہرو باطن کا ایک ٹریلر، چند دن پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں وہ وزیر صاحب جو انسانی وطبی بنیادوں پر میاں صاحب کو باہر بھجوانے کے حق میں، پروگرام کے وقفے میں کہنے لگے ’’یہ کیسا مریض ہے جو ہر بار تشویش ناک حالت میں اسپتال سے گھر منتقل ہو جاتا ہے‘‘۔ میں نے بات سنی اَن سنی کردی تو میرے کان کے قریب منہ لاکر زیر لب مسکراتے ہوئے وزیر بولے ’’ویسے اس پر بات ہونی چاہئے کہ ’میں مرجاؤں گا لیکن باہر نہیں جاؤں گا ‘سے لیکر ’میں باہر نہیں جاؤں گا تو مرجاؤں گا‘ کا سفر طے کرنے والے نواز شریف Nawaz Sharif کے حمایتی لندن جا کر یہ کہیں گے کہ اگر میاں صاحب کو لندن میں کچھ ہوا تو کیا اس کا ذمہ دار برطانیہ کا وزیراعظم بورس جانسن ہوگا‘‘، میں نے کہا بھائی جان آپ یہ سب آن ایئر کہہ دیں، کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا ’’توبہ کرو، سب میرے پیچھے پڑ جائیں گے‘‘، یہ کہہ کر اس نے سامنے میز پر پڑا اپنا موبائل فون اٹھایا اور نقلی نقلی مصروف ہوگیا۔

ایک طرف نواز شریف Nawaz Sharif بیماری، دوسری طرف مولانا کا شو جاری، آزادی مارچ، دھرنے، پلان اے کے بعد بات پلان بی تک پہنچی ہوئی، کشمیر بیچ دیا گیا، اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا، یہودی، قادیانی ایجنٹ، اسلام، ناموسِ رسالت خطرے میں، مولانا یہ سب جھوٹ بول چکے، میں 14اگست نہیں مناؤں گا، ہم وزیراعظم کو گرفتار کر سکتے ہیں، دنیا عمران خان Imran Khan سے معاہدے نہ کرے، عمران خان Imran Khan کے آرڈر نہ مانے جائیں، پاکستان Pakistan کو فارغ کرو، مولانا یہ سب فرما چکے، مولانا فرسٹریشن، ڈپریشن کا شکار، خود مان چکے میں بند گلی میں، دیوار سے لگ چکا، پلان بی، لاک ڈاؤن، یہ تو کسی صورت قبول نہیں، صورتحال کیا بنتی ہے، وہ بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن اسی رولے رپّے میں کرتارپور راہداری کا افتتاح ہوگیا، ویسے 9نومبر کیا تاریخ ساز دن تھا، اقبال ڈے، کرتارپور راہداری افتتاح اور بھارتی Indian سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا فیصلہ، 9نومبر کو بھارت India ہارا، پاکستان Pakistan جیت گیا، ویسے کرتارپور معاملے پر مولانا نے کیا کمال سیاست فرمائی، بولے، قائد کے پاکستان Pakistan پر یہ وقت، اقبال ڈے پر کرتارپور راہداری کا افتتاح ہورہا، مولانا جی کے منہ سے علامہ اقبال، قائداعظم کا نام، شکرالحمدللہ مولانا جی کو بھی بالآخر قائداعظم، علامہ اقبال کی اہمیت کا احساس ہوا۔

یہ دکھ اپنی جگہ کہ مولانا شو، نواز شریف Nawaz Sharif بیماری کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر سمیت سب جینوئن ایشوز نظروں سے اوجھل ہوئے، باقی چھوڑیں، مہنگائی، بیروزگاری، معیشت گورننس مطلب حکومتی کارکردگی سے فوکس ہٹا، عام حالات ہوتے تو وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا یہ تاریخی فرمان گھر گھر کی کہانی ہوتی کہ ’’ٹماٹر 250روپے فی کلو نہیں 17روپے کلو‘‘، اندازہ کریں یہ وزیرخزانہ فرما رہے بلکہ زخموں پر نمک چھڑک رہے، ہمارے بھی کیا نصیب، ایک طرف مولانا شو، نواز بیماری، دوسری طرف یہ فن کار اور یہ فنکاری، ایسے ہی جیسے آگے کنواں، پیچھے کھائی، پھر نہ کہنا تبدیلی نہیں آئی۔

 176